اربوں روپے کی فنڈنگ کے باوجود KPKمیں دہشتگردی میں مسلسل اضافہ کیوں؟

خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف جنگ ایک بار پھر ایک بنیادی سوال کے سامنے کھڑی ہے: اگر گزشتہ سولہ برس کے دوران صوبے کو دہشتگردی کے نقصانات کے ازالے کے لیے تقریباً 800 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں، پولیس کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور رواں مالی سال بھی دہشتگردی سے متعلق مد میں اربوں روپے مختص ہیں، تو پھر صوبے میں دہشتگردی کا چیلنج مسلسل سنگین کیوں ہوتا جا رہا ہے؟ مسئلہ وسائل کی کمی کا ہے، وسائل کے استعمال کا، انتظامی کمزوریوں کا یا پھر اس پورے نظام میں کہیں ایسی بنیادی خامی موجود ہے جس کے باعث بھاری مالی وسائل مطلوبہ نتائج میں تبدیل نہیں ہو پا رہے؟
ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت یکم جولائی 2010 سے خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے متاثرہ صوبہ ہونے کی بنیاد پر قابل تقسیم وفاقی ٹیکسوں کے پول سے ایک فیصد اضافی حصہ دیا جانے لگا۔ اس رقم کا مقصد دہشتگردی کے باعث صوبے کو پہنچنے والے انفراسٹرکچر، تجارت، معیشت اور دیگر نقصانات کے ازالے میں مدد فراہم کرنا تھا۔ دستیاب سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2010-11 سے ستمبر 2026 تک خیبرپختونخوا کو اس مد میں مجموعی طور پر 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ یہ رقم اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دہشتگردی کے مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبے کو طویل عرصے سے غیر معمولی مالی معاونت حاصل رہی ہے۔
سال بہ سال اس رقم میں مجموعی طور پر اضافہ ہی دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی برسوں میں جہاں یہ رقم چند درجن ارب روپے تھی، وہیں بعد کے سالوں میں یہ سو ارب روپے سے بھی تجاوز کر گئی۔ مالی سال 2024-25 میں خیبرپختونخوا کو اس مد میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے موصول ہوئے، جبکہ 2025-26 میں 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے جاری کیے گئے۔ رواں مالی سال 2026-27 کے لیے تقریباً 149 ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، اگرچہ ستمبر تک تقریباً 23 ارب روپے جاری ہو چکے ہیں۔ یوں دہشتگردی کے خلاف مالی معاونت کا حجم وقت کے ساتھ بڑھتا رہا ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی زیادہ اہم ہوتا گیا ہے کہ ان وسائل کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں کتنی بہتری آئی۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے کہ ان تمام اربوں روپے کو براہ راست انسدادِ دہشتگردی کا بجٹ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ یہ رقم دہشتگردی کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے صوبے کو ملنے والے اضافی وسائل ہیں جو صوبائی مالیاتی نظام کا حصہ بنتے ہیں۔ خیبرپختونخوا کے محکمہ خزانہ کے مطابق اس رقم کا حجم وفاقی ٹیکس وصولیوں اور ایف بی آر کے اہداف سے بھی منسلک ہے۔ اس لیے رقم کی فراہمی کو براہ راست پولیس آپریشنز یا دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں پر خرچ ہونے والی رقم سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تاہم اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس خطیر مالی معاونت کا عملی فائدہ صوبے کے عوام کو کس حد تک پہنچا۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ رقم صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں شامل ہوتی ہے اور اس کے استعمال کے لیے ایسا الگ اور واضح مالیاتی کھاتہ موجود نہیں جس سے عام شہری باآسانی معلوم کر سکے کہ دہشتگردی سے متعلق موصول ہونے والے وسائل کا کتنا حصہ پولیس، انفراسٹرکچر کی بحالی، متاثرہ خاندانوں، سکیورٹی آلات، تربیت، انٹیلی جنس نظام یا دیگر شعبوں پر خرچ ہوا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شفافیت، آڈٹ اور پارلیمانی نگرانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
دوسری طرف صوبائی حکومت یہ مؤقف رکھتی ہے کہ پولیس کے وسائل میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔ رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 191 ارب 40 کروڑ روپے تک پہنچایا گیا ہے، جبکہ پولیس کے آپریشنل بجٹ میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ پولیس میں نئی آسامیوں کی تخلیق کے بعد منظور شدہ آسامیوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 39 ہزار 318 تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے شعبے کے لیے مالی وسائل میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
لیکن دہشتگردی محض بجٹ کا مسئلہ نہیں۔ اگر مالی وسائل بڑھنے کے باوجود دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو پھر اس کے اسباب کو صرف فنڈز کی کمی سے جوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ انٹیلی جنس کی کارکردگی، دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی، سرحدی علاقوں کی نگرانی، پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ، مقدمات کی مؤثر پیروی اور وفاق و صوبے کے درمیان تعاون جیسے عوامل بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔
خیبرپختونخوا کو درپیش چیلنج اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ دہشتگردی کا اثر صرف سکیورٹی تک محدود نہیں رہتا۔ دہشتگرد حملوں کے نتیجے میں سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پل، بازار، کاروباری سرگرمیاں اور تعلیمی ادارے متاثر ہوتے ہیں، جبکہ خوف کی فضا سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ اس لیے دہشتگردی کے خلاف مختص یا دستیاب وسائل کا مقصد صرف فوری سکیورٹی کارروائیاں نہیں بلکہ ریاستی اداروں اور شہری زندگی کی مجموعی بحالی بھی ہونا چاہیے۔
اب بنیادی ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبے کو ملنے والے اربوں روپے کو محض ایک مجموعی رقم کے طور پر دیکھنے کے بجائے ان کے استعمال اور نتائج کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ ہر سال یہ واضح ہونا چاہیے کہ کتنی رقم موصول ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، کون سے منصوبے مکمل ہوئے، سکیورٹی کی صلاحیت میں کیا اضافہ ہوا اور دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام میں اس سرمایہ کاری کے کیا نتائج سامنے آئے۔ اگر رقم خرچ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو پھر صرف مزید فنڈز کا مطالبہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا میں گزشتہ سولہ برس کے دوران تقریباً 800 ارب روپے کی مالی معاونت اور مسلسل بڑھتے ہوئے پولیس بجٹ کے بعد آج اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کو وسائل مل رہے ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ دستیاب وسائل کو مؤثر حکمت عملی، مضبوط انتظامی نظام اور قابلِ پیمائش نتائج میں کس حد تک تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ دہشتگردی کے خلاف کامیابی کا پیمانہ صرف مختص ہونے والی رقم نہیں بلکہ محفوظ شہری، مضبوط ادارے، بحال معیشت اور دہشتگردی کے واقعات میں پائیدار کمی ہونی چاہیے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر اربوں روپے کی فنڈنگ اور اس کے استعمال دونوں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔
