آذربائیجانی ڈیانا کی جہلم میں شادی اور طلاق کا انکشاف

 

 

 

لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی 22 سالہ لڑکی ڈیانا سے زیادتی کیس کی تفتیش کے دوران اس کی ماضی میں پاکستان میں شادی اور طلاق کا انکشاف ہوا ہے جس نے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ڈیانا کی ایک شادی کی ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں وہ سرخ لباس میں دلہن بنی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

 

دستیاب دستاویز کے مطابق ڈیانا کی شادی 12 فروری 2025 کو سرائے عالمگیر، ضلع جہلم میں پاکستانی شہری سے ہوئی تھی، تاہم بعد ازاں شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ طلاق نامے کے مطابق شوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ڈیانا کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی محبت اور الفت کے ساتھ جاری نہیں رکھ سکتا، جس کے بعد ڈیانا کو تین طلاقیں دینے کی تحریری تصدیق کی گئی۔

 

متعلقہ دستاویز میں طلاق کو اسلامی اصولوں اور پاکستانی قانون کے مطابق قرار دینے کے ساتھ عدت مکمل ہونے کے بعد ڈیانا کو دوسری شادی کی اجازت بھی دے دی گئی تھی۔ ادھر لاہور کے ڈیفنس سی پولیس سٹیشن میں درج مقدمے میں ڈیانا نے الزام عائد کیا ہے کہ اسے دو خواتین کے ذریعے ایک ملاقات کے لیے بلایا گیا، جہاں سے وہ ایک فلیٹ تک پہنچی اور وہاں موجود افراد نے اسے نشہ آور مشروب پلایا، جس کے بعد اس کے ساتھ زیادتی کی گئی۔ پولیس کے مطابق ڈیانا کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا جبکہ اس کا بیان ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت عدالت میں بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

عدالت میں ریکارڈ کرائے گئے بیان کے مطابق ڈیانا نے بتایا کہ وہ 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد پہنچی، کچھ عرصہ فیصل آباد میں قیام کیا اور بعد ازاں لاہور آگئی۔ اس کے مطابق لاہور میں اس کی ملاقات مسکان اور نمرہ سے ہوئی، جن کے ذریعے وہ ایک ایسی جگہ پہنچی جہاں محسن، احمد اور دیگر افراد موجود تھے۔ ڈیانا نے الزام عائد کیا کہ اسے وہاں سے ایک فلیٹ لے جایا گیا، اسے وہاں سے جانے کی اجازت نہیں دی گئی، نشہ آور مشروب پلایا گیا اور بعد ازاں تین افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔

 

پولیس نے اس مقدمے میں مختلف افراد کو گرفتار یا حراست میں لے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا ہے۔ گرفتار افراد میں محسن اور علی زین سمیت سہولت کاری کے الزام میں بعض خواتین بھی شامل ہیں جبکہ پولیس مرکزی ملزم احمد تنویر کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کر رہی ہے۔ پولیس کے مطابق جائے وقوعہ قرار دیے جانے والے فلیٹ سے شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں جبکہ ڈی این اے سمیت دیگر فرانزک شواہد بھی تفتیش کا حصہ ہیں۔ گرفتار ملزمان کی جانب سے دیے گئے بیانات میں واقعے کی مختلف نوعیت بیان کی گئی ہے اور بعض ملزمان نے ڈیانا کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور بعد کے واقعات کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

 

بعض ایسے دعوے بھی سامنے آئے ہیں جو متاثرہ خاتون کے بیان سے مختلف ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ لوگ پرانے واقف تھے۔ ریپ کیس کی تفتیش کے دوران ڈیانا کی پاکستان میں سابقہ آمدورفت، مختلف افراد سے روابط اور دیگر سرگرمیوں سے متعلق معلومات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق وہ اس سے قبل بھی کاروباری مقاصد کے لیے پاکستان آتی رہی ہیں۔ بعض سوشل میڈیا رپورٹس میں ڈیانا کو جسم فروشی کے کاروبار سے بھی وابستہ قرار دیا گیا ہے، تاہم ابھی تک ان الزامات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

 

اسکے علاوہ پنجاب اسمبلی کی عمارت کے اندر ڈیانا کی فلمائی گئی کی ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ اسمبلی میں کس مقصد کے لیے گئی تھی اور اسے وہاں رسائی کس شخص کے ذریعے حاصل ہوئی۔ اسی طرح گورنر ہاؤس لاہور میں بھی ڈیانا کی سیر کرنے کی ایک ویڈیو وائرل ہے۔

 

ڈیانا ریپ کیس میں گرفتار مسکان پر الزام ہے کہ اس نے ملزمان سے 30 ہزار روپے وصول کیے تھے تاکہ وہ غیر خاتون کے ساتھ سیکس کر سکیں۔ عدالت میں پیشی پر مسکان نے یہ اعتراف کیا کہ ڈیانا اس کی دوست ہے اور اس نے مرضی سے سیکس کیا تھا۔ تاہم پولیس کی استدعا پر عدالت نے مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا تھا۔ عدالت نے اس کیس میں نامزد دوسری ملزمہ نمرہ کی عبوری ضمانت 5 اکتوبر تک منظور کرتے ہوئے اسے تفتیش میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس طرح پولیس اب مبینہ مرکزی ملزمان کے ساتھ ان افراد کے کردار کا بھی جائزہ لے رہی ہے جن پر ڈیانا سے رابطے، سہولت کاری یا اسے مبینہ طور پر فلیٹ تک پہنچانے کا الزام ہے۔

 

ڈیانا ریپ کیس میں سامنے آنے والی کہانیوں، ویڈیوز، بیانات اور دستاویزات کے درمیان بعض تضادات بھی موجود ہیں جنہیں تفتیشی ادارے شواہد کی روشنی میں جانچ رہے ہیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

 

Back to top button