احتجاج یا مذاکرات: کیا قبائلی جرگہKPKمیں تصادم روک پائے گا؟

خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کو اٹل قرار دے دیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کنٹینر بھی تیار ہوچکا ہے اور دوسری طرف وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے قبائلی عمائدین نے ثالثی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔ ایسے وقت میں شمالی وزیرستان کے بزرگ رہنما ملک خان مرجان کی قیادت میں 40 رکنی قبائلی جرگے کی گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے ملاقاتیں اس بات کا اشارہ ہیں کہ سیاسی محاذ آرائی کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے غیر رسمی رابطوں کا راستہ بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔

قبائلی جرگے کے سربراہ ملک خان مرجان کے مطابق کسی فریق نے جرگے کو ثالثی کی باضابطہ دعوت نہیں دی بلکہ قبائلی عمائدین نے اپنی طرف سے موجودہ صورتحال میں کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ گورنر ہاؤس پشاور میں گورنر فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کے بعد جرگے نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی ملاقات کی۔ جرگے کی جانب سے صوبائی حکومت کو یہ پیغام دیا گیا کہ اگر ثالثی کا عمل آگے بڑھانا ہے تو حکومت کو جرگے پر اعتماد کرنا ہوگا اور لانگ مارچ کے معاملے پر اپنے مؤقف میں کچھ لچک بھی دکھانا ہوگی۔ وزیراعلیٰ سے دوبارہ ملاقات کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے جبکہ جرگے کے اسلام آباد جاکر وفاقی حکام اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقات کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے جرگے کی کوششوں کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمیشہ جرگوں اور وفود کا استقبال کرتے رہے ہیں۔ قبائلی عمائدین کی یہ سرگرمی اس لحاظ سے اہم ہے کہ خیبرپختونخوا میں قبائلی جرگے تاریخی طور پر تنازعات کے حل اور فریقین کے درمیان رابطے کا ایک غیر رسمی ذریعہ رہے ہیں۔ تاہم موجودہ تنازع محض مقامی نوعیت کا نہیں بلکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان سیاسی و آئینی اختلافات سے بھی جڑا ہوا ہے، اس لیے جرگے کی کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں فریق سیاسی سطح پر کتنی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف نے 4 اکتوبر کے لانگ مارچ کے حوالے سے اپنے مؤقف میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے مارچ کا کنٹینر تیار کرلیا گیا ہے اور وہ حیات آباد ٹول پلازہ کی افتتاحی تقریب میں اسی کنٹینر میں پہنچے۔ ان کے ساتھ صوبائی وزرا بھی موجود تھے۔ تحریک انصاف نے مارچ کے لیے چندہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ میں چندہ جمع کرنے کی مہم میں حصہ لیں گے۔

تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی واضح کیا ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ اٹل ہے، تاہم ان کے مطابق اگر حکومت مارچ روکنا چاہتی ہے تو اسے تحریک انصاف کے مطالبات پر بات چیت کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کا حل گورنر راج یا ایمرجنسی نہیں بلکہ مذاکرات، ملاقاتوں اور سیاسی مسائل کے حل میں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مارچ کے دوران کسی قسم کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔

یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے امکانات سیاسی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ان آئینی آپشنز پر غور کی باتیں سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ تحریک انصاف نے واضح طور پر ایسے کسی اقدام کی مخالفت کی ہے۔ اب اگر قبائلی جرگہ وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے کا ذریعہ بنتا ہے تو اس سے سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک متبادل راستہ پیدا ہوسکتا ہے۔

دوسری طرف اسد قیصر کا جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ اور آل پارٹیز کانفرنس کے لیے جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی خواہش بھی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تحریک انصاف اپنے سیاسی مؤقف کے لیے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیاقت بلوچ کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ ملک میں ہر سیاسی جماعت کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ اگر آل پارٹیز کانفرنس کا راستہ کھلتا ہے تو خیبرپختونخوا کے معاملے کو صرف پی ٹی آئی اور وفاق کے درمیان تنازع کے بجائے وسیع تر سیاسی مکالمے کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا جرگہ واقعی دونوں حکومتوں کے درمیان اعتماد کی فضا بحال کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے؟ جرگے کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ایک طرف صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کے سیاسی مؤقف کو سمجھے اور دوسری طرف وفاقی حکومت کے سکیورٹی اور انتظامی خدشات کو بھی مذاکرات کی میز پر لائے۔ اگر دونوں فریق اپنے اپنے حتمی مؤقف پر قائم رہے تو جرگے کے لیے درمیانی راستہ نکالنا مشکل ہوگا، لیکن اگر لانگ مارچ، امن و امان اور سیاسی مطالبات کو الگ الگ نکات میں تقسیم کرکے بات چیت کی جائے تو کشیدگی کم کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔

4 اکتوبر اب محض ایک تاریخ نہیں رہی بلکہ وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان موجود سیاسی کشیدگی کا ایک اہم مرحلہ بن چکی ہے۔ ایک طرف کنٹینر تیار ہے، چندہ مہم کی تیاری ہے اور تحریک انصاف لانگ مارچ کو اٹل قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف حکومت فوری ایمرجنسی یا گورنر راج کے بجائے سیاسی صورتحال کو دیکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے راستے تلاش کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں قبائلی جرگے کی سرگرمی ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اس کا نتیجہ اسی وقت نکل سکتا ہے جب اسے محض علامتی رابطے کے بجائے حقیقی سیاسی مذاکرات میں تبدیل کیا جائے۔

خیبرپختونخوا کے موجودہ بحران کا حل سڑکوں، کنٹینروں اور طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سیاسی رابطے، آئینی دائرہ کار اور باہمی اعتماد میں تلاش کرنا ہوگا۔ اگر جرگہ، سیاسی جماعتیں اور دونوں حکومتیں 4 اکتوبر سے پہلے کسی قابلِ عمل فارمولے تک پہنچنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں تو ممکنہ تصادم کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر رابطوں کے باوجود لانگ مارچ اور حکومتی اقدامات اپنی اپنی سمت میں آگے بڑھتے رہے تو خیبرپختونخوا کا سیاسی بحران مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے اور ایمرجنسی یا گورنر راج کی بحث ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن سکتی ہے۔

Back to top button