KPKمیں تبدیلی اندرسے آئیگی یا باہر سے؟بڑا فیصلہ ہو گیا

خیبرپختونخوا کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جہاں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت کو بیک وقت سیاسی، انتظامی اور امن و امان کے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کی کال، صوبے میں دہشتگردی کی صورتحال، وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور گورنر راج یا ایمرجنسی کے ممکنہ آئینی راستوں پر ہونے والی مشاورت نے آنے والے چند دنوں کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی وطن واپسی کے بعد وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور آئینی آپشنز پر غور کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اس پورے معاملے کا بنیادی سوال یہ بن چکا ہے کہ اگر خیبرپختونخوا میں سیاسی تبدیلی آتی ہے تو وہ اسمبلی کے اندر سے آئے گی یا وفاق کی جانب سے کسی آئینی اقدام کے ذریعے؟ ایک طرف صوبائی حکومت اپنی مدت اور سیاسی اختیار برقرار رکھنے کے لیے سرگرم ہے، دوسری جانب وفاقی سطح پر یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال کو محض سیاسی اختلاف کے طور پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی تضاد آنے والے 72 گھنٹوں کو سیاسی طور پر اہم بنا رہا ہے۔

حکومتی حلقوں کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے آئینی امکانات کا ذکر ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تحریک انصاف 4 اکتوبر کو خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی جانب مارچ کی تیاری کر رہی ہے۔ تاہم آئینی اعتبار سے محض سیاسی احتجاج اور کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کو ایک ہی معاملہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ایسے اقدامات کے لیے آئین میں مخصوص شرائط اور طریقہ کار موجود ہیں، جبکہ سیاسی احتجاج کی نوعیت، امن و امان کی صورتحال اور صوبائی حکومت کے آئینی فرائض الگ سوالات ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے اندر بھی خیبرپختونخوا حکومت کے مستقبل اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت پر اختلافات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اگر واقعی اسمبلی کے اندر سے تبدیلی کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو اس کی نوعیت سیاسی اور پارلیمانی ہوگی، جبکہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں معاملہ وفاقی آئینی اختیار کے استعمال تک پہنچ جائے گا۔ دونوں راستوں کے سیاسی اور انتظامی نتائج ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے، اس لیے موجودہ صورتحال میں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ فیصلہ کس آئینی اور سیاسی راستے سے آگے بڑھتا ہے۔

4 اکتوبر کا لانگ مارچ اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے واضح کیا ہے کہ مارچ کی تیاری جاری ہے اور خیبرپختونخوا سے کارکنوں کو اسلام آباد لے جانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مارچ کو کئی مرحلوں میں آگے بڑھانے، مختلف مقامات پر کارکنوں کے قیام اور صوابی میں طویل پڑاؤ کی تجاویز زیرغور ہیں۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں صوبائی حکومت کے لیے ایک طرف سیاسی احتجاج کی قیادت اور دوسری طرف صوبے کے انتظامی امور چلانے کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

یہاں حکومت کے لیے بھی ایک اہم سوال موجود ہے۔ اگر 4 اکتوبر کے احتجاج کو کسی آئینی اقدام کی بنیاد بنایا جاتا ہے تو یہ واضح کرنا ہوگا کہ فیصلہ کن قانونی اور آئینی جواز کیا ہے۔ دوسری طرف صوبائی حکومت کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ امن و امان، دہشتگردی کے سدباب اور شہریوں کے تحفظ سمیت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت اور ارادہ رکھتی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن دہشتگردی کے خلاف ریاستی ذمہ داری وفاق اور صوبے دونوں سے عملی کردار کا تقاضا کرتی ہے۔

اسی تناظر میں یہ بحث بھی اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں کسی ممکنہ تبدیلی کی بنیاد صرف سیاسی اختلاف نہیں بلکہ آئینی ذمہ داریوں اور انتظامی کارکردگی کے سوالات پر ہونی چاہیے۔ اگر اسمبلی کے اندر اکثریت کسی تبدیلی کی طرف جاتی ہے تو وہ پارلیمانی عمل ہوگا، جبکہ اگر وفاق آئینی اختیارات استعمال کرنے کی طرف بڑھتا ہے تو اسے آئین میں مقررہ طریقہ کار، متعلقہ اداروں اور پارلیمانی نگرانی کے تقاضوں کو مدنظر رکھنا ہوگا۔

تحریک انصاف کے لیے بھی آنے والے دن معمول کے سیاسی دن نہیں۔ پارٹی ایک طرف 4 اکتوبر کے احتجاج کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت کے وسائل، انتظامیہ اور ریاستی اداروں کے کردار کے حوالے سے قانونی حدود کہاں قائم ہوتی ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے چیلنج اس سے بھی بڑا ہے، کیونکہ انہیں بیک وقت پارٹی کے احتجاجی سیاسی مؤقف اور وزیراعلیٰ کی حیثیت سے صوبے کی آئینی و انتظامی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

یوں خیبرپختونخوا میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ تبدیلی آئے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اگر تبدیلی آتی ہے تو اس کا راستہ کیا ہوگا۔ اسمبلی کے اندر سیاسی تبدیلی، گورنر راج اور ایمرجنسی تینوں الگ آئینی و سیاسی راستے ہیں اور ان کے لیے مختلف تقاضے موجود ہیں۔ اسی لیے آئندہ 72 گھنٹے سیاسی قیاس آرائیوں سے زیادہ اس بات کے لیے اہم ہیں کہ فریقین اپنے اگلے قدم کا تعین کس آئینی اور سیاسی فریم ورک میں کرتے ہیں۔

اس پورے بحران میں سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ دہشتگردی اور امن و امان جیسے سنجیدہ معاملات کو سیاسی کشمکش سے الگ رکھتے ہوئے دیکھا جائے اور احتجاج، حکومت سازی اور وفاقی و صوبائی تعلقات کے معاملات کو آئینی دائرے میں حل کیا جائے۔ خیبرپختونخوا میں اندر سے تبدیلی آتی ہے یا باہر سے کسی آئینی اقدام کی نوبت آتی ہے، اس کا فیصلہ سیاسی بیانات سے نہیں بلکہ آنے والے دنوں کے عملی اقدامات، اسمبلی کی صورتحال، آئینی تقاضوں اور ریاستی اداروں کے فیصلوں سے ہوگا۔ اس لیے 4 اکتوبر سے پہلے کے یہ 72 گھنٹے محض ایک لانگ مارچ کی تیاری کے نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کی آئندہ سیاسی سمت کے حوالے سے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

Back to top button