گنڈاپور گروپ سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے سرگرم ہو گیا

 

 

 

ایک جانب وفاق کی طرف سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے یا گورنر راج لگانے کی افواہیں زور پکڑ رہی ہیں تو دوسری جانب علی امین گنڈاپور گروپ کی جانب سے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تیاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں، ایسے میں صوبے میں سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے اندر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے وابستہ ارکان اور بعض ناراض ارکان نے باہمی رابطے تیز کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے پلان پر مشاورت شروع کر دی ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر متحرک ہونے والے ناراض گروپ میں 30 سے زائد ارکان کی حمایت کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے ارکان کے درمیان رابطوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ گروپ کی جانب سے ایک اجلاس بھی طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں جس میں موجودہ سیاسی صورتحال، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ممکنہ تحریک عدم اعتماد اور کسی متبادل امیدوار کے نام پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور سے وابستہ ارکان اس سیاسی سرگرمی میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ اگر وزیراعلیٰ کی تبدیلی کی نوبت آتی ہے تو علی امین گنڈاپور کو دوبارہ خیبر پختونخوا کی وزارت اعلیٰ سونپی جائے۔

 

تاہم اگر کسی وجہ سے گنڈاپور کی واپسی ممکن نہ ہو تو ان کے گروپ کے کسی دوسرے رکن کو متبادل امیدوار کے طور پر سامنے لانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ تحریک انصاف کے اندر ناراض ارکان کی سرگرمیوں کو اس تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ یہ ارکان گزشتہ صوبائی حکومتوں میں بھی خود کو نظر انداز کیے جانے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق موجودہ صورت حال میں ان ارکان کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے اور مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ گروپ کے تمام ارکان کسی ایک امیدوار کی حمایت پر متفق ہیں یا نہیں۔

 

پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ کیا ناراض گروپ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لیے درکار پارلیمانی حمایت حاصل کر سکتا ہے۔ محض ارکان کے ایک گروپ کے متحرک ہونے سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یقینی نہیں ہوتی، تاہم اگر بڑی تعداد میں ارکان ایک موقف پر متحد ہو گئے تو صوبائی حکومت کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

 

دوسری جانب وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری کشیدگی نے بھی صوبائی سیاسی صورتحال کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ وفاق کی جانب سے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ نفاذ کی افواہوں کے باعث تحریک انصاف کے اندر یہ بحث بھی جاری ہے کہ اگر وفاقی سطح پر کوئی بڑا آئینی یا انتظامی قدم اٹھایا جاتا ہے تو صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت اس کا مقابلہ کس حکمت عملی کے تحت کرے گی۔

 

اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن بھی زیر بحث آ گئی ہے۔ اگرچہ فی الحال ان کی وزارت اعلیٰ ختم ہونے یا تحریک عدم اعتماد جمع کرائے جانے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم گنڈاپور گروپ اور ناراض ارکان کی سرگرمیوں نے یہ تاثر ضرور مضبوط کیا ہے کہ تحریک انصاف کے اندر قیادت کے معاملے پر اختلافات دوبارہ نمایاں ہو رہے ہیں۔

ایمرجنسی یا گورنر راج: فیصلہ 4 اکتوبر سے پہلے یا بعد

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق اگر سہیل آفریدی کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو آئندہ چند روز خیبر پختونخوا کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ناراض گروپ مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو یہ سرگرمیاں پارٹی قیادت پر دباؤ بڑھانے اور اپنی سیاسی اہمیت منوانے کی کوشش تک محدود رہنے کا امکان ہے۔

 

خیبر پختون خواہ کی موجودہ سیاسی صورتحال کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اگر سہیل آفریدی اپنی وزارت اعلیٰ برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد لانگ مارچ کے لیے دوبارہ سیاسی مہم شروع کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم اس صورت میں بھی گنڈاپور گروپ اور ناراض ارکان کی اندرونی سرگرمیاں ختم ہونے کے بجائے پارٹی کے اندر آئندہ حکمت عملی اور عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ یوں خیبر پختونخوا میں سیاسی بحران اب محض وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی یا اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے تک محدود نہیں رہا بلکہ تحریک انصاف کے اندر وزارت اعلیٰ کے منصب کے لیے جاری جوڑ توڑ بھی اس کا اہم حصہ بن گیا ہے۔ ایک طرف ایمرجنسی اور گورنر راج کی افواہوں نے سیاسی بے یقینی بڑھا دی ہے تو دوسری طرف گنڈاپور گروپ اور ناراض ارکان کی ممکنہ تحریک عدم اعتماد نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی مشکلات میں اضافے کا امکان پیدا کر دیا ہے، تاہم فی الحال کسی حتمی تبدیلی، تحریک عدم اعتماد یا نئے وزیراعلیٰ کے نام کا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

 

Back to top button