خیبرپختونخوا میں گورنرراج،ایمرجنسی کےآپشنزمیزپرہیں،راناثنااللہ

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی سمیت گورنر راج اور سیاسی مذاکرات کے تمام آپشنز میز پر ہیں، تاہم حتمی فیصلہ ہونے کے بعد اسی کے مطابق پیشرفت کی جائے گی۔
رانا ثنااللہ کانجی ٹی وی سے گفتگو میں کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ سوات اور بنوں کے حالیہ واقعات میں شہریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگرد افغانستان کی جانب سے دراندازی کرکے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ یہاں سے آگے راستہ بنا کر لاہور اور کراچی تک پہنچیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت نہ صرف امن و امان اور دہشتگردی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی بلکہ دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کوششوں کے راستے میں بھی رکاوٹ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا بیانیہ وفاقی حکومت کے بیانیے کے بالکل خلاف ہے، دہشتگردی کے واقعات کی مذمت کرنے کے بجائے کہا جاتا ہے کہ وفاقی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے دہشتگردی ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرنے سے انکاری ہونے کے ساتھ وفاق کے لیے مزید الجھاؤ اور مشکلات پیدا کرنے کے لیے لانگ مارچ کا اعلان بھی کرچکی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام دستیاب آپشنز پر کام کیا جاتا ہے۔ آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کیے جاسکتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج بھی آتا ہے۔ ان کے مطابق وفاق صوبے کا کنٹرول براہ راست سنبھال سکتا ہے اور کسی کو منتظم مقرر کیا جاسکتا ہے، اگر گورنر کے ذریعے اختیار سنبھالا جائے تو اسے گورنر راج کہا جاتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ آرٹیکل 232 کے تحت گورنر کو اختیار دینا لازم نہیں بلکہ یہ ایک آپشن ہے، جبکہ سیاسی مذاکرات بھی میز پر موجود ہیں۔

Back to top button