پی ٹی آئی 13 سال بعد بھی KP میں تبدیلی لانے میں ناکام

خیبر پختونخوا میں 13 برس سے حکمران تحریک انصاف اپنے تبدیلی کے نعرے کے برعکس صوبے میں کوئی مثبت اور پائیدار تبدیلی لانے میں مکمل طور پر ناکام ہے، صوبے میں طویل اقتدار، اربوں روپے کے مالی وسائل اور مسلسل سیاسی مینڈیٹ کے باوجود تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات کے مسائل ختم نہیں ہو سکے، جبکہ صوبائی حکومت کی سیاست کا بنیادی محور وفاق کے ساتھ پھڈے بازی بنتا چلا گیا ہے اور یہی محاذ آرائی اب گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کی بحث تک پہنچ چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق تیرہ برس کا اقتدار کسی حکومت کے لیے کارکردگی دکھانے کے لیے کم مدت نہیں ہوتی، مگر خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے طویل دور حکومت کا سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آخر وہ تبدیلی کہاں ہے جس کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کیا گیا تھا۔ 2010 سے نومبر 2025 تک این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو 6572 ارب روپے ملنے کے باوجود صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات، معیاری تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تعلیم کا شعبہ تحریک انصاف کے دعووں کا سب سے بڑا امتحان بن چکا ہے۔ یونیسف کے مطابق صوبے میں لاکھوں بچے اب بھی سکول سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی محکمہ تعلیم کی رپورٹس میں سرکاری سکولوں کے غیر فعال ہونے، اساتذہ اور طلبہ کی عدم موجودگی، اسکولوں کی عمارتوں پر قبضوں اور بالخصوص طالبات کے سکولوں سے متعلق مسائل کی نشاندہی ہوتی رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ 13 برس تک اقتدار میں رہنے اور اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود حکومت ہر بچے کو سکول تک پہنچانے کا بنیادی ہدف بھی کیوں حاصل نہیں کر سکی۔
اعلیٰ تعلیم اور میڈیکل داخلوں کا معاملہ بھی صوبائی نظام حکمرانی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن کر سامنے آیا۔ 2023 کے ایم ڈی کیٹ امتحان میں بڑے پیمانے پر نقل کے الزامات اور امیدواروں کے خلاف کارروائی نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھائے اور معاملہ پارلیمانی فورم تک پہنچا۔ ایسے واقعات نے یہ سوال پیدا کیا کہ اگر صوبائی حکومت میرٹ اور شفافیت پر مبنی تعلیمی نظام قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تو تبدیلی کے دعوے کی بنیاد کیا ہے۔
صحت کے شعبے میں صحت کارڈ کو تحریک انصاف اپنی سب سے بڑی کامیابیوں میں شمار کرتی ہے، لیکن آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں پروگرام کے مالی اور انتظامی معاملات پر اٹھائے گئے اعتراضات نے اس کامیابی کے دعوے کو بھی سوالات کے گھیرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اربوں روپے کی ادائیگیوں، ہسپتالوں کے دعووں کی جانچ اور نگرانی کے نظام سے متعلق اعتراضات کے بعد بنیادی سوال یہی ہے کہ عوام کو علاج کی سہولت دینے والے منصوبے میں مالی شفافیت اور مؤثر نگرانی کا نظام کس حد تک قائم کیا گیا۔
خیبر پختونخوا کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں صاف پانی، بجلی، گیس، سڑکوں، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی کمی بھی حکومت کی کارکردگی کا عملی آئینہ ہے۔ اگر 13 سالہ اقتدار کے بعد بھی صوبے کے بڑے حصے میں شہری بنیادی سہولیات کے لیے حکومت کی طرف دیکھ رہے ہوں تو محض سیاسی نعروں اور ماضی کے منصوبوں کو کامیابی قرار دینا کافی نہیں ہوگا۔ عوام یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کے صوبے کے ترقیاتی بجٹ کا نتیجہ ان کی روزمرہ زندگی میں کہاں نظر آتا ہے۔
تحریک انصاف کی صوبائی سیاست کا دوسرا بڑا مسئلہ یہ دکھائی دیتا ہے کہ صوبے کے انتظامی اور ترقیاتی معاملات کے بجائے وفاق کے ساتھ محاذ آرائی مسلسل سیاسی ترجیح بنتی رہی ہے۔ اسلام آباد کے خلاف احتجاج، لانگ مارچ، وفاقی حکومت سے تنازعات اور سیاسی کشیدگی نے صوبائی حکومت کی سیاست کو اس حد تک متاثر کیا کہ خیبر پختونخوا کے اصل مسائل پس منظر میں جاتے دکھائی دینے لگے۔ اب صورتحال یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے غیر معمولی آئینی اقدامات کی باتیں بھی سیاسی بحث کا حصہ بن چکی ہیں۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کو اپنی سیاسی مزاحمت کا مرکز بنا دیا ہے یا واقعی صوبے کو ایک مثالی حکمرانی کا ماڈل بنانے کی کوشش کی گئی۔ اگر صوبائی حکومت کا زیادہ وقت وفاقی حکومت سے سیاسی جنگ، احتجاج اور محاذ آرائی میں صرف ہو رہا ہو تو پھر صوبے کے عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کے سکول، ہسپتال، روزگار، امن و امان اور بنیادی سہولیات کی ذمہ داری کون پوری کرے گا۔
تیرہ برس کے بعد اب تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو اپنے ماضی کے نعروں کے بجائے نتائج کا حساب دینا ہوگا۔ کتنے سکول فعال ہوئے، کتنے بچے اسکول پہنچے، کتنے ہسپتالوں کی حالت بہتر ہوئی، صحت کارڈ پر کتنا پیسہ خرچ ہوا، کتنے نوجوانوں کو مستقل روزگار ملا، کتنے ترقیاتی منصوبے مکمل ہوئے اور عام شہری کی زندگی کتنی آسان ہوئی، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب سیاسی تقریروں سے نہیں بلکہ اعداد و شمار سے دینا ہوگا۔
لانگ مارچ کی کال سے تحریک انصاف انتشار کا شکار
خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کا 13 سالہ اقتدار اب ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں تبدیلی کے نعرے اور حکمرانی کے نتائج کو الگ الگ دیکھنا ممکن نہیں رہا۔ اگر طویل اقتدار کے باوجود عوامی سہولیات کے بنیادی مسائل برقرار رہیں، صوبائی حکومت کی سیاست وفاق سے مستقل محاذ آرائی کے گرد گھومتی رہے اور معاملہ بالآخر گورنر راج یا ایمرجنسی کے خدشات تک پہنچ جائے تو تحریک انصاف کے لیے سب سے بڑا سوال یہی بن جاتا ہے کہ اس نے 13 برس میں خیبر پختونخوا کو واقعی کتنا بدلا، اور اگر تبدیلی آئی ہے تو اس کے ثبوت صوبے کے عام شہری کی زندگی میں کہاں دکھائی دیتے ہیں۔
