4 اکتوبر کا لانگ مارچ، پی ٹی آئی کے اندر ہی پھوٹ پڑ گئی

تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو متوقع لانگ مارچ اب صرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشمکش کا معاملہ نہیں رہا بلکہ خود پارٹی کے اندر بھی اس کی حکمت عملی پر اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کو خط لکھ کر کارکنوں کی جانوں کے تحفظ، بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ریاست سے براہِ راست تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
شوکت یوسفزئی نے خط میں خدشہ ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت بعض معاملات کو بنیاد بنا کر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کی طرف بڑھ سکتی ہے اور افغانستان سے ممکنہ حملے کو بھی اس مقصد کے لیے جواز بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وفاق صوبائی حکومت کے عدم تعاون کا بیانیہ بنا رہا ہے، جس کے نتیجے میں صوبائی حکومت کو ختم کرنے یا تحریک انصاف کے خلاف مزید اقدامات کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ تاہم یہ خدشات شوکت یوسفزئی کا سیاسی مؤقف ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا فیصلہ برقرار ہے اور پارٹی نے خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے یا وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا متبادل تلاش کرنے کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ ان کے مطابق سہیل آفریدی کو ہٹانے سے متعلق اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ یوں پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے فی الحال لانگ مارچ کے فیصلے میں تبدیلی کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔
حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی معاملے پر سخت مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات سے انکار نہیں کرتی، تاہم احتجاج کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے آئینی اختیار کی موجودگی کا ذکر کیا ہے، جبکہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کی ہدایت کی صورت میں آئینی طریقہ کار کے تحت گورنر راج نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیانات سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ آئینی اختیارات کے استعمال سے متعلق بحث کو بھی مزید نمایاں کرتے ہیں۔
تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے دوسری طرف مؤقف اختیار کیا ہے کہ لانگ مارچ مؤخر ہونے کے بعد حکومت کے پاس مذاکرات کا موقع موجود ہے، تاہم ان کے مطابق 4 اکتوبر کا لانگ مارچ حتمی ہے۔ اس طرح پارٹی کے اندر بھی ایک طرف مذاکرات اور کارکنوں کے تحفظ پر زور دینے والی آواز موجود ہے، جبکہ دوسری جانب احتجاجی پروگرام برقرار رکھنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔
اصل سوال اب یہ نہیں کہ صرف لانگ مارچ ہوگا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ تحریک انصاف موجودہ سیاسی اور سکیورٹی حالات میں احتجاج اور مذاکرات کے درمیان کس راستے کا انتخاب کرتی ہے۔ شوکت یوسفزئی کا خط ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر کم از کم بعض رہنماؤں کو کارکنوں کے تحفظ اور ممکنہ آئینی اقدامات کے حوالے سے سنجیدہ خدشات ہیں، جبکہ قیادت کا موجودہ اعلان یہ ہے کہ احتجاجی فیصلہ برقرار رہے گا۔ اگر یہ اختلاف ختم نہ ہوا تو 4 اکتوبر کا لانگ مارچ تحریک انصاف کے لیے صرف حکومت کے ساتھ سیاسی مقابلے کا معاملہ نہیں رہے گا بلکہ پارٹی کی داخلی حکمت عملی اور فیصلہ سازی کا بھی اہم امتحان بن جائے گا۔
