اسرائیل UAE گٹھ جوڑ: پاکستان کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

اسرائیلی وزیراعظم کے ابوظہبی کے حالیہ خفیہ دورے نے متحدہ عرب امارات اور صہیونی ریاست کے درمیان بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ کو مزید نمایاں کردیا ہے جس سے پاکستان کے لیے خطرات میں مذید اضافہ ہو گیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ نیتن یاہو نے خلیجی ملک کا غیر اعلانیہ دورہ کیا ہو، رواں سال مارچ میں ایران کے خلاف جنگ کے عروج پر بھی وہ ابوظہبی پہنچے تھے جہاں انہوں نے اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی تھی۔ اسی عرصے میں اسرائیل کے اہم انٹیلی جنس ادارے موساد کے سربراہ نے بھی دو مرتبہ متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جن کا مقصد بظاہر فوجی کارروائیوں میں رابطہ کاری تھا۔ پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی اہمیت محض یہ نہیں کہ ایک خلیجی ملک اسرائیل کے قریب ہورہا ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بننے والی نئی تزویراتی صف بندی پاکستان کی سلامتی اور سفارتی گنجائش کو کس حد تک متاثر کرسکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب پاکستان پہلے ہی بھارت کے ساتھ ایک حساس سکیورٹی ماحول میں موجود ہے۔ چنانچہ اگر یہ تعاون مستقل دفاعی یا انٹیلی جنس اتحاد کی شکل اختیار کرتا ہے تو اسلام آباد کو خطے میں اپنی سفارتی حکمت عملی نئے سرے سے متوازن کرنا پڑ سکتی ہے۔
2020 کے ابراہام معاہدوں کے بعد امارات اور اسرائیل کے تعلقات تیزی سے سفارتی سطح سے آگے بڑھ کر دفاع، انٹیلی جنس، تجارت اور ٹیکنالوجی تک پھیل گئے ہیں۔ ایران کے خلاف حالیہ جنگ نے اس تعاون کی عسکری نوعیت بھی نمایاں کردی ہے۔ آئرن ڈوم نظام کی امارات میں موجودگی اور اسرائیلی فوجی اہلکاروں کے ساتھ دفاعی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ابوظہبی اور تل ابیب کے تعلقات محض سیاسی مفاہمت نہیں رہے۔ پاکستانی نقطۂ نظر سے یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ خلیج میں کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں اس کے اثرات پاکستان کی توانائی، تجارت، سمندری راستوں اور بیرون ملک پاکستانی افرادی قوت تک پہنچ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کا ’’اتحادیوں کا مسدس‘‘ پاکستان کے لیے اس منظرنامے کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اسرائیل، بھارت، یونان اور قبرص کو اس مجوزہ ڈھانچے میں شامل کرنے کا ذکر کیا ہے جبکہ باقی ممکنہ ارکان کے نام واضح نہیں کیے۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی روابط کے باعث امارات کو اس ممکنہ صف بندی کا اہم حصہ سمجھا جارہا ہے۔ اگر ایسا کوئی اتحاد رسمی یا غیر رسمی شکل اختیار کرتا ہے تو پاکستان کے لیے مسئلہ صرف اسرائیل سے متعلق نہیں رہے گا بلکہ بھارت کی اس علاقائی سکیورٹی نیٹ ورک میں ممکنہ پوزیشن بھی براہ راست اہمیت اختیار کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کا معاملہ یہاں خصوصی توجہ کا حامل ہے۔ نئی دہلی اور تل ابیب کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون پہلے ہی گہرا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کے بھارت کے ساتھ بھی قریبی معاشی اور دفاعی روابط قائم ہیں۔ تینوں ممالک پہلے ہی دو اور پلیٹ فارمز پر بھی بطور اتحادی موجود ہیں۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر معاشی رابطوں کے یہ منصوبے دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون کے ساتھ مزید جڑتے ہیں تو پاکستان کے لیے خلیج، بحر ہند اور جنوبی ایشیا کے درمیان ابھرتے ہوئے اس نئے جغرافیائی اور سٹریٹجک رابطے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
پاکستان کے لیے امارات کا کردار اس لیے بھی حساس ہے کہ متحدہ عرب امارات محض ایک علاقائی ریاست نہیں بلکہ پاکستان کے لیے اہم معاشی، سفارتی اور انسانی رابطے کا مرکز ہے۔ لاکھوں پاکستانی شہری خلیجی ممالک، خصوصاً امارات میں روزگار سے وابستہ ہیں اور پاکستان کی معیشت کے لیے خلیج سے آنے والی ترسیلات زر اہمیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اسلام آباد اور ابوظہبی کے تعلقات میں آنے والی سردمہری، اور رواں سال تین ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی واپسی، پہلے ہی پاکستان کے لیے معاشی دباؤ کی ایک مثال ہے۔ ایسے ماحول میں امارات کی اسرائیل اور بھارت کے ساتھ بڑھتی قربت پاکستان کے لیے سفارتی توازن مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
اس صورت حال کا ایک اہم پہلو پاکستان کی ایران پالیسی بھی ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ طویل سرحدی، مذہبی، تاریخی اور معاشی روابط ہیں، جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم خلیجی شراکت دار ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں اسلام آباد کے لیے کسی ایک فریق کے ساتھ مکمل صف بندی سے گریز اور اپنے تمام اہم علاقائی تعلقات برقرار رکھنا ایک پیچیدہ سفارتی چیلنج ہوگا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان کی بنیادی ضرورت یہی ہوگی کہ وہ خطے میں کسی ایسے تنازع کا حصہ بننے سے بچے جو اس کی داخلی سلامتی یا معاشی مفادات کو براہ راست متاثر کرسکتا ہو۔ یمن اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی پاکستان کے لیے ایک الگ خطرہ رکھتی ہے۔ اگر خلیج، ایران، یمن اور اسرائیل سے جڑے تنازعات ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتے گئے تو پاکستان پر سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ماضی میں بھی مشرق وسطیٰ کی جنگوں اور علاقائی تنازعات میں پاکستان کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ایران اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کے درمیان توازن قائم کرنا پڑا ہے۔ کسی نئے علاقائی اتحاد میں اجتماعی دفاع کی شق یا باہمی فوجی ذمہ داریوں کا اضافہ اس توازن کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ایک بڑا سوال یہ بھی ہوگا کہ وہ بھارت اور اسرائیل کے باہمی دفاعی تعاون کے تناظر میں اپنی خلیجی سفارت کاری کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ اسلام آباد کے لیے امارات کے ساتھ تعلقات کو محض دوطرفہ اقتصادی معاملہ سمجھنا کافی نہیں ہوگا، کیونکہ ابوظہبی کی علاقائی شراکت داریاں وسیع تر سکیورٹی ڈھانچوں سے جڑ رہی ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور دیگر اہم علاقائی ممالک اس نئی صف بندی کو کس انداز میں دیکھتے ہیں اور ان کے ساتھ اس کے اپنے تعلقات کس طرح متاثر ہوسکتے ہیں۔
مجموعی طور پر موجودہ صورت حال پاکستان کے سامنے ایک کثیرالجہتی چیلنج رکھتی ہے۔ ایک طرف بھارت، اسرائیل اور امارات کے بڑھتے ہوئے روابط ہیں، دوسری طرف ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، خلیج کی غیر یقینی صورتحال، سعودی عرب اور یمن کا تنازع اور پاکستان کی اپنی معاشی ضروریات ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسلام آباد کے لیے بنیادی ترجیح علاقائی جنگ کا فریق بننے کے بجائے سفارتی رابطوں، معاشی مفادات اور قومی سلامتی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگی۔ مشرق وسطیٰ میں اگر نئی صف بندیاں مستقل عسکری اتحادوں میں تبدیل ہوتی ہیں تو پاکستان کو اس بدلتے ہوئے علاقائی نقشے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نہایت محتاط اور فعال سفارت کاری کی ضرورت ہوگی۔
