پاکستان میں 45بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری تنقید کی زد میں کیوں؟

پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی میزبانی جہاں سفارتی اعتبار سے ایک اہم موقع قرار دی جا رہی ہے، وہیں اجلاس کے انتظامات پر ہونے والے بھاری اخراجات نے ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے غیر ملکی سربراہان، اعلیٰ حکام اور وفود کی سکیورٹی اور آمدورفت کے لیے 45 نئی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 9 ارب 60 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ غیر ملکی سربراہان کی سکیورٹی ضروری ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے اخراجات کی ضرورت کیسے طے کی گئی، موجودہ سرکاری گاڑیاں کیوں ناکافی قرار پائیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایس سی او اجلاس ختم ہونے کے بعد ان مہنگی گاڑیوں کا استعمال کیسے ہوگا؟

دستیاب حکومتی وضاحت کے مطابق کابینہ ڈویژن کے پاس موجود جدید ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں اور حکومت کے مطابق یہ گاڑیاں موجودہ اجلاس کے لیے مطلوبہ سکیورٹی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ اسی بنیاد پر 45 نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ 300 نان بلٹ پروف گاڑیاں بھی کرائے پر حاصل کرنے کا منصوبہ ہے تاکہ اجلاس میں شریک سربراہانِ مملکت، سربراہانِ حکومت، وزرا، اعلیٰ حکام اور دیگر وفود کی نقل و حرکت کے لیے انتظام مکمل کیا جا سکے۔

یہ خریداری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وفاقی حکومت پہلے ہی سرکاری اخراجات کم کرنے اور کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد ہے، تاہم ان 45 بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے اس پابندی سے خصوصی استثنا حاصل کیا گیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق 30 بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 6 ارب 60 کروڑ روپے کی ضمنی گرانٹ منظور کی گئی، جبکہ مزید 15 بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے 3 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔ یوں مجموعی رقم تقریباً 9 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچتی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس معمول کی کوئی تقریب نہیں بلکہ ایک بڑے بین الاقوامی اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان اس وقت تنظیم کے سربراہانِ مملکت کی کونسل کی صدارت کر رہا ہے اور حکومت کے مطابق اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے حکام شریک ہوں گے۔ ایسے میں بین الاقوامی سکیورٹی معیار کے مطابق محفوظ اور قابل اعتماد سفری انتظامات ضروری ہیں۔ حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی خطرات کے پیش نظر غیر ملکی اعلیٰ شخصیات کے تحفظ میں کسی قسم کا خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔

یہ مؤقف اپنی جگہ قابلِ فہم ہے کہ کسی بھی بڑے عالمی اجلاس میں مہمان سربراہان کی سکیورٹی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔ لیکن عوامی پیسے سے ہونے والے اخراجات کے معاملے میں سکیورٹی کی ضرورت کے ساتھ مالی شفافیت بھی اہم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 9 ارب 60 کروڑ روپے کی گاڑیوں کی خریداری پر یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا 45 نئی گاڑیاں واقعی کم از کم ضرورت تھیں یا موجودہ وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کیا جا سکتا تھا؟ اگر موجودہ گاڑیاں سکیورٹی معیار پر پوری نہیں اتر رہی تھیں تو ان میں موجود خامیوں اور نئی گاڑیوں کی مطلوبہ خصوصیات کی تفصیلات کس سطح پر طے کی گئیں؟ اور خریداری کا عمل کس طریقہ کار کے تحت مکمل کیا جائے گا؟

سوشل میڈیا پر اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیرضروری اخراجات قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے یہ سوال اٹھایا کہ جب ایس سی او اجلاس ختم ہو جائے گا تو ان گاڑیوں کا کیا ہوگا۔ دوسری طرف حکومت کا مؤقف ہے کہ ان گاڑیوں کی خریداری کو محض ایک اجلاس کے اخراجات کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ مستقبل میں بھی اعلیٰ سطح کے غیر ملکی اور قومی وفود کی سکیورٹی ضروریات کے لیے استعمال ہو سکتی ہیں۔

یہی وہ نکتہ ہے جس پر حکومت کو سب سے واضح جواب دینا ہوگا۔ اگر یہ گاڑیاں صرف چند روزہ اجلاس کے لیے خریدی جا رہی ہیں تو ان کا بعد کا استعمال، دیکھ بھال، سرکاری تحویل اور مستقبل کی افادیت واضح ہونی چاہیے۔ اگر حکومت کا منصوبہ انہیں آئندہ بین الاقوامی کانفرنسوں، اعلیٰ سطح کے سرکاری دوروں اور دیگر سکیورٹی ضروریات کے لیے استعمال کرنے کا ہے تو اس کا باقاعدہ منصوبہ بھی عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ اس سے یہ وضاحت ہو سکے گی کہ یہ اخراجات وقتی ضرورت ہیں یا ریاستی اثاثوں میں طویل المدتی اضافہ۔

دوسری طرف 300 نان بلٹ پروف گاڑیوں کا کرائے پر حصول بھی اخراجات کے مجموعی حجم کو بڑھاتا ہے، تاہم یہاں خریداری اور کرائے کے ماڈل میں ایک بنیادی فرق موجود ہے۔ کرائے پر حاصل کی جانے والی گاڑیوں کا خرچ عارضی ہوگا جبکہ بلٹ پروف گاڑیاں مستقل سرکاری اثاثہ بن جائیں گی۔ اسی لیے اصل مالی سوال نئی گاڑیوں کی قیمت سے آگے بڑھ کر ان کی طویل مدتی افادیت، دیکھ بھال اور استعمال کے منصوبے تک پہنچتا ہے۔

پاکستان میں سرکاری اخراجات پر بحث ہمیشہ دو بنیادی تقاضوں کے درمیان گھومتی رہی ہے: ریاستی ضرورت اور مالی ذمہ داری۔ ایک بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں سکیورٹی کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن اسی طرح عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر اس وقت جب حکومت خود کفایت شعاری اور غیرضروری سرکاری اخراجات میں کمی کی پالیسی پر زور دے رہی ہو، ہر بڑے مالی استثنا کے لیے مضبوط جواز ضروری ہو جاتا ہے۔

اس معاملے میں شفافیت کا بہترین راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت خریداری کی منظوری، مطلوبہ سکیورٹی خصوصیات، فی گاڑی لاگت، خریداری کا طریقہ، موجودہ گاڑیوں کو ناقابل استعمال قرار دینے کی وجوہات اور ایس سی او اجلاس کے بعد ان گاڑیوں کے استعمال سے متعلق منصوبہ واضح کرے۔ اس سے نہ صرف تنقید کا جواب مل سکتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ خریداری واقعی طے شدہ سکیورٹی ضرورت کے مطابق کی گئی ہے۔

آخرکار ایس سی او اجلاس پاکستان کے لیے سفارتی اور انتظامی اعتبار سے ایک اہم موقع ہے، اور غیر ملکی مہمانوں کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن اس ذمہ داری کے ساتھ عوامی پیسے کے درست استعمال کی ذمہ داری بھی جڑی ہوئی ہے۔ 9 ارب 60 کروڑ روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری پر اصل بحث اس لیے صرف یہ نہیں ہونی چاہیے کہ گاڑیاں کیوں خریدی گئیں، بلکہ یہ بھی ہونی چاہیے کہ ان کی ضرورت کس بنیاد پر طے ہوئی، ان پر کتنا خرچ آیا، خریداری کتنی شفاف تھی اور اجلاس ختم ہونے کے بعد یہ گاڑیاں قومی خزانے کے لیے مستقل اثاثہ ثابت ہوں گی یا محض ایک بڑے بین الاقوامی اجتماع کے عارضی انتظامات کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔

Back to top button