پاکستان میں عالمی برانڈز کے گلاسز پر پابندی کا مطالبہ کیوں؟

ٹیکنالوجی جس تیزی سے انسانی زندگی کا حصہ بن رہی ہے، اسی رفتار سے نجی زندگی، رضامندی اور شہری آزادیوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔ پاکستان میں کیمرے اور مصنوعی ذہانت سے لیس سمارٹ چشموں کے استعمال کے خلاف لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جانا اسی بڑھتے ہوئے چیلنج کی ایک اہم مثال ہے۔ میٹا اور رے بین کے اشتراک سے تیار کیے گئے سمارٹ گلاسز بظاہر ایک جدید سہولت ہیں، جن کے ذریعے تصاویر اور ویڈیوز بنانے، کال کرنے اور مصنوعی ذہانت استعمال کرنے جیسی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں، لیکن ان کے چھپے ہوئے کیمرے اور مائیکروفون ایسے حالات بھی پیدا کر سکتے ہیں جہاں کسی شخص کو علم ہی نہ ہو کہ اس کی تصویر، آواز یا ویڈیو ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ میں ایک شہری کی جانب سے دائر درخواست میں کیمرے والے چشموں، جن میں میٹا گلاسز بھی شامل ہیں، کے استعمال اور فروخت پر پابندی کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست میں وزارت داخلہ، وزارت تجارت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، کسٹمز اور نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی سمیت متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایسے چشموں کے ذریعے ہونے والی مبینہ خفیہ ریکارڈنگ شہریوں کی نجی زندگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے معاملے کو حساس قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا ہے اور مزید سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی کر دی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ان چشموں میں کیمرے کے ساتھ مائیکروفون بھی موجود ہوتے ہیں اور یہ بلوٹوتھ اور وائی فائی کے ذریعے موبائل فون سے منسلک ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صارف اپنی نظر کے سامنے موجود منظر کو ریکارڈ کرنے کے ساتھ اسے سوشل میڈیا پر منتقل یا براہ راست نشر بھی کر سکتا ہے۔ وکیل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں یہ چشمے مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے تک میں دستیاب ہیں اور کم عمر افراد بھی انہیں استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ان قیمتوں اور استعمال سے متعلق یہ اعداد و شمار درخواست گزار کے وکیل کے بیان پر مبنی ہیں۔
اس معاملے میں سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص عام کیمرے یا موبائل فون کے بجائے ایسا کیمرہ استعمال کرے جو بظاہر عام چشمے کا حصہ نظر آتا ہو تو ریکارڈ ہونے والے فرد کو کیسے معلوم ہوگا کہ اس کی تصویر یا ویڈیو بنائی جا رہی ہے۔ میٹا کے مطابق ریکارڈنگ کے دوران چشمے پر ایک روشنی ظاہر ہوتی ہے جس کا مقصد سامنے موجود افراد کو آگاہ کرنا ہے، جبکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ ریکارڈنگ کے نظام میں چھیڑ چھاڑ کی صورت میں کیمرے کو غیر فعال کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل کا مؤقف ہے کہ پاکستان جیسے معاشرے میں، خصوصاً دن کے وقت، یہ روشنی ہر شخص کے لیے واضح طور پر نظر آنا مشکل ہو سکتا ہے۔
یہی نکتہ اس پوری بحث کو محض ایک نئی ٹیکنالوجی کے استعمال سے آگے لے جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسے ریکارڈ کیا جا رہا ہے تو رضامندی کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک اور اداروں میں بھی سمارٹ گلاسز کے استعمال کے حوالے سے بحث جاری ہے۔ برطانیہ میں بعض کاروباری اداروں نے اپنی عمارتوں میں ان چشموں کے ذریعے ویڈیو بنانے پر پابندی لگائی ہے، جبکہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بعض حلقوں نے ان کے ممکنہ غلط استعمال اور ہراسانی کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اسی طرح بعض دیگر ممالک میں بھی ڈیٹا تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
تاہم اس ٹیکنالوجی کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ سمارٹ گلاسز کو صرف خفیہ ریکارڈنگ کے آلے کے طور پر دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ دنیا میں بعض مواد تخلیق کرنے والے افراد انہیں عوامی مقامات پر ویڈیوز بنانے، لوگوں سے گفتگو ریکارڈ کرنے اور ہاتھ استعمال کیے بغیر مواد تخلیق کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک مواد تخلیق کار کے مطابق وہ لوگوں کے ساتھ گفتگو کے بعد، جہاں ممکن ہو، انہیں بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ویڈیو ریکارڈ ہوئی ہے اور اگر کوئی شخص ویڈیو شائع نہ کرنے کی خواہش ظاہر کرے تو اسے شائع نہیں کیا جاتا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ٹیکنالوجی کا وجود نہیں بلکہ اس کے استعمال کا طریقہ، مقصد اور رضامندی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہی ٹیکنالوجی ایسے مقاصد کے لیے استعمال ہو جن میں متاثرہ شخص کو اپنی ریکارڈنگ کا علم نہ ہو یا وہ اسے روکنے کا موقع حاصل نہ کر سکے۔ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایسے چشمے ہراسانی، غیر رضامندانہ ریکارڈنگ اور بعض پہلے سے غیرقانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ بعض مقامات اور تقریبات نے اسی نوعیت کے خدشات کی بنیاد پر سمارٹ گلاسز کے استعمال پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
یہاں پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف یہ نہیں کہ میٹا گلاسز پر پابندی عائد کی جائے یا نہ کی جائے، بلکہ یہ ہے کہ جدید کیمرہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے دور میں شہریوں کی رازداری کے تحفظ کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کافی ہے یا نہیں۔ اگر عدالت اس معاملے میں کسی پابندی یا ضابطے پر غور کرتی ہے تو اسے ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال، شہری آزادیوں، رضامندی، نجی زندگی کے حق اور سکیورٹی کے تقاضوں کے درمیان توازن بھی دیکھنا ہوگا۔
ممکن ہے مستقبل میں صرف مخصوص برانڈ یا ایک خاص قسم کے چشمے کو نشانہ بنانے کے بجائے کیمرے سے لیس تمام پہننے والی ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے واضح اصول وضع کرنے کی ضرورت پڑے۔ عوامی مقامات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، عدالتوں، نجی تقریبات اور حساس سرکاری مقامات کے لیے الگ ضابطے بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ اسی طرح خفیہ ریکارڈنگ، غیر رضامندانہ اشاعت اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے ریکارڈ شدہ مواد کے غلط استعمال کے خلاف واضح قانونی طریقہ کار بھی ضروری ہو سکتا ہے۔
میٹا گلاسز کے معاملے نے دراصل آنے والے دور کا ایک بڑا سوال ہمارے سامنے رکھ دیا ہے: جب کیمرہ موبائل فون کے ہاتھ سے نکل کر عینک، گھڑی یا کسی اور پہننے والی چیز کا حصہ بن جائے تو شہریوں کو اپنی رازداری کے تحفظ کا حق کیسے دیا جائے گا؟ ٹیکنالوجی کو روکنا ہر مسئلے کا لازمی حل نہیں، لیکن ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت یہ معاملہ اسی بڑے سوال کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت اور سمارٹ آلات کے بڑھتے استعمال سے پہلے شہریوں کی رازداری، رضامندی اور سکیورٹی کے لیے واضح اور قابلِ عمل قانونی اصول کس طرح وضع کیے جائیں۔
