42 مقدمات، ایک کروڑ انعام،شوکت میر کی گمشدگی ایک معمہ کیوں؟

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاسی اور عوامی احتجاج کے مرکزی رہنما شوکت نواز میر کی موجودگی ایک بار پھر ایک بڑے سوال کی صورت اختیار کر گئی ہے۔ اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ انہیں پولیس نے گرفتار کیا اور اس کے بعد سے وہ مبینہ طور پر غیرقانونی حراست میں ہیں، جبکہ کشمیر حکومت اور پولیس عدالت میں اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے کہہ رہی ہیں کہ شوکت نواز میر کسی سرکاری تحویل میں نہیں بلکہ متعدد مقدمات میں مطلوب ہونے کے باعث گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔ یوں ایک ہی شخص کے بارے میں ریاستی اداروں اور اہلخانہ کے دعوے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور اب معاملہ ہائیکورٹ کے سامنے ہے۔
شوکت نواز میر کی بہن یاسمین میر نے 15 جولائی 2026 کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے بھائی کو گرفتار کیے جانے کے بعد غیرقانونی طور پر حراست میں رکھا گیا ہے، اس لیے عدالت ان کی بازیابی کے لیے اقدامات کرے۔ درخواست کے ساتھ پولیس کو 6 جولائی کو دی گئی ایک تحریری درخواست بھی منسلک کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ شوکت نواز میر 5 جون کے بعد گھر واپس نہیں آئے اور اہلخانہ سے بھی ان کا رابطہ نہیں ہوا۔
یہ معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب 30 جون کو جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ شوکت نواز میر کو دھیرکوٹ کے علاقے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہی، تاہم اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی عرصے میں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی حکام کے حوالے سے ان کی گرفتاری کی خبریں نشر کیں۔ تاہم بعد میں پولیس اور انتظامیہ نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ شوکت نواز میر ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔
عدالت میں پولیس کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ شوکت نواز میر کے خلاف راولاکوٹ، باغ اور مظفرآباد میں مجموعی طور پر 42 مقدمات درج ہیں، جن میں بعض مقدمات انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت بھی ہیں۔ پولیس کے مطابق وہ ان مقدمات میں تفتیش کے لیے مطلوب ہیں لیکن کسی تھانے میں زیر حراست نہیں۔ پولیس نے اہلخانہ کی جانب سے دھیرکوٹ پولیس پر گرفتاری کے الزام کو بھی بے بنیاد قرار دیا ہے۔
دوسری جانب شوکت نواز میر کے وکیل شاہد علی اعوان کا مؤقف ہے کہ ان کے پاس ایسا ویڈیو مواد موجود ہے جس میں مبینہ طور پر دھیرکوٹ کے ایس ایچ او اور دیگر پولیس اہلکار شوکت میر کو لے جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ متعلقہ ایس ایچ او کو طلب کرکے اس کارروائی کی وضاحت لی جائے اور ویڈیو سمیت دیگر مواد کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ وکیل کے مطابق اس ویڈیو کی فرانزک جانچ بھی کرانے کی درخواست کی جا سکتی ہے تاکہ اس کی اصل حیثیت سامنے آسکے۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس ویڈیو کے ثبوت کے طور پر استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل ندیم خان کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیوز تیار یا تبدیل کی جا سکتی ہیں، اس لیے محض ایک یو ایس بی میں موجود ویڈیو کو بغیر تصدیق کے حتمی ثبوت نہیں مانا جا سکتا۔ یہ اعتراض دراصل اس مقدمے کے ایک بنیادی قانونی سوال کو سامنے لاتا ہے کہ ڈیجیٹل مواد کی صداقت کس طریقے سے ثابت ہوگی اور کیا فرانزک جانچ کے بغیر اسے عدالتی ثبوت کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔
اس معاملے کا ایک اور اہم پہلو سابق وزیر قانون میاں عبدالوحید سے متعلق ہے۔ شوکت نواز میر کے وکیل کے مطابق یو ایس بی میں ایک ایسا مبینہ بیان بھی موجود ہے جس میں سابق وزیر قانون نے شوکت میر کی دھیرکوٹ سے گرفتاری کو درست قرار دیا تھا۔ تاہم جب بی بی سی اردو نے میاں عبدالوحید سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی۔ یوں اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 30 جون کو شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبریں سامنے آنے کے باوجود بعد کی سرکاری پوزیشن میں انہیں گرفتار شدہ شخص کے بجائے مطلوب اور روپوش فرد قرار دیا گیا۔ پولیس نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے اشتہار جاری کیا گیا ہے اور ان کی گرفتاری یا اطلاع دینے کے حوالے سے ایک کروڑ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ متعدد مقدمات کی وجہ سے شوکت نواز میر خود کسی نامعلوم مقام پر چھپے ہوئے ہیں۔
یہی متضاد مؤقف اس پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو بن چکا ہے۔ اگر شوکت نواز میر واقعی گرفتار ہوئے تھے تو ان کی گرفتاری کا باقاعدہ ریکارڈ، گرفتاری کی تاریخ، متعلقہ تھانہ، مقدمات اور قانونی کارروائی واضح ہونی چاہیے۔ دوسری طرف اگر پولیس کے مطابق وہ کبھی حراست میں لیے ہی نہیں گئے اور روپوش ہیں تو پھر مبینہ گرفتاری کی ویڈیو اور 30 جون کو مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی گرفتاری کی اطلاعات کی حقیقت بھی واضح ہونا ضروری ہے۔ ہائیکورٹ میں یہی سوالات اب شواہد کی بنیاد پر جانچے جانے ہیں۔
اس معاملے میں انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا پہلو بھی اہم ہے۔ اگر کوئی شخص مختلف مقدمات میں مطلوب ہے تو ریاست کو اسے قانون کے مطابق گرفتار کرکے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن اگر کسی شہری کو گرفتار کیا گیا ہو تو اس کی حراست کو قانونی طریقہ کار کے تحت ریکارڈ کرنا اور اسے متعلقہ عدالت کے سامنے پیش کرنا بھی ریاستی ذمہ داری ہے۔ اسی لیے عدالت سے یہ توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دستیاب ریکارڈ، پولیس رپورٹ، گواہی اور ڈیجیٹل شواہد کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے کر اس معاملے کے مختلف دعووں میں موجود تضاد کو واضح کرے گی۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں بھی اہم ہے جب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں اور احتجاجی سیاست دوبارہ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ کمیٹی کی جانب سے 4 اکتوبر کو ایک اہم اعلان کیے جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ ایسے ماحول میں شوکت نواز میر کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متعلق ابہام سیاسی اور عوامی سطح پر مزید سوالات پیدا کر رہا ہے۔
فی الحال اس معاملے میں کسی ایک دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ایک طرف اہلخانہ اور ان کے وکیل گرفتاری اور مبینہ غیرقانونی حراست کا مؤقف پیش کر رہے ہیں، دوسری طرف پولیس اور حکومت انہیں متعدد مقدمات میں مطلوب اور روپوش قرار دے رہی ہیں۔ اصل حقیقت کا تعین اس بات سے ہوگا کہ ہائیکورٹ کے سامنے پیش ہونے والے سرکاری ریکارڈ، گواہی اور ڈیجیٹل شواہد کس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں۔ اگلی سماعت میں حکومت کے قانونی دلائل اور عدالت کی جانب سے ویڈیو اور دیگر مواد کے بارے میں فیصلے سے اس معمہ کو سلجھانے میں اہم پیش رفت متوقع ہے۔
