جارحانہ کپتان عمران کی PM ہاؤس سے جیل تک کی داستان

 

 

 

5 اکتوبر 1952 کو پیدا ہونے والے 74 سالہ عمران خان نے بطور کھلاڑی میدان کرکٹ میں جارحانہ فاسٹ باؤلر اور فیصلہ کن کپتان کی حیثیت سے عالمی شہرت حاصل کی، لیکن میدان سیاست میں آنے کے بعد ان کا یہی جارحانہ رویہ بالاخر انہیں وزارت عظمی سے نکال کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گیا۔

 

1992 میں 40 برس کی عمر میں پاکستان کو ورلڈ کپ جتوانے والے عمران خان طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سوار ہو کر 2018 میں وزیراعظم تو بن گے، لیکن وہ اس عہدے کے لیے اپنی اہلیت ثابت کرنے میں ناکام رہے اور پاکستان کو شدید ترین مالی بحران سے دوچار کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ساڑھے تین برس بعد ہی وہ پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محروم ہونے والے پہلے وزیر اعظم بن گئے۔

 

بعد ازاں عمران نے امریکی سازش کو اپنی بے دخلی کی وجہ قرار دیتے ہوئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کر دی جسکا اختتام 9 مئی 2023 کو اہم فوجی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں ہوا۔ چنانچہ وہ گرفتار ہوئے اور کرپشن مقدمات میں سزائیں پانے کے بعد آج اڈیالہ جیل راولپنڈی میں طویل قید کاٹ رہے ہیں۔

 

میاں والی کے نیازی خاندان سے تعلق رکھنے والے عمران خان نے 1971 میں پاکستان کی طرف سے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا اور دو دہائیوں پر محیط بین الاقوامی کیریئر میں دنیا کے ممتاز آل راؤنڈرز میں جگہ بنائی۔ دائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر کی حیثیت سے ان کی پہچان رفتار، سوئنگ، جسمانی فٹنس اور بیٹسمین پر مسلسل دباؤ ڈالنے کی صلاحیت تھی۔ کپتان بننے کے بعد بھی ان کا انداز دفاعی کے بجائے جارحانہ رہا، وہ میدان میں خطرہ مول لینے اور ایسے فیصلے کرنے سے نہیں گھبراتے تھے جن کا مقصد کھیل کا رخ اپنے حق میں موڑنا ہوتا تھا۔

 

1992 کا عالمی کپ عمران خان کے کرکٹ کیریئر کا نقطۂ عروج ثابت ہوا۔ عالمی کپ کے آغاز میں پاکستانی ٹیم مشکلات کا شکار تھی، لیکن عمران خان نے ٹیم کو دوبارہ منظم کیا اور بالآخر فائنل تک پہنچایا، جہاں پاکستان نے انگلینڈ کو شکست دے کر پہلی مرتبہ عالمی کپ اپنے نام کیا۔ کرکٹ کے میدان میں ان کا یہ سفر اس تصور کو مضبوط کرتا ہے کہ عمران خان مشکل حالات میں دباؤ قبول کرنے کے بجائے مقابلہ تیز کرنے اور فیصلہ کن وار کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد عمران خان نے میدان ضرور بدل لیا لیکن مقابلے کا انداز تبدیل نہیں ہوا۔ 1996 میں تحریک انصاف قائم کرنے کے بعد انہیں قومی سیاست میں اپنی جگہ بنانے کے لیے تقریباً دو دہائیاں انتظار کرنا پڑا۔

 

عمران کو سیاسی میدان میں لانے کا سہرا آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گل مرحوم کے سر باندھا جاتا تھا لیکن انہیں وزارت عظمی تک پہنچانے میں مرکزی کردار سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا تھا جنہوں نے 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کے ذریعے پروجیکٹ عمران خان کو عملی صورت دی۔ یاد رہے کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ہو چکا ہے اور وہ بھی لمبی قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔

 

سیاسی کیریئر کے ابتدا میں تحریک انصاف ایک کمزور ترین جماعت تھی مگر عمران خان نے کرپشن کے خلاف سخت بیانیے، احتساب اور روایتی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں ایک متبادل سیاسی نظام کے وعدے کے ذریعے نوجوانوں میں اپنی حمایت بڑھائی۔ 2011 کے بعد کے جلسوں نے عمران خان کو قومی سیاست کے مرکزی کرداروں میں شامل کر دیا چونکہ انہوں نے نظام کی تبدیلی کا نعرہ دے دیا تھا۔ 2013 کے انتخابات میں جماعت نے خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی جبکہ 2014 کے اسلام آباد دھرنے نے عمران خان کے سیاسی انداز کی ایک واضح تصویر پیش کی۔

 

تب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ سے نواز شریف حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تحریک انصاف کی جانب سے اسلام اباد میں طویل ترین احتجاج اور مسلسل محاذ آرائی کا راستہ اختیار کیا گیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب کرکٹ کے میدان میں نظر آنے والی جارحانہ قیادت سیاست میں بھی عمران کی نمایاں شناخت بننے لگی اور انہیں اسٹیبلشمنٹ کی واضح سپورٹ حاصل ہو گئی جو انہیں وزارت عظمی کی کرسی تک لے گئی، تاہم جب یہ سپورٹ واپس ہوئی تو عمران خان وزیر اعظم ہاؤس سے اڈیالہ جیل پہنچ گئے۔

 

عمران خان کی نجی زندگی بھی ان کے طویل اور غیر معمولی سفر کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ انہوں نے 1995 میں برطانوی نژاد جمائما گولڈ سمتھ سے پہلی شادی کی، جو 2004 میں ختم ہوگئی جس سے ان کے دو بیٹے سلیمان اور قاسم پیدا ہوئے۔ بعد ازاں جنوری 2015 میں صحافی ریحام خان سے انکی دوسری شادی ہوئی، جو تقریباً دس ماہ بعد ختم ہوگئی۔ فروری 2018 میں عمران خان نے بشریٰ بی بی سے تیسری شادی کی جنہیں وہ اپنا روحانی مرشد بھی تسلیم کرتے ہیں اور انہی کے مشوروں پر چلتے ہوئے جیل تک پہنچے ہیں۔

 

2018 کے عام انتخابات میں تحریک انصاف سب سے بڑی پارلیمانی قوتوں میں شامل ہوئی اور اتحادیوں کے ساتھ حکومت بنانے کے بعد عمران نے 18 اگست کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ یوں ایک ایسا شخص جو کبھی دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں شمار ہوتا تھا اور پاکستان کو عالمی کپ جتوا چکا تھا، اب ایوانِ وزیراعظم میں ملک کی سیاسی سمت طے کرنے کی پوزیشن میں پہنچ چکا تھا۔ تاہم وزارت عظمیٰ کے دوران ان کی نہ تجربہ کاری اور نااہلی نہ صرف پاکستان کو بھگتنا پڑی بلکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے بھی گلے پڑ گئی۔ تب جنرل قمر جاوید باجوا پر یہ حقیقت اشکار ہوئی کہ کسی شخص کی مقبولیت اسے وزارت عظمی تک تو پہنچا سکتی ہے لیکن اس کی اہلیت نہیں بڑھا سکتی۔ بطور وزیر اعظم اپوزیشن کے ساتھ شدید سیاسی کشیدگی اور بعد ازاں طاقتور ریاستی اداروں کے ساتھ بلا وجہ کی پنگے بازی نے عمران خان حکومت کو مسلسل دباؤ میں رکھا اور بالاخر وہ دن ان پہنچا جب انہیں وزارت عظمی سے فارغ کر دیا گیا۔ 10 اپریل 2022 کو قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد عمران وزارت عظمیٰ سے محروم ہوگئے۔

 

اقتدار سے محرومی کے بعد عمران کا سیاسی انداز مزید جارحانہ ہوگیا۔ انہوں نے حکومت کے خلاف جلسوں، لانگ مارچ اور انتخابات کے مطالبے کی سیاست کی اور اپنے مخالفین کے خلاف انتہائی سخت زبان استعمال کرنا شروع کر دی۔ نومبر 2022 میں وزیرآباد میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے بعد ان کی سیاسی مہم مزید شدت اختیار کر گئی۔

اگست 2023 میں گرفتاری کے بعد عمران کی زندگی نے ایک اور بڑا موڑ لیا۔ اس کے بعد ان کے خلاف متعدد مقدمات میں کارروائیاں ہوئیں اور توشہ خانہ کیس بھی ان کی قانونی مشکلات کا مرکزی حصہ بن گیا۔ جنوری 2024 میں انہیں توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی، جبکہ دسمبر 2025 میں توشہ خانہ-2 کیس میں انہیں اور بشریٰ بی بی کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں جبکہ استغاثہ اور ریاستی حکام عدالتی فیصلوں اور مقدمات میں پیش کیے گئے شواہد کا حوالہ دیتے ہیں۔

700 ارب لیکر بھی KP حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام

مختصر یہ کہ عمران خان کے سیاسی کیرئیر کا سب سے بڑا تضاد شاید یہی ہے کہ کرکٹ میں جس جارحانہ مزاج نے انہیں کامیابی دلوائی، سیاست میں وہی جارحانہ طرزِ عمل انہیں اقتدار سے دور اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گیا۔ میدانِ کرکٹ میں وہ مخالف کو دباؤ میں لا کر کھیل کا رخ بدل دیا کرتے تھے، لیکن میدان سیاست میں مسلسل محاذ آرائی نے ان کو اقتدار سے زوال کی طرف گامزن کر دیا۔ یوں ورلڈ کپ کے فاتح کپتان سے وزارتِ عظمیٰ تک پہنچنے والے عمران خان کی کہانی آج ایک ایسے سیاسی لیڈر کی داستان بن چکی ہے جو اڈیالہ جیل کی دیواروں کے پیچھے شدت سے وقت بدلنے کا انتظار کر رہا ہے۔

Back to top button