خیبرپختونخوا میں گورنرراج یا ایمرجنسی پربھرپورمزاحمت ہوگی،بیرسٹرگوہر

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی لگائی گئی تو ہم بھرپور مزاحمت کریں گے، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر گورنر راج نہیں لگ سکتا۔
داہگل ناکہ پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹرگوہرنے کہا کہ 4 اکتوبر کو مارچ کی کال فی الوقت قائم ہے، آج جوائنٹ اپوزیشن کی صورت میں پی پی رہنماؤں سے ملے اور انھیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی، پیپلز پارٹی نے کہا کہ مشاورت کے بعد اے پی سی میں شرکت کے بارے میں آگاہ کریں گے، اے پی سی میں ملک کی مجموعی اور سیاسی صورتحال پر بات ہو گی، اے پی سی میں کے پی میں سیکیورٹی صورتحال اور صوبوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہوگی۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرںے کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی پکڑ دھکڑ سنجیدہ معاملہ ہے، تمام جماعتوں کو متفق ہونا چاہیے کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے، پاکستان تحریک انصاف کو جو اندیشہ ہے اسے روک دینا چاہیے، صوبائی خودمختاری پر کوئی ضرب نہیں آنی چاہیے، کے پی حکومت اس نہج پر ہے کہ ہمارے ہی وزراء کو اٹھایا جا رہا ہے، یہ حکومتی رٹ اور صوبائی خودمختاری پر بڑی قدغن ہے۔
انہوں ںے کہا کہ پنجاب میں اپ نے ووٹ لے لیے اور کے پی میں سارے اختیارات لے لیے، اگر آج کے پی کی صوبائی خودمختاری متاثر ہوئی تو کل پنجاب، سندھ بلوچستان کی بھی ہو گی، صوبائی خود مختاری پر حملے سے وفاق کمزور ہوگا، کسی ایک کو دیوار میں چننے سے وفاق پرضرب سکتی، ہم نے پہلے بھی کہا حکومتیں اشاروں سے نہیں عوام کے نہ چاہنے سے ختم ہونی چاہیے، سب کو کہتا ہوں کہ غیر آئینی اقدامات سے باز رہیں، کے پی میں ہماری حکومت ہے لیکن وفاقی حکومت بھی کچھ نہ کچھ کر رہی ہے، ہمارے وزراء پر فائرنگ کی گئی، دیوار پر لکھا سب کچھ نظر آرہا ہے آئینے کے پیچھے کوئی اور ہے، غیر جمہوری رویے سے غیر جمہوری قوتوں کو اسپیس ملے گا اور وہ مضبوط ہوں گی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 27 ستمبر کو مارچ کی کال دی تھی اور سیاسی کمیٹی نے متفقہ طور پر اسے 4 اکتوبر تک موخر کیا، لانگ مارچ کو متفقہ طور پر موخر کرنے کا فیصلہ کیا، ہمارا مطالبہ ہے ملاقاتیں اور علاج کراؤ، یہ کوئی بڑی بات نہیں، ہم نے یقین دلایا ہوا ہے نہ ہم دھاوا بولیں گے نہ حملہ کریں گے، کے پی میں مینڈیٹ عمران خان کا ہے، سہیل آفریدی کو انہوں نے ہی وزیراعلی بنایا ہے، جب تک بانی عمران خان کی حمایت سہیل آفریدی کو حاصل ہے وہی وزیراعلی رہیں گے۔
