صومالی قزاقوں نے پاکستانی بحری عملے کو کیوں قتل کیا؟

 

 

 

معلوم ہوا ہے کہ پانچ ماہ تک صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال رہنے والے پانچ پاکستانی ملاحوں کے قتل کی فوری وجہ ان کی بازیابی کے لیے شروع کیا جانے والا کمانڈو آپریشن بنا۔ یاد رہے کہ قزاقوں نے مغویوں کی رہائی کے لیے 30 لاکھ ڈالرز کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد رقم کم کروانے کے لیے کئی ماہ تک مذاکرات چلے جو ناکام رہے۔ چنانچہ آخری آپشن کے طور پر ایک کمانڈو آپریشن شروع کیا گیا جس کے رد عمل میں تمام مغویوں کو قتل کر دیا گیا۔ آپریشن کے نتیجے میں صومالی قزاقوں کے قبضے سے آئل ٹینکر ’ایم ٹی آنر 25‘ کا قبضہ تو چھڑوا لیا گیا لیکن عملے کہ پانچوں اراکین بشمول تین پاکستانی شہری مارے گئے۔

 

جہاز کو قزاقوں سے چھڑانے کے لیے پنٹ لینڈ کی فورسز نے آپریشن شروع کیا تھا، تاہم کمانڈوز کے بحری جہاز تک پہنچنے سے پہلے ہی قزاقوں نے مغویوں کو قتل کر دیا۔ مرنے والوں میں تین پاکستانی، مرچنٹ نیوی کے سیکنڈ آفیسر کاشف عمر، تھرڈ انجینئر محمود انصاری اور بوائلر رفیع اللہ شامل ہیں، جبکہ چار دیگر ملاح زخمی ہوئے۔

 

یاد رہے کہ ’ایم ٹی آنر 25‘ کو 21 اپریل 2026 کو صومالی ساحل کے قریب قزاقوں نے قبضے میں لیا تھا۔ عملے کی رہائی کے بدلے ابتدائی طور پر 30 لاکھ امریکی ڈالرز تاوان طلب کیا گیا، بعد ازاں مذاکرات میں رقم کم کیے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی، لیکن کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔ تقریباً پانچ ماہ بعد پُنٹ لینڈ کی سکیورٹی فورسز نے جہاز کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کی۔ آپریشن کے دوران 16 مشتبہ قزاق گرفتار کیے گئے، جبکہ دیگر فرار ہوگئے۔ تاہم حکام نے یہ تفصیل نہیں بتائی کہ قزاقوں نے مغویوں کو کس مقام پر، کس وقت اور کس طریقے سے قتل کیا۔

 

’ایم ٹی آنر 25‘ تقریباً 18 ہزار 500 بیرل تیل لے کر عمان سے صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جا رہا تھا جب 21 اپریل کو صومالی ساحل کے قریب مسلح قزاقوں نے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ جہاز کے 17 رکنی عملے میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے جبکہ دیگر ملاحوں کا تعلق انڈونیشیا، سری لنکا، بھارت اور میانمار سے تھا۔ جہاز کی آپریٹنگ کمپنی ’وارف چارٹرنگ‘ انڈونیشیا میں رجسٹرڈ ہے۔ قزاقوں نے جہاز پر قبضے کے بعد عملے کے موبائل فونز بھی لے لیے تھے، تاہم بعد میں بعض ملاحوں کو مختصر وقفوں کے لیے اپنے اہلخانہ سے رابطے کی اجازت دی جاتی رہی۔ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران پاکستانی مغویوں کے اہلخانہ مسلسل حکومت سے ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔

 

اسکے علاوہ مغوی ملاحوں کی ویڈیوز بھی سامنے آتی رہیں جن میں وہ اپنی اہنی حکومتوں سے مدد کی اپیل کرتے دکھائی دیے۔ پاکستان کے 10 مغوی ملاحوں کو کراچی کی ’ہیلمزمین میننگ سروسز‘ کے ذریعے بھرتی کیا گیا تھا۔ جہاز کے اغوا کے بعد کمپنی نے وضاحت کی تھی کہ اس کا کردار صرف عملے کی بھرتی تک محدود تھا جبکہ جہاز کے آپریشنل معاملات اور ہنگامی صورت حال کی ذمہ داری جہاز کے مالکان اور مینیجرز پر عائد ہوتی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ بھی مختلف مواقع پر مغویوں کی بازیابی کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں رہنے کا کہتا رہا ہے۔

 

بازیابی کی کارروائی میں بچ جانے والے ملاحوں میں پاکستانی سیکنڈ انجینئر حسین یوسف بھی شامل ہیں۔ ان کے بھانجے طالب رضا نے بتایا کہ آپریشن کے بعد ان کی اپنے ماموں سے فون پر بات ہوئی۔ حسین یوسف نے انہیں بتایا کہ کارروائی کے دوران کچھ افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ طالب رضا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی فوری دیکھ بھال کی جائے اور جاں بحق ملاحوں کی میتیں وطن لانے کے انتظامات کیے جائیں۔

 

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ کئی ماہ سے مغویوں کی رہائی کی اپیلیں کر رہے تھے اور اب ان کی اولین ترجیح زندہ بچ جانے والے پاکستانیوں کی سلامتی اور جاں بحق افراد کی میتوں کی وطن واپسی ہے۔ پُنٹ لینڈ کے نائب وزیر اطلاعات بلی قابوسادے نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ مقامی سکیورٹی فورسز نے بعض قزاقوں کو فرار ہونے میں مدد دی۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران 16 مشتبہ قزاق گرفتار کیے گئے جبکہ دیگر فرار ہوگئے جن کی تلاش جاری ہے۔ حکام نے تاحال یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آپریشن کے دوران مغویوں کی اموات کس طرح ہوئی اور آیا ان کی اموات قزاقوں کی فائرنگ سے ہوئی یا کسی اور صورت میں۔

 

دوسری جانب پاکستان کے دفتر خارجہ نے پاکستانی شہریوں کی اموات کی اطلاعات کی تاحال آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ وزارت خارجہ کے مطابق جبوتی میں پاکستانی مشن کو جہاز کی بازیابی سے متعلق غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں اور وہ صورتحال کی تصدیق اور حقائق کے تعین کے لیے متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق جہاز پر 10 پاکستانی شہری سوار تھے۔

 

Back to top button