مبینہ زیادتی کی شکار ڈیانا کی جہلم میں شادی اور طلاق کا انکشاف

لاہور میں غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے مقدمے کی تفتیش کے دوران اس کی پاکستان میں سابقہ شادی اور طلاق سے متعلق دستاویز سامنے آنے کے بعد کیس نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ دستاویز کے مطابق ڈیانا کی شادی 12 فروری 2025 کو سرائے عالمگیر، جہلم میں ایک پاکستانی شہری سے ہوئی تھی، جبکہ بعد ازاں شوہر کی جانب سے طلاق دینے کی تحریری دستاویز بھی سامنے آئی۔ تاہم اس دستاویز کی موجودگی اور اس میں درج تفصیلات کو موجودہ مقدمے کے الزامات سے الگ رکھتے ہوئے دیکھا جانا ضروری ہے، کیونکہ لاہور میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔
دستیاب طلاق نامے کے مطابق شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ازدواجی زندگی محبت اور الفت کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا اور ڈیانا کو تین طلاقیں دینے کی تحریری تصدیق کی گئی۔ دستاویز میں طلاق کو اسلامی اصولوں اور پاکستانی قانون کے مطابق قرار دینے کے ساتھ عدت مکمل ہونے کے بعد دوسری شادی کی اجازت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں شادی کے مقام کے حوالے سے سرائے عالمگیر، جہلم جبکہ ایک رپورٹ میں راولپنڈی ڈویژن کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے اس پہلو کی حتمی تفصیل متعلقہ سرکاری ریکارڈ سے ہی واضح ہو سکے گی۔
دوسری جانب لاہور کے ڈیفنس سی پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں ڈیانا نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے دو خواتین کے ذریعے ایک ملاقات کے لیے بلایا گیا، جہاں سے وہ ایک فلیٹ تک پہنچی اور وہاں موجود افراد نے اسے نشہ آور مشروب پلایا، جس کے بعد اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی گئی۔ پولیس کے مطابق ڈیانا کا طبی معائنہ بھی ہوا اور اس کے بیان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، کچھ عرصہ فیصل آباد میں قیام کیا اور پھر لاہور آئی۔ اس کے مطابق لاہور میں اس کی ملاقات مسکان اور نمرہ سے ہوئی، جن کے ذریعے وہ ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں محسن، احمد اور دیگر افراد موجود تھے۔ ڈیانا کے بیان کے مطابق اسے وہاں سے ایک فلیٹ لے جایا گیا اور بعد میں اس نے الزام عائد کیا کہ اسے وہاں جانے کی اجازت نہیں دی گئی، نشہ آور مشروب پلایا گیا اور تین افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔ یہ تمام تفصیلات اس کا عدالتی بیان ہیں اور مقدمے میں ان کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہوگا۔
پولیس نے مقدمے میں مختلف افراد کو گرفتار یا حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ گرفتار افراد میں محسن اور علی زین سمیت مبینہ سہولت کاری کے الزام میں بعض خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ پولیس مرکزی ملزم احمد تنویر کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ قرار دیے جانے والے فلیٹ سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں، جبکہ ڈی این اے سمیت دیگر فرانزک شواہد بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔
گرفتار ملزمان کی جانب سے پولیس کو دیے گئے بیانات میں واقعے کی مختلف نوعیت بیان کی گئی ہے اور بعض ملزمان نے ڈیانا کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور بعد کے واقعات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان بیانات میں ایسے دعوے بھی سامنے آئے ہیں جو متاثرہ خاتون کے بیان سے مختلف ہیں۔ قانونی طور پر ان بیانات کی اہمیت اسی وقت واضح ہوگی جب انہیں دیگر شواہد، فرانزک نتائج، سی سی ٹی وی ریکارڈ، موبائل ڈیٹا اور گواہوں کے بیانات کے ساتھ پرکھا جائے گا۔
تفتیش کے دوران ڈیانا کی پاکستان میں سابقہ آمدورفت، مختلف افراد سے روابط اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی کی عمارت کے اندر اس کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس اور متعلقہ ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اسمبلی میں کس مقصد کے لیے گئی تھی اور وہاں اس کی رسائی کس ذریعے سے ہوئی۔ تاہم کسی خاتون کی سابقہ سماجی سرگرمیوں، شادی، طلاق، دوستوں یا کسی مخصوص مقام پر موجودگی کو اس کے خلاف مبینہ جنسی جرم کے الزام کی دلیل قرار دینا قانونی طور پر درست نہیں؛ موجودہ مقدمے میں اصل سوال یہ ہے کہ 25 اور 26 ستمبر کی درمیانی شب کیا ہوا اور اس کی تصدیق کن شواہد سے ہوتی ہے۔
مقدمے میں گرفتار ملزمہ مسکان کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اس نے ڈیانا سے تعلق کو محض دوستی تک محدود قرار دیا۔ عدالت نے پولیس کی استدعا پر اس کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ دوسری جانب ایک اور خاتون نمرہ کی عبوری ضمانت 5 اکتوبر تک منظور کرتے ہوئے اسے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تفتیش کا دائرہ صرف مبینہ مرکزی ملزمان تک محدود نہیں بلکہ ان افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جن پر سہولت کاری یا رابطوں کا الزام ہے۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ کیس میں سامنے آنے والی مختلف کہانیوں، ویڈیوز، بیانات اور دستاویزات کو ایک دوسرے سے الگ رکھتے ہوئے شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ ڈیانا کی سابقہ شادی اور طلاق ایک الگ قانونی اور ذاتی معاملہ ہے، جبکہ لاہور میں مبینہ زیادتی کا مقدمہ اس بات کا تعین طلب کرتا ہے کہ آیا اس کے ساتھ اس کی مرضی کے خلاف جنسی تشدد ہوا، اس میں کون لوگ ملوث تھے اور واقعے کے بعد اس کے موبائل فون، رقم اور دیگر سامان کے بارے میں کیا ہوا۔ پولیس کی تفتیش، فرانزک شواہد اور عدالت میں پیش ہونے والا مواد ہی اس معاملے کے حتمی قانونی پہلو واضح کرے گا۔
کیس نے اس اعتبار سے بھی اہم سوالات اٹھائے ہیں کہ پاکستان آنے والے غیر ملکی شہریوں کی سلامتی، شہریوں کے درمیان روابط، نجی مقامات پر ہونے والی سرگرمیوں اور جرائم کی تفتیش میں جدید فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد کا کردار کس قدر اہم ہے۔ تاہم جب تک عدالت کسی الزام کو ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیتی، تمام ملزمان کے بارے میں قانونی اصولِ بے گناہی برقرار رہتا ہے۔ اسی طرح متاثرہ خاتون کے ماضی یا ذاتی زندگی سے متعلق معلومات کو مقدمے کے اصل الزام کا متبادل نہیں بنایا جا سکتا۔ موجودہ مرحلے پر بنیادی توجہ شواہد، تفتیش اور عدالتی عمل پر ہونی چاہیے۔
