لاہور میں ایک اور غیر ملکی خاتون سے اجتماعی زیادتی

چند ہفتے قبل لاہور کے علاقے ڈیفنس میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور جنسی زیادتی کے واقعے کے بعد اب لاہور میں ایک اور غیر ملکی خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں ملوث تین میں سے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ پچھلے کیس کی طرح اس مرتبہ بھی دیگر دو با اثر ملزمان گرفتار نہیں ہو پائے۔
آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ لڑکی نے تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے میں الزام عائد کیا کہ 25 ستمبر کی رات دو خواتین اسے ڈنر کے بہانے ایک کیفے سے بحریہ ٹاؤن کے ایک فلیٹ میں لے گئیں، جہاں پہلے سے موجود اور بعد میں آنے والے افراد نے اسے جانے سے روک دیا۔ خاتون کے مطابق فلیٹ میں دو مزید افراد بھی پہنچے، جہاں ایک خاتون نے مردوں میں سے ایک سے رقم وصول کی۔ اس کے بعد اسے ایک کمرے میں بند کرکے دھمکایا گیا اور دو افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے اسے پولیس سے رابطہ نہ کرنے کی دھمکیاں بھی دیں، جبکہ اس کا بیگ، دو لاکھ روپے نقدی، آئی فون 13 پرو میکس اور موبائل فون بھی واپس نہیں کیے گئے۔
پولیس کے مطابق واقعے کے بعد خاتون کو گاڑی میں بٹھا کر غازی انٹرچینج کے قریب ایک مقام پر چھوڑ دیا گیا اور اسے گاڑی سے باہر دھکیل دیا گیا۔ خاتون نے راہگیروں سے موبائل فون لے کر پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد اسے تھانہ ڈیفنس سی منتقل کیا گیا اور اس کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا۔ لاہور کے ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز ذیشان رضا کے مطابق پولیس نے مقدمے میں نامزد تین افراد میں سے ایک کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر دو کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ کرایا گیا جس میں اس کے ساتھ زیادتی کے شواہد سامنے آئے ہیں، جبکہ خاتون نے مجاز عدالت کے سامنے دفعہ 164 کے تحت اپنا بیان بھی ریکارڈ کرا دیا ہے۔
عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون 13 ستمبر کو استنبول سے پاکستان پہنچی تھیں اور اسلام آباد اور فیصل آباد میں قیام کے بعد لاہور آئی تھیں۔ خاتون کے مطابق ان کا سکردو جانے کا ارادہ تھا تاہم تنہا سفر کی وجہ سے انہوں نے دو خواتین سے رابطہ کیا، جن میں سے ایک سے وہ 25 ستمبر کی رات ایک کیفے میں ملیں۔ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ کیفے سے وہ دونوں خاتون کے ہمراہ بحریہ ٹاؤن گئیں، جہاں رات گئے سفید رنگ کی ایک گاڑی میں دو افراد پہنچے اور وہ سب ایک اپارٹمنٹ میں چلے گئے۔ ان کے مطابق وہاں کھانا کھانے کے دوران مزید دو افراد بھی پہنچے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اسی دوران ان کے ساتھ آنے والی خواتین میں سے ایک نے ایک مرد سے رقم وصول کی اور اسے پارٹی کے اخراجات قرار دیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق جب انہوں نے وہاں سے جانے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں بتایا گیا کہ ان کے ساتھ آنے والی خاتون ان کے ساتھ رنگ رلیاں منانے کے لیے رقم لے کر جا چکی ہے اور اب وہ وہاں سے نہیں جا سکتیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے جانے کی اجازت کے بدلے 30 ہزار روپے دینے کی پیشکش بھی کی، تاہم انہیں دھمکایا اور بلیک میل کیا گیا اور شراب پینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے بعد دو افراد نے ان کے ساتھ زیادتی کی۔
ایف آئی آر میں خاتون نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ تین افراد نے شراب میں بے ہوشی کی دوا ملا کر پلائی اور انہیں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد افراد کی شناخت متاثرہ خاتون کر سکتی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ملزم گرفتار ہو چکا ہے جبکہ دیگر دو افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ یہ واقعہ رواں برس جون میں لاہور میں پیش آنے والے اس واقعے کے چند ہفتے بعد سامنے آیا ہے جس میں نیدرلینڈز اور سپین سے تعلق رکھنے والی دو خواتین کے اغوا اور جنسی زیادتی کی شکایت سامنے آئی تھی۔ پولیس نے اس مقدمے میں آٹھ افراد کی گرفتاری کا دعویٰ کیا تھا جبکہ مقدمے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں انہیں ضمانت پر رہائی مل گئی جبکہ دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہے۔
KPKمیں ایمرجنسی یا گورنر راج؟وزیراعلیٰ، حکومت اور اسمبلی کا کیا ہوگا؟
تازہ واقعے کے حوالے سے بھی یہ الزام سامنے آیا ہے کہ گرفتار نہ ہونے والے ملزمان بااثر اور متمول خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں قانون کی گرفت میں لانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ متاثرہ خاتون کے بارے میں بھی یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسے گزشتہ واقعے کی طرح فوری طور پر پاکستان چھوڑنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے اس حوالے سے کسی دباؤ یا معاملہ دبانے کی تصدیق نہیں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں مفرور ملزمان کو گرفتار کرکے تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔
