700 ارب لیکر بھی KP حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام

وفاقی حکومت سے انسداد دہشتگردی کے نام پر گزشتہ 13 برس میں 700 ارب روپے کی خصوصی مالی معاونت لینے کے باوجود تحریک انصاف کی صوبائی حکومت دہشتگردی پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے، یوں 2013 سے خیبرپختونخواہ میں برسر اقتدار تحریک انصاف کی حکومت کی سکیورٹی پالیسی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یاد رہے کہ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت یکم جولائی 2010 سے خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ ہونے کی بنیاد پر قابل تقسیم وفاقی ٹیکسوں کے پول سے ایک فیصد اضافی حصہ دیا جا رہا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 2010 سے 2026 تک اس مد میں صوبے کو 800 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اس رقم کا مقصد دہشتگردی کے باعث ہونے والے نقصانات اور اضافی مالی بوجھ سے نمٹنے میں صوبے کی مدد کرنا تھا۔
وفاق کی جانب سے خیبر پختون خواہ کے لیے اس مالی معاونت میں ہر سال اضافہ ہوتا رہا۔ مالی سال 2024-25 میں خیبر پختون خوا کو اس مد میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے ملے، جبکہ 2025-26 میں 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔ رواں مالی سال کے لیے تقریباً 149 ارب روپے کا تخمینہ ہے اور ستمبر تک تقریباً 23 ارب روپے جاری ہو چکے ہیں۔ یوں دہشتگردی کے بوجھ کے مقابلے میں صوبے کو ملنے والی مالی گنجائش مسلسل بڑھتی رہی ہے۔
اصل سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اس اضافی مالی گنجائش سے صوبے کی سکیورٹی اور دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال میں کتنا فرق پڑا۔ اس رقم کے استعمال کا ایسا الگ اور واضح مالیاتی کھاتہ بھی موجود نہیں جس سے عام شہری باآسانی معلوم کر سکے کہ دہشتگردی کے بوجھ کے نام پر ملنے والے اضافی وسائل میں سے کتنا حصہ پولیس، سی ٹی ڈی، سکیورٹی آلات، انٹیلی جنس، متاثرہ خاندانوں، انفراسٹرکچر یا دیگر شعبوں پر خرچ ہوا۔ دوسری طرف خیبرپختونخوا حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی کے لیے وسائل میں مسلسل اضافہ کیا گیا ہے۔
رواں مالی سال پولیس کا بجٹ 191 ارب 40 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ نئی آسامیوں، جدید اسلحے، بکتر بند گاڑیوں، ڈرونز اور دیگر سکیورٹی آلات کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔ پولیس کی منظور شدہ آسامیوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 39 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود دہشتگردی کم نہ ہونا یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ مسئلہ صرف وسائل کا ہے یا وسائل کے استعمال اور حکمت عملی کا۔ انٹیلی جنس کی بروقت فراہمی، دہشتگرد نیٹ ورکس کی نشاندہی، سرحدی علاقوں کی نگرانی، پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، وفاقی و صوبائی اداروں میں رابطہ اور دہشتگردی کے مقدمات کی مؤثر پیروی ایسے عوامل ہیں جن کے بغیر بڑے بجٹ بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتے۔
خیبر پختونخوا: ایمرجنسی کے راستے میں آئینی رکاوٹیں درپیش
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے ہونے والا نقصان صرف جانی نہیں۔ حملوں سے پولیس اور سکیورٹی تنصیبات، سرکاری عمارتیں، سڑکیں، پل، بازار اور بزنس سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں جبکہ مسلسل بدامنی سرمایہ کاری، روزگار اور تعلیم سمیت معمول کی شہری زندگی کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ چنانچہ دہشت گردی کے خلاف مالی وسائل کا اصل امتحان صرف آپریشنز اور بجٹ کے اعدادوشمار نہیں بلکہ شہریوں کے تحفظ اور معمول کی زندگی کی بحالی ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبے کو ملنے والی خصوصی مالی معاونت اور سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے بجٹ کا نتیجہ خیز آڈٹ کیا جائے۔ ہر سال یہ واضح ہونا چاہیے کہ کتنی رقم موصول ہوئی، کہاں خرچ ہوئی، سکیورٹی کی صلاحیت میں کیا اضافہ ہوا اور دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام میں اس سرمایہ کاری کے کیا نتائج سامنے آئے۔ اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود دہشتگردی کا چیلنج بڑھتا رہے تو صرف مزید فنڈز کا مطالبہ مسئلے کا مکمل حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا میں اب اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کو وسائل مل رہے ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ دستیاب وسائل کو مؤثر حکمت عملی، مضبوط انتظامی نظام اور قابلِ پیمائش نتائج میں کیوں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ تقریباً 800 ارب روپے کی خصوصی مالی معاونت اور 200 ارب روپے سے زائد کے موجودہ پولیس بجٹ کے بعد صوبائی حکومت کے سامنے اصل امتحان یہی ہے کہ وہ بڑھتے ہوئے اخراجات کے بجائے ان کے نتائج بھی عوام کے سامنے رکھے۔
