KPK میں گورنر راج یا ایمرجنسی؟وفاق PTIکو قابو کیسے کرے گا؟

خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، دہشت گردی میں اضافے اور وفاق و صوبے کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی جا سکتی ہے یا گورنر راج کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے؟ وفاقی حکومت کے اہم وزرا کی جانب سے حالیہ بیانات کے بعد یہ معاملہ محض سیاسی بحث نہیں رہا بلکہ آئینی اور قانونی بحث کا بھی اہم موضوع بن گیا ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آئین ایسی غیرمعمولی صورت حال میں وفاق کو کیا اختیارات دیتا ہے، ان اختیارات کے استعمال کے لیے کیا شرائط پوری کرنا ضروری ہیں اور ایمرجنسی اور گورنر راج میں بنیادی فرق کیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور صوبائی حکومت کی جانب سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مبینہ عدم دلچسپی یا ناکامی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ہونے کی حیثیت سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ فیصلے کی حمایت کرے گی۔ دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی واضح کیا کہ اگر حالات قابو سے باہر ہو جائیں تو آئین اور قانون میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے لیے طریقہ کار موجود ہے، تاہم اس نوعیت کا فیصلہ کسی ایک کابینہ رکن کے بجائے آئینی طریقہ کار کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم کی سطح پر ہوگا۔

یہاں سب سے پہلے آرٹیکل 232 اور آرٹیکل 234 کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 232 بنیادی طور پر جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسی اندرونی بدامنی کی صورت حال سے متعلق ہے جس میں صوبائی حکومت کے لیے معاملات کو آئینی طور پر چلانا مشکل ہو جائے۔ اس کے تحت صدر مملکت مخصوص آئینی شرائط کے تحت ایمرجنسی کا اعلان کر سکتے ہیں۔ ایمرجنسی کے نفاذ کا مطلب خود بخود صوبائی اسمبلی کی تحلیل یا وزیراعلیٰ کی برطرفی نہیں ہوتا بلکہ اس کے نتیجے میں وفاق کو بعض غیرمعمولی اختیارات حاصل ہو سکتے ہیں اور صوبائی معاملات میں وفاقی مداخلت کا دائرہ بڑھ سکتا ہے۔

اس کے برعکس آرٹیکل 234 اس وقت زیادہ براہ راست متعلق ہوتا ہے جب صدر مملکت اس نتیجے پر پہنچیں کہ کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا رہی۔ اس صورت میں صوبے کے گورنر کی رپورٹ ایک اہم آئینی ذریعہ بن سکتی ہے، جس کی بنیاد پر صدر مملکت مخصوص حالات میں صوبائی حکومت کے بعض یا تمام اختیارات اپنے پاس لے سکتے ہیں یا گورنر کو ان اختیارات کے استعمال کا اختیار دے سکتے ہیں۔ یہی وہ صورت حال ہے جسے عام سیاسی زبان میں عموماً ’’گورنر راج‘‘ کہا جاتا ہے۔

تاہم گورنر راج کا مطلب بھی یہ نہیں کہ صوبائی اسمبلی لازماً اسی وقت ختم ہو جاتی ہے۔ آئینی طریقہ کار کے تحت صوبائی اسمبلی کے اختیارات اور قانون سازی کے معاملات کے لیے بھی مخصوص انتظام موجود ہے۔ اسی لیے ایمرجنسی، گورنر راج، صوبائی حکومت کی تبدیلی اور صوبائی اسمبلی کی تحلیل کو ایک ہی چیز سمجھنا آئینی طور پر درست نہیں ہوگا۔ ہر اقدام کی اپنی الگ آئینی بنیاد، شرائط اور نتائج ہیں۔

ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کے معاملے میں پارلیمان کا کردار بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آئین غیرمعمولی اختیارات کے استعمال کو محض انتظامی فیصلہ بنا کر نہیں چھوڑتا بلکہ اس کے لیے پارلیمانی توثیق کا نظام بھی موجود ہے۔ ایمرجنسی کے اعلان کی صورت میں مقررہ مدت کے اندر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے اس کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت جاری کیے جانے والے اعلان کی بھی پارلیمانی توثیق درکار ہوتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ غیرمعمولی آئینی اختیارات مستقل یا بے لگام انتظامی اختیار میں تبدیل نہ ہو جائیں۔

آئین میں مالی ایمرجنسی کا الگ تصور بھی موجود ہے۔ آرٹیکل 235 کے تحت اگر ملک یا کسی صوبے کی مالی صورتحال ایسی سطح تک پہنچ جائے جہاں آئینی طور پر غیرمعمولی مالی اقدامات ضروری تصور کیے جائیں تو صدر مملکت مخصوص آئینی شرائط کے تحت مالی ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔ اس صورت حال کا تعلق بنیادی طور پر مالی نظم و ضبط اور مالی اختیارات سے ہوتا ہے، نہ کہ امن و امان یا صوبائی سیاسی انتظام سے۔

خیبرپختونخوا کے موجودہ معاملے میں اصل پیچیدگی یہ ہے کہ یہاں ایک طرف دہشت گردی اور امن و امان کا مسئلہ موجود ہے، جبکہ دوسری طرف وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان سیاسی اختلافات بھی شدت اختیار کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اگر وفاق غیرمعمولی آئینی اختیار استعمال کرنے کی طرف بڑھتا ہے تو اسے صرف سیاسی فیصلے کے طور پر نہیں بلکہ آئینی جواز، شواہد، طریقہ کار اور پارلیمانی نگرانی کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزرا کے بیانات کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ حکومت کس مخصوص آئینی شق کو استعمال کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے کن آئینی شرائط کو پورا کرنا ضروری سمجھتی ہے۔

معروف قانون دان حافظ حسان احمد کے مطابق پاکستان کا آئین وفاقی نظام قائم کرتا ہے جس میں صوبائی خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتی ہے، تاہم اسی آئینی نظام میں وفاق پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ صوبوں میں آئینی حکومت کا تسلسل برقرار رہے۔ ان کے مطابق اگر کسی صوبے میں آئینی مشینری اس حد تک متاثر ہو جائے کہ حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے تو آرٹیکل 234 مخصوص اور محدود آئینی طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق صدر مملکت صوبائی گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر مخصوص حالات میں کارروائی کر سکتے ہیں جبکہ پارلیمان بھی آئینی توثیق کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان اختلافات صرف امن و امان تک محدود نہیں رہے بلکہ سیاسی حکمت عملی، صوبائی اختیارات اور آئینی ذمہ داریوں کے سوالات بھی اس تنازع کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے میں 4 اکتوبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات زیر بحث ہیں، لیکن کسی بھی اقدام کی عملی نوعیت اور قانونی حیثیت اسی وقت واضح ہوگی جب متعلقہ آئینی طریقہ کار باضابطہ طور پر اختیار کیا جائے گا۔

یہ بھی اہم ہے کہ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان اپنے آپ میں صوبے کے تمام مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائی، پولیس کی استعداد، وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون، مالی وسائل، انتظامی اختیارات اور سیاسی کشیدگی جیسے مسائل اپنی جگہ برقرار رہ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر وفاق غیرمعمولی آئینی اختیار استعمال کرتا ہے تو اس کے قانونی جواز، ضرورت، مدت اور پارلیمانی نگرانی سے متعلق سوالات بھی اہمیت اختیار کریں گے۔

خیبرپختونخوا کی موجودہ صورتحال میں اس لیے اصل بحث صرف یہ نہیں کہ ایمرجنسی یا گورنر راج لگ سکتا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آئینی طور پر غیرمعمولی اختیار استعمال کرنے کی ضرورت کن حالات میں پیدا ہوتی ہے، اس کے لیے مطلوبہ شرائط کیا ہیں، صوبائی خودمختاری اور وفاقی ذمہ داری کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے گا اور امن و امان کے مسئلے کا مستقل حل کس انتظامی و سیاسی فریم ورک کے ذریعے تلاش کیا جائے گا۔ آنے والے دنوں میں وفاقی حکومت کے عملی فیصلے، صوبائی حکومت کا ردعمل، پارلیمانی کارروائی اور 4 اکتوبر کے سیاسی حالات اس بحث کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Back to top button