حکومت ایک کانفرنس کیلئے 9 ارب کی گاڑیاں کیوں خرید رہی ہے؟

 

 

 

پاکستانی سوشل میڈیا پر وفاقی حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے جسکی بنیادی وجہ اسلام آباد میں ہونے والی تین روزہ شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس کے شرکا کے لیے ساڑھے 9 ارب روپے کی 45 بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ ہے۔

 

سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صرف تین روزہ بین الاقوامی اجلاس کے لیے اتنی بھاری رقم خرچ کرکے 45 مہنگی بلٹ پروف گاڑیاں خریدنے کا حکومت کے پاس آخر کیا جواز تھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت خود کفایت شعاری کے تحت نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی عائد کر چکی تھی۔

 

سرکاری تفصیلات کے مطابق ان 45 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 9 ارب 60 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ فراہم کی گئی ہے۔ ابتدا میں 30 بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے 6.6 ارب روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ منظور کی گئی جبکہ بعد ازاں مزید 15 بلٹ پروف سیڈان گاڑیوں کی خریداری کے لیے تقریباً 3 ارب روپے فراہم کرنے کی تجویز منظور ہوئی۔ یوں اسلام آباد میں ہونے والے ایس سی او سربراہی اجلاس کے سکیورٹی انتظامات کے نام پر گاڑیوں کی خریداری کا یہ معاملہ کئی ارب روپے کے سرکاری اخراجات میں تبدیل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ کانفرنس اگست یا ستمبر 2027 میں منعقد ہونا ہے۔

 

وفاقی حکومت نے خریداری پر اٹھنے والے سوالات کے جواب میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان اس وقت ایس سی او کے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی صدارت کر رہا ہے اور اسلام آباد میں ہونے والا سربراہی اجلاس اہم ترین عالمی سفارتی تقریبات میں شامل ہوگا۔ حکومت کے مطابق اجلاس میں مختلف ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت اور بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ حکام شریک ہوں گے، اس لیے ان کی نقل و حرکت کے لیے بین الاقوامی سکیورٹی معیار کے مطابق محفوظ اور قابل اعتماد گاڑیوں کا انتظام ضروری ہے۔

 

کابینہ ڈویژن کی وضاحت کے مطابق اس وقت دستیاب جدید ترین بلٹ پروف گاڑیاں 2016 ماڈل کی ہیں جو اجلاس کے لیے درکار سکیورٹی معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کو درپیش سکیورٹی چیلنجز اور غیر ملکی شخصیات کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر نئی گاڑیوں کی خریداری ناگزیر سمجھی گئی، جبکہ 45 گاڑیوں کی تعداد بھی کم از کم ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد مقرر کی گئی ہے۔

 

تاہم اس وضاحت کے باوجود بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب کانفرنس اگست یا ستمبر 2027 میں منعقد ہونی ہے تو کیا اس کے لیے اتنے عرصے پہلے ہی اربوں روپے خرچ کرکے گاڑیاں خریدنا ضروری تھا اور کیا کانفرنس کے قریب پہنچنے پر انہیں کرائے پر حاصل کرنے سمیت کم خرچ متبادل کا جائزہ نہیں لیا جا سکتا تھا۔

 

یہ سوال بھی اہم ہے کہ حکومت نے تین روزہ کانفرنس کے لیے 45 بلٹ پروف گاڑیاں مستقل طور پر خریدنے کا فیصلہ کیوں کیا جبکہ اسی اجلاس کے لیے 300 نان بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اگر عام گاڑیوں کے لیے کرائے کا انتظام قابل عمل سمجھا گیا ہے تو حکومت سے یہ وضاحت بھی طلب کی جا رہی ہے کہ بلٹ پروف گاڑیوں کے معاملے میں یہی طریقہ اختیار کرنے کے بجائے انہیں خریدنے کو ترجیح کیوں دی گئی اور اس فیصلے سے قومی خزانے کو مالی فائدہ کیسے ہوگا۔

 

شہباز شریف حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کے تناظر میں یہ معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر عمومی پابندی کے باوجود ان 45 گاڑیوں کے لیے خصوصی استثنا حاصل کیا گیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایک عالمی اجلاس کے لیے اس پابندی سے استثنا دے کر 9 ارب 60 کروڑ روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں تو حکومت کو یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ اس استثنا کے لیے کیا معیار مقرر کیا گیا اور اس خریداری کے بعد ان گاڑیوں کے استعمال، دیکھ بھال اور سکیورٹی اخراجات کا مستقل منصوبہ کیا ہے۔

 

تین روزہ ایس سی او اجلاس کے لیے 300 نان بلٹ پروف گاڑیوں کا کرائے پر حصول بھی مجموعی اخراجات میں مزید اضافہ کرے گا، اگرچہ ان گاڑیوں کا کرایہ 9 ارب 60 کروڑ روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری کے لیے مختص رقم میں شامل نہیں ہے۔ اس انتظام سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب سینکڑوں گاڑیاں عارضی بنیادوں پر کرائے پر حاصل کی جا سکتی ہیں تو 45 بلٹ پروف گاڑیوں کو خریدنے کے فیصلے کی مالی اور انتظامی منطق کیا ہے۔

 

سابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اس معاملے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایس سی او اجلاس کے لیے 45 لگژری بلٹ پروف گاڑیوں پر تقریباً 9 ارب 60 کروڑ روپے خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ کانفرنس ختم ہونے کے بعد ان گاڑیوں کو کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، کیونکہ اگر ان کا بنیادی مقصد غیر ملکی مہمانوں کی چند روزہ آمدورفت ہے تو کانفرنس کے بعد ان کی افادیت اور استعمال کا باقاعدہ منصوبہ عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں ایک اہم سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ حکومت نے ان گاڑیوں کی خریداری کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ کا راستہ کیوں اختیار کیا اور کیا اس پورے معاملے میں کرائے پر گاڑیاں حاصل کرنے، موجودہ سرکاری گاڑیوں کو اپ گریڈ کرنے یا دیگر کم خرچ متبادل کا باقاعدہ مالی موازنہ کیا گیا۔

 

بعض صارفین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ سرکاری گاڑیاں واقعی مطلوبہ سکیورٹی معیار پر پوری نہیں اترتیں تو ان کی تعداد، حالت اور سکیورٹی خامیوں کی تفصیلات بھی سامنے آنی چاہییں تاکہ نئی گاڑیوں کی خریداری کی ضرورت واضح ہو سکے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کے نزدیک غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ حکام کے تحفظ کے لیے نئی بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری ناگزیر ہے تو کانفرنس کے بعد ان 45 گاڑیوں کے استعمال کا منصوبہ کیا ہوگا۔ کیا یہ گاڑیاں مستقل طور پر وفاقی حکومت، کسی مخصوص وزارت یا کسی سکیورٹی ادارے کے حوالے کی جائیں گی، کیا انہیں مستقبل میں آنے والے غیر ملکی وفود کے لیے استعمال کیا جائے گا یا ان کا کوئی اور مصرف طے کیا جائے گا۔

700 ارب لیکر بھی KP حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام

عوامی پیسے سے خریدی جانے والی ان گاڑیوں کے مستقبل کے استعمال اور سالانہ دیکھ بھال کے اخراجات کی وضاحت اس لیے بھی ضروری سمجھی جا رہی ہے کہ ان پر خرچ ہونے والی رقم معمولی سرکاری اخراجات نہیں بلکہ 9 ارب 60 کروڑ روپے ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف اپنی جگہ برقرار ہے کہ ایس سی او سربراہی اجلاس معمول کی سرکاری تقریب نہیں بلکہ عالمی سطح کا اہم سفارتی اجتماع ہے اور پاکستان کو غیر ملکی سربراہان اور اعلیٰ حکام کی حفاظت کے لیے اعلیٰ ترین سکیورٹی انتظامات کرنا ہوں گے۔ تاہم چونکہ یہ کانفرنس اگست یا ستمبر 2027 میں منعقد ہونی ہے، اس لیے اب سوال صرف سکیورٹی انتظامات کا نہیں بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ ایک ایسی کانفرنس کے لیے جو صرف تین روز جاری رہے گی، 9 ارب 60 کروڑ روپے کی 45 مہنگی ترین بلٹ پروف گاڑیاں ابھی سے خریدنے کی ضرورت کیوں پیش آئی، انہیں کرائے پر لینے کے بجائے خریدنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا اور کانفرنس ختم ہونے کے بعد ان گاڑیوں کا استعمال کیا ہوگا، جبکہ یہ رقم ایسے عوام کے ٹیکسوں سے خرچ کی جا رہی ہے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

 

Back to top button