4اکتوبر لانگ مارچ،PTI پنجاب کے اراکین اسمبلی بلوں میں کیوں چھپ گئے؟

4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال کے بعد تحریک انصاف کی توجہ اگرچہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی طرف مارچ کی تیاریوں پر مرکوز ہے، لیکن پنجاب میں پارٹی کے سامنے ایک الگ اور اہم سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ آخر صوبے میں احتجاج کی قیادت کون کرے گا اور پنجاب سے کارکنوں کو منظم کرکے میدان میں کون لائے گا؟
مبصرین کے مطابق تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلے کو ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور، نوشہرہ اور صوابی کی طرف لے جانے کی حکمت عملی زیرغور ہے۔ لیکن جیسے ہی یہ مارچ خیبرپختونخوا سے آگے بڑھے گا، پنجاب میں داخلے اور وہاں موجود کارکنوں کو متحرک رکھنے کا مرحلہ سب سے اہم بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کی مقامی قیادت، ارکان اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔

پارٹی ذرائع اور کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ پنجاب میں پولیس کارروائیوں اور گرفتاریوں کے خدشے کے باعث بعض رہنما اپنے حلقوں اور معمول کی سیاسی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔ بعض ارکان اسمبلی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق ہر رکن کے حوالے سے دستیاب نہیں۔ اس لیے کسی بھی رکن کے بارے میں یہ حتمی طور پر کہنا کہ وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہے، احتیاط کا متقاضی ہے۔

یہ صورت حال اس لیے بھی اہم ہے کہ ستمبر میں ہونے والے مجوزہ احتجاج سے قبل پنجاب میں پی ٹی آئی کے متعدد کارکنوں اور عہدیداروں کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی 30 روز کے لیے تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔ حکومت نے ان اقدامات کو امن و امان سے متعلق خدشات سے جوڑا، جبکہ پی ٹی آئی نے انہیں سیاسی کارروائی قرار دیا۔

اس پس منظر میں پنجاب کے ارکان اسمبلی کی سیاسی سرگرمیوں میں کمی یا بعض رہنماؤں کی عدم دستیابی کو صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر پارٹی کے منتخب نمائندے اپنے حلقوں میں موجود نہ ہوں اور کارکنوں کو براہ راست قیادت فراہم نہ کر سکیں تو 4 اکتوبر کے احتجاج میں پنجاب کا حصہ منظم کرنا پی ٹی آئی کے لیے ایک عملی چیلنج بن سکتا ہے۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی بھی اس بحث کا اہم حصہ ہیں۔ وہ 2025 سے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے منصب پر ہیں اور 2026 کے بجٹ اجلاس میں بھی ایوان سے خطاب کرچکے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں ان کی دستیابی کے حوالے سے پارٹی ذرائع کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان کا فون بند ہونے یا رابطے میں نہ آنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے، لیکن اس کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے اسے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر خیبرپختونخوا سے آنے والا لانگ مارچ پنجاب کی حدود تک پہنچتا ہے تو پنجاب میں اس کا سیاسی اور تنظیمی چہرہ کون ہوگا؟ کیا پنجاب کے ارکان اسمبلی اپنے اپنے حلقوں سے کارکنوں کو منظم کریں گے، کیا وہ مرکزی قافلے کے ساتھ اسلام آباد کی طرف جائیں گے، یا احتجاج کے لیے صوبے کے مختلف شہروں میں الگ سرگرمیاں ترتیب دی جائیں گی؟ ان سوالات کا جواب لانگ مارچ کے عملی حجم اور اس کے پنجاب مرحلے کی نوعیت متعین کرسکتا ہے۔

اس سے پہلے بھی پی ٹی آئی کے اندر پنجاب کے ارکان اسمبلی کے احتجاج میں کردار، مالی وسائل، کارکنوں کے اخراجات اور قیادت کے طریقہ کار پر سوالات سامنے آتے رہے ہیں۔ ستمبر کے مجوزہ احتجاج کے بارے میں ایک رپورٹ میں پارٹی ذرائع نے بتایا تھا کہ بعض ارکان کو احتجاج کے انتظامات اور حکمت عملی پر تحفظات تھے، جبکہ کچھ ارکان نے کارکنوں کے قیام، سفر اور اخراجات کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیا تھا۔

یوں 4 اکتوبر کا احتجاج صرف یہ نہیں دیکھے گا کہ خیبرپختونخوا سے کتنے کارکن نکلتے ہیں، بلکہ یہ بھی واضح کرے گا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی تنظیمی مشینری کس حد تک فعال ہے۔ اگر پنجاب کے مقامی رہنما اور ارکان اسمبلی کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو احتجاج کی تنظیمی نوعیت مختلف ہوگی، جبکہ اگر گرفتاریوں کے خدشات کے باعث قیادت پس منظر میں رہتی ہے تو کارکنوں کو منظم کرنا پارٹی کے لیے مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب حکومت کے لیے بھی یہ صورتحال ایک اہم انتظامی امتحان ہے۔ سیاسی کارکنوں اور ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی اگر قانون کے تحت کی جاتی ہے تو اس کی بنیاد، طریقہ کار اور قانونی جواز واضح ہونا چاہیے، جبکہ احتجاج کرنے والی جماعت کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ اس کی سرگرمیاں قانون اور پرامن سیاسی احتجاج کے دائرے میں رہیں۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جہاں سیاسی کشیدگی کو انتظامی اور قانونی تنازع میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

4 اکتوبر کے لانگ مارچ کا اصل امتحان شاید صرف خیبرپختونخوا سے قافلے کے روانہ ہونے کا نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کتنی فعال رہتی ہے، کارکنوں کو کس طرح منظم کیا جاتا ہے، اگر اہم رہنما دستیاب نہ ہوں تو متبادل قیادت کون سنبھالتی ہے اور خیبرپختونخوا سے آنے والے قافلے کے ساتھ پنجاب کی سیاسی قوت کس شکل میں جڑتی ہے۔ یہی عوامل طے کریں گے کہ 4 اکتوبر کا احتجاج صرف ایک اعلان اور قافلے تک محدود رہتا ہے یا پنجاب میں بھی ایک منظم سیاسی سرگرمی کی صورت اختیار کرتا ہے۔

Back to top button