سندھ طاس معاہدہ،دنیا سرپھرے مودی کو لگام کیسے ڈالے گا؟

سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر اب اصل سوال صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازع کا نہیں رہا بلکہ یہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری، عالمی قانون کی بالادستی اور بین الاقوامی اداروں کے فیصلوں کے احترام کا امتحان بھی بن چکا ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر قرار دینے کے بعد پاکستان نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے عالمی قانونی اور سفارتی فورمز پر معاملہ اٹھایا، جبکہ مستقل ثالثی عدالت نے 31 اگست 2026 کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور نافذالعمل ہے اور اس کی بنیاد پر بھارت کی ذمہ داریاں برقرار ہیں۔ اسی فیصلے کے ساتھ عدالت نے دریائے چناب پر رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عبوری اقدامات کا حکم بھی جاری کیا۔
یہ فیصلہ اس لیے اہم ہے کہ سندھ طاس معاہدہ محض دو ملکوں کے درمیان ایک سیاسی سمجھوتہ نہیں بلکہ 1960 میں طے پانے والا ایک باقاعدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جو اقوام متحدہ کے معاہدات کے ریکارڈ میں بھی درج ہے۔ اس کے تحت دریائے سندھ کے نظام سے متعلق پاکستان اور بھارت کے حقوق اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص قانونی ڈھانچہ قائم کیا گیا تھا۔
بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر قرار دینے کا معاملہ اسی لیے عالمی قانونی بحث کا مرکز بنا۔ مستقل ثالثی عدالت کے 31 اگست کے فیصلے نے معاہدے کی حیثیت کے بارے میں واضح قانونی مؤقف پیش کیا۔ اس تناظر میں پاکستان کے لیے اگلا چیلنج صرف یہ نہیں کہ وہ اس فیصلے کو سفارتی سطح پر اجاگر کرے بلکہ یہ بھی ہے کہ عالمی برادری، متعلقہ اداروں اور قانونی فورمز کے سامنے اس فیصلے کی اہمیت کو مسلسل مؤثر انداز میں پیش کرے۔ عالمی عدالت یا ثالثی ادارے کا فیصلہ اپنی جگہ اہم ہوتا ہے، لیکن اس کے عملی اثرات کا انحصار ریاستوں کے طرزعمل اور عالمی سفارتی دباؤ پر بھی ہوتا ہے۔
پاکستان نے پانی کے معاملے کو عالمی سطح پر بھی اٹھایا ہے۔ اقوام متحدہ کے مختلف فورمز پر پاکستانی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا تنازع کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر غیر مؤثر بنانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اقوام متحدہ کے ایک حالیہ اجلاس میں پاکستان نے ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے کو نافذالعمل اور اس کی ذمہ داریوں کو برقرار قرار دیا، جبکہ بھارتی نمائندے نے پاکستان کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اپنے اعتراضات پیش کیے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ معاملہ اب کھلے سفارتی اور قانونی اختلاف کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
یہاں عالمی برادری کے کردار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اگر دو ممالک کے درمیان پانی جیسے بنیادی وسیلے سے متعلق تنازع بین الاقوامی معاہدے اور قانونی اداروں کے ذریعے طے پانے کے باوجود یکطرفہ اقدامات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہتے۔ جنوبی ایشیا میں کروڑوں لوگوں کی معیشت، زراعت، خوراک اور روزگار دریائی پانی سے وابستہ ہیں۔ اسی لیے پانی کے مسئلے کو محض سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر دیکھنے کے بجائے علاقائی امن، انسانی ضرورت اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
پاکستان کا مؤقف یہ ہے کہ سندھ طاس معاہدے کو سیاسی یا فوجی کشیدگی کے ساتھ مشروط نہیں کیا جا سکتا اور پانی کو بطور دباؤ استعمال کرنا خطے کے استحکام کے لیے خطرناک ہوگا۔ اقوام متحدہ کے فورمز پر بھی پاکستان نے پانی کو ہتھیار بنانے کے خلاف یہ مؤقف پیش کیا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل زندگی اور پائیدار ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاہم اس معاملے میں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ عالمی قانونی فیصلہ سامنے آنے کے باوجود عملی صورت حال خود بخود تبدیل نہیں ہوتی۔ پاکستان کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ قانونی کارروائی، سفارتی رابطوں، آبی ماہرین کی تحقیق اور عالمی اداروں میں مسلسل مؤثر نمائندگی کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت آگے بڑھائے۔ محض سخت بیانات یا سیاسی ردعمل کے بجائے معاہدے کی شقوں، عالمی قانون اور ثالثی عدالت کے فیصلے کو بنیاد بنا کر مقدمہ آگے بڑھانا زیادہ اہم ہوگا۔
پانی پاکستان کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملکی زراعت، خوراک کی پیداوار، دیہی معیشت اور لاکھوں لوگوں کا روزگار دریائی نظام سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے سندھ طاس معاہدے کی قانونی حیثیت اور اس کے تحت پاکستان کے حقوق کا تحفظ قومی سطح پر ایک بنیادی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اس حق کے تحفظ کا مؤثر راستہ بھی وہی ہے جسے پاکستان خود عالمی فورمز پر اجاگر کرتا آیا ہے: بین الاقوامی قانون، سفارت کاری، قانونی عمل اور معاہدے کے تحت دستیاب طریقہ کار۔
اب اصل گیند عالمی برادری کے کورٹ میں ہے۔ مستقل ثالثی عدالت کا 31 اگست 2026 کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی حیثیت کے بارے میں ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، لیکن اس کے بعد اصل امتحان اس بات کا ہے کہ عالمی ادارے اور متعلقہ ریاستیں اس قانونی اصول کو کس حد تک عملی سطح پر مؤثر بناتی ہیں۔ اگر بین الاقوامی معاہدوں اور ثالثی فیصلوں کا احترام عالمی نظام کی بنیاد ہے تو پانی جیسے بنیادی وسیلے سے متعلق تنازعات میں بھی یہی اصول لاگو ہونا چاہیے۔ پاکستان کے لیے چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنے آبی حقوق کا دفاع قانونی اور سفارتی بنیادوں پر مسلسل مضبوط کرے، جبکہ عالمی برادری کے لیے چیلنج یہ ہے کہ جنوبی ایشیا میں پانی کو تنازع بڑھانے کے بجائے تعاون اور علاقائی استحکام کا ذریعہ بنائے۔
