اسلام آباد میں SCO اجلاس، انڈیا کی شرکت اتنی اہم کیوں؟

پاکستان اور انڈیا کے درمیان تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں، دونوں ملکوں کے درمیان تقریباً ایک دہائی سے باقاعدہ دوطرفہ مذاکرات بھی نہیں ہوئے، لیکن اس کے باوجود انڈیا کا اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے وفد بھیجنا اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے کہ کثیر ملکی سفارتی پلیٹ فارم بعض اوقات دوطرفہ تنازعات کے باوجود رابطے کے دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ اسلام آباد میں 28 سے 30 ستمبر تک جاری رہنے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے قومی رابطہ کاروں کی کونسل کے اجلاس میں انڈیا سمیت تمام رکن ممالک کے نمائندے شریک ہیں۔ یہ اجلاس اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان نے رواں ماہ 2026-27 کے لیے تنظیم کی صدارت سنبھالی ہے اور اگست 2027 میں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کی میزبانی بھی اسلام آباد کو کرنا ہے۔

پاکستان نے اپنی صدارت کے لیے ’’تصور کو عمل میں بدلنا: رابطہ کاری، جدت اور مشترکہ خوشحالی‘‘ کا موضوع منتخب کیا ہے، جس میں علاقائی رابطہ کاری، اقتصادی تعاون، جدت اور رکن ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو ترجیح دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ موجودہ اجلاس میں تنظیم کی آئندہ سرگرمیوں، باہمی رابطہ کاری، مختلف اجلاسوں اور اہم تقریبات کی تیاری سمیت دیگر انتظامی و تنظیمی امور پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اعتبار سے انڈیا کی شرکت کو محض ایک رسمی سفارتی سرگرمی کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایس سی او کے اندر اس کی مستقل شمولیت کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

انڈیا کی موجودگی اس لیے بھی نمایاں ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران کشیدگی بڑھی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستان اور انڈیا کے درمیان فوجی کشیدگی کے بعد یہ انڈیا کا پاکستان کا پہلا ایسا دورہ ہے۔ اس سے قبل انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر اکتوبر 2024 میں ایس سی او کی کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد آئے تھے۔ رواں سال جولائی میں بھی انڈیا نے اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او کے سرحدی خدمات کے سربراہان کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔

موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تقریباً ایک عشرے سے دوطرفہ مذاکرات کا باقاعدہ سلسلہ موجود نہیں۔ دسمبر 2015 میں اس وقت کی انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے اسلام آباد دورے کے بعد جامع دوطرفہ مذاکرات کا عمل آگے نہ بڑھ سکا اور جنوری 2016 میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد یہ عمل دوبارہ رک گیا۔ انڈیا کی جانب سے یہ موقف سامنے آتا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لیے ایسا ماحول ضروری ہے جس میں دہشت گردی کا مسئلہ موجود نہ ہو۔ اس کے باوجود انڈیا ایس سی او جیسے کثیر ملکی فورمز پر پاکستان کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھنے اور تنظیمی معاملات میں شریک رہنے کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہی فرق ایس سی او کے پلیٹ فارم کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ بین الاقوامی امور کی تجزیہ کار نروپما سبرامنین کے مطابق پاکستان اور انڈیا دونوں ایس سی او کو ایک ایسے کثیر ملکی پلیٹ فارم کے طور پر دیکھتے ہیں جس میں چین اور روس سمیت خطے کی اہم طاقتیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک چین اور روس کے ساتھ وسیع تر شراکت داری کے خواہاں ہیں، جبکہ انڈیا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو بھی مزید وسعت دینے کے لیے ایس سی او کو ایک اہم فورم سمجھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا کی کوشش رہی ہے کہ ایس سی او کے عمل کو متاثر نہ کیا جائے، تاہم اگست 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والا سربراہی اجلاس اس بات کا زیادہ واضح اشارہ دے گا کہ نئی دہلی اس سطح کے رابطے کو کس حد تک آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

اسلام آباد میں موجودہ اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ اگلے سال ہونے والے سربراہی اجلاس کی تیاری کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ اگست 2027 میں ایس سی او کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں تمام رکن ممالک کے رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا، جن میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔ تاہم موجودہ اجلاس میں انڈیا کی شرکت کو اگلے سال مودی کے ممکنہ دورۂ پاکستان کی حتمی علامت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں موجود سیاسی اور سکیورٹی اختلافات کے باعث اس حوالے سے حتمی فیصلہ مستقبل کی سفارتی صورتحال پر منحصر ہوگا۔

اس صورتحال کا ایک اور پہلو جنوبی ایشیا کی علاقائی سفارت کاری سے جڑا ہے۔ تجزیہ کار نروپما سبرامنین نے ایس سی او میں انڈیا کی شرکت کو سارک کے تعطل کے پس منظر میں بھی دیکھا ہے۔ سارک کا سربراہی اجلاس نومبر 2016 میں اسلام آباد میں ہونا تھا، لیکن انڈیا کی شرکت نہ کرنے کے باعث یہ عمل آگے نہ بڑھ سکا اور تنظیم کا سربراہی اجلاس طویل عرصے سے منعقد نہیں ہو سکا۔ اس تناظر میں اگر انڈیا کا وزیر اعظم مستقبل میں اسلام آباد میں ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شرکت کرتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے کے حوالے سے ایک نمایاں واقعہ ہوگا، اگرچہ اسے براہِ راست دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اسلام آباد میں انڈین وفد کی موجودگی نے دونوں ملکوں کے صحافتی اور تجزیاتی حلقوں میں بھی توجہ حاصل کی ہے۔ بعض صحافیوں نے اسے کشیدہ تعلقات کے باوجود رابطے کی ایک محدود گنجائش کے طور پر دیکھا، جبکہ بعض نے مستقبل میں دونوں ملکوں کے درمیان دیگر عملی نوعیت کے معاملات پر رابطے کے امکانات کا ذکر کیا۔ تاہم یہ آراء تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی ہیں اور انہیں دونوں حکومتوں کے درمیان کسی باقاعدہ پیش رفت کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔

مجموعی طور پر اسلام آباد میں ایس سی او اجلاس میں انڈیا کی شرکت ایک ایسی سفارتی حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے جس میں پاکستان اور انڈیا اپنے شدید دوطرفہ اختلافات کے باوجود ایک وسیع تر کثیر ملکی نظام میں مشترکہ طور پر شریک ہیں۔ اس شرکت سے نہ تو فوری طور پر دوطرفہ تعلقات میں بڑی تبدیلی ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی مذاکرات کی بحالی کی ضمانت ملتی ہے، لیکن یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مکمل سفارتی رابطہ منقطع نہیں ہوا۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہوگی کہ پاکستان کی موجودہ صدارت کے دوران ایس سی او کا عمل کس سمت آگے بڑھتا ہے اور اگست 2027 میں اسلام آباد میں ہونے والا سربراہی اجلاس دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے محض ایک کثیر ملکی اجلاس ثابت ہوتا ہے یا اس کے موقع پر کسی اضافی سفارتی رابطے کی گنجائش بھی پیدا ہوتی ہے۔

Back to top button