لانگ مارچ کی کال سے تحریک انصاف انتشار کا شکار

 

 

 

وزیراعلی خیبر پختون خواہ سہیل آفریدی کی جانب سے عمران خان کی رہائی کے لیے دی جانے والی لانگ مارچ کی کال الٹا ان کے گلے پڑ چکی ہے کیونکہ اس نے نہ صرف ان کی وزارت اعلی خطرے میں ڈال دی ہے بلکہ پارٹی کو شدید تر اختلافات کا شکار بھی کر دیا ہے۔

 

تحریک انصاف کا 4 اکتوبر کو متوقع لانگ مارچ اب صرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کشمکش کا معاملہ نہیں رہا بلکہ خود پارٹی کے اندر بھی اس کی حکمت عملی پر اختلافات نمایاں ہو گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر رہنماؤں کو خط لکھ کر پارٹی کارکنوں کی جانوں کے تحفظ، دہشتگردی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر لانگ مارچ فوری طور پر ملتوی کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ریاست سے براہ راست تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

 

تحریک انصاف کے اندر پیدا ہونے والی یہ صورتحال دراصل اس وسیع تر بحران کی ایک کڑی قرار دی جا رہی ہے جو عمران خان کی گرفتاری اور اڈیالہ جیل میں قید ہونے کے بعد پارٹی کو مسلسل درپیش ہے۔ عمران خان کی عدم موجودگی میں پارٹی کی فیصلہ سازی، احتجاجی حکمت عملی اور صوبائی و مرکزی قیادت کے درمیان اختلافات بارہا سامنے آتے رہے ہیں، حتیٰ کہ رواں سال اپریل میں متعدد مرتبہ پارٹی رہنماؤں کے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے لیے نہ پہنچنے کے واقعات نے بھی داخلی اختلافات کے تاثر کو تقویت دی تھی۔

 

اس دوران تحریک انصاف ملک کے چاروں صوبوں میں اپنی موجودگی برقرار نہ رکھ سکی اور اس کی مؤثر حکمرانی عملاً خیبر پختون خوا تک محدود ہو کر رہ گئی، جہاں پارٹی مسلسل 13 برس سے حکومت میں ہے۔ تاہم گزشتہ ایک برس کے دوران خیبرپختونخوا میں بھی پارٹی کے اندر اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہوئی جب علی امین گنڈاپور کو وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹا کر سہیل آفریدی کو صوبے کا نیا وزیراعلیٰ بنایا گیا۔

 

بعد ازاں سہیل آفریدی کی قیادت اور صوبائی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے بھی پارٹی کے اندر سوالات اٹھتے رہے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سہیل آفریدی کی ممکنہ فراغت اور علی امین گنڈاپور کی دوبارہ وزارت اعلیٰ حاصل کرنے کی کوششوں کی باتیں سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ خود گنڈاپور نے حالیہ دنوں میں کہا ہے کہ اگر عمران خان انہیں دوبارہ وزیراعلیٰ بننے کا حکم دیں تو وہ یہ ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں، جبکہ انہوں نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کیے جانے کو بھی پارٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

خیبرپختونخوا کی داخلی سیاست میں کشیدگی کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور کے درمیان حالیہ ملاقات میں صوبائی حکومت، لانگ مارچ، وفاق کی جانب سے ممکنہ اقدامات اور اسمبلی تحلیل کرنے سمیت مختلف آپشنز پر بات چیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 

اسی پس منظر میں 4 اکتوبر کے لانگ مارچ نے تحریک انصاف کے اندر موجود اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ سکیورٹی حالات، دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور بیرونی خطرات کے پیش نظر پارٹی کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لانگ مارچ کو وفاقی حکومت خیبر پختون خوا میں ایمرجنسی یا دیگر آئینی اقدامات کے لیے جواز کے طور پر استعمال کر سکتی ہے، تاہم یہ خدشات ان کا سیاسی مؤقف ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کر دیا ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ برقرار ہے اور سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹانے یا خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کے حوالے سے پارٹی کو کوئی ہدایت نہیں ملی۔

 

بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے سے متعلق اطلاعات درست نہیں، جبکہ پارٹی رہنما بیرسٹر علی ظفر نے بھی 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو حتمی قرار دیا ہے۔

سہیل آفریدی بھی اس وقت لانگ مارچ کے حوالے سے بھرپور انداز میں متحرک نظر آتے ہیں۔ انہوں نے 29 ستمبر کو کارکنوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تیاری مکمل ہے اور 4 اکتوبر کے لیے کارکن بھی تیار رہیں۔ اس کے برعکس پارٹی کے اندر سے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی آواز سامنے آنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ احتجاجی حکمت عملی پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔

 

حکومت کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ مذاکرات کا راستہ بند نہیں کیا گیا تاہم احتجاج کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔ اسی دوران حکومتی شخصیات کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی امکانات کا ذکر کیے جانے سے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان کشیدگی مزید سیاسی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ یوں لانگ مارچ اب محض ایک احتجاجی سرگرمی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل اور تحریک انصاف کی اندرونی صف بندی سے بھی جڑا ہوا معاملہ بن چکا ہے۔

گنڈاپور گروپ سہیل آفریدی کو ہٹانے کے لیے سرگرم ہو گیا

تحریک انصاف کے لیے موجودہ صورتحال کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ عمران خان کی طویل قید کے بعد پارٹی کی اندرونی صف بندی کا بحران اب اس صوبے تک بھی پہنچ گیا ہے جو گزشتہ 13 برس سے اس کی سب سے مضبوط سیاسی بنیاد رہا ہے۔ علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کے درمیان قیادت کے معاملے پر پیدا ہونے والی صورتحال، لانگ مارچ کی حکمت عملی پر اختلاف اور پارٹی کے اندر مذاکرات یا مزاحمت کے راستے پر مختلف آرا نے تحریک انصاف کے اندر جاری کشمکش کو کھلے سیاسی سوال میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب 4 اکتوبر کا لانگ مارچ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کی قیادت، فیصلہ سازی اور خیبرپختونخوا میں اس کی حکومت کے مستقبل کے لیے بھی ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

Back to top button