وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، رولز جاری

 

 

 

 

وفاقی آئینی عدالت کے 126 صفحات پر مشتمل تفصیلی رولز جاری کردیے ہیں، جن میں توہینِ عدالت، نظرثانی درخواستوں، اپیلوں، عدالتی کارروائی میں التوا، وکلا کی اہلیت اور بینچوں کی تشکیل سمیت مختلف امور کےلیے جامع قواعد وضع کیے گئے ہیں۔

آئینی عدالت کی جانب سے جاری کردہ رولز کے مطابق کسی بھی شخص کی درخواست پر توہینِ عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے اور عدالت توہینِ عدالت کا ازخود نوٹس بھی لےسکتی ہے۔

رولز کےمطابق بدنیتی پر مبنی نظرثانی درخواست پر وکیل کےخلاف کارروائی ہوسکتی ہے،نظرثانی درخواست سے قبل 50 ہزار روپے زرضمانت جمع کرانا ہوگا، درخواست خارج یا بےبنیاد قراردی گئی تو زرضمانت ضبط ہوسکتا ہے۔

آئینی عدالت کے رولز میں کہاگیا ہےکہ نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر ہوگی لیکن اگر اصل بینچ کا جج دستیاب نہ ہوتو اسی بینچ کے ججز پر مشتمل بینچ کے سامنے سماعت ہوگی۔

رولز کےمطابق نظرثانی کے حکم کےخلاف مزید نظرثانی درخواست دائر نہیں ہوسکےگی جب کہ ایسی بعد کی نظرثانی درخواست رجسٹری میں بھی قبول نہیں ہوگی۔

رولز کےمطابق سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونےپر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری آگاہ کرےگا اور درخواست کے فیصلےتک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہےگا، جس کےلیے عدالت کے مخصوص حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تاہم اپیل،نظر ثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہوچکی ہوتو سزائے موت کی خودکار معطلی کا یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔

رولز کےمطابق وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوال ہونے پر کسی عدالت میں زیرسماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکے گی،متعلقہ عدالت ریکارڈ فوری یا مقررہ مدت میں وفاقی آئینی عدالت کو بھجوائے گی۔

ریکارڈ موصول ہونے پر رجسٹرار مقدمہ مناسب احکامات کےلیے عدالت کے سامنے پیش کرےگا،فریقین کو سننے کےبعد عدالت انصاف کے تقاضوں کےمطابق مناسب حکم جاری کرسکے گی اور ضرورت پر مصدقہ نقل یا مزید ہدایات کے ساتھ ریکارڈ متعلقہ عدالت کو واپس بھیج سکےگی۔

آئینی عدالت کے رولز کےمطابق رٹ آف ہیبیس کارپس کی درخواست رجسٹری یا برانچ رجسٹری میں دائر ہوگی اور حراست میں لیےگئے شخص کا حلف نامہ درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ہوگا،درخواست میں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اسی ریلیف کے لیے متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا یا نہیں۔

حراست کے باعث زیرحراست شخص حلف نامہ نہ دےسکے تو حقائق سے واقف کسی دوسرے شخص کا حلف نامہ جمع ہوگا،جس میں زیرحراست شخص کے حلف نامہ نہ دینےکی وجوہات بھی بیان کرنا ہوں گی۔

آرٹیکل 175E  شق 3 کے تحت ہیبیس کارپس درخواست 7 دن کے اندر سماعت کےلیے مقرر ہوگی،ہیبیس کارپس درخواست یا آرٹیکل 175E شق 3 کےتحت فوجداری کارروائی پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔

بادی النظر میں ریلیف کا مقدمہ بنتا ہوتو عدالت ابتدائی حکم جاری کرےگی، عدالت متعلقہ شخص کو طلب کر کے مطلوبہ ریلیف نہ دینےکی وجہ بتانے کا حکم دے سکے گی اور غیرقانونی یا نامناسب حراست میں موجود شخص کو اپنے سامنے پیش کرنے کی ہدایت بھی کرسکےگی۔

فوجداری مقدمے میں اپیل کی اجازت کی درخواست فیصلے یا حتمی حکم کی تاریخ سے 60 دن میں دائر ہوگی،فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 کے مقدمات میں سٹیٹ بینک فریق نہ ہوتو اسے بھی نوٹس جاری کیاجائے گا،مقررہ وکیل پیش نہ ہوسکے تو ایڈووکیٹ آن ریکارڈ عدالت کی معاونت اور کارروائی آگے بڑھانےکا پابند ہوگا،التوا استثنائی معاملہ ہوگا اور کسی فریق کا حق نہیں ہوگا۔

رولز کےمطابق مبہم،رسمی، غیرضروری یا کارروائی میں تاخیر کی غرض سے دائر التوا درخواست مسترد کی جاسکے گی،بغیر مناسب وجہ یا محض سہولت اور تاخیر کے لیے التوا مانگنے پر عدالت کارروائی جاری رکھ سکے گی، قانون اجازت دےتو عدم پیروی کی بنیاد پر مقدمہ خارج کیا جاسکےگا، جب کہ قصوروار فریق،وکیل یا ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تلافیاتی اخراجات عائد ہوسکیں گے، حقیقی ہنگامی یا ناقابل اجتناب حالات میں عدالت التوا منظور کرسکے گی۔

بےبنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست پر کم از کم 25 ہزار روپے عدالتی اخراجات جمع کرانےکا حکم دیا جاسکے گا،یہ رقم ضبط یا مخالف فریق کو ادا کی جاسکے گی، رجسٹرار قواعد کےخلاف یا توہین آمیز الفاظ پر مشتمل درخواست وصول کرنے سے انکار کرسکتاہے،اس انکار کےخلاف 14 دن میں جج ان چیمبرز کے سامنے اپیل دائر کی جاسکے گی۔

آرٹیکل 63A کےتحت الیکشن کمیشن کے فیصلے کےخلاف وفاقی آئینی عدالت میں 30 دن کے اندر اپیل دائر کی جاسکے گی،جب کہ ہر اپیل کا فیصلہ دائر ہونے کے 90 دن میں کیاجائے گا۔

رولز کے مطابق آرٹیکل 63A کےتحت یہ حکم متعلقہ آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد کیےگئے فیصلوں پر لاگو ہوگا، جب کہ اس سے متعلق اپیلوں کا اطلاق ترمیم کے نفاذ کےبعد ہونےوالے اگلے عام انتخابات سے ہوگا۔

وفاقی آئینی عدالت میں ہر مقدمے،درخواست یا اپیل میں ہر فریق کو زبانی دلائل کےلیے 10 منٹ ملیں گے،قانون کے اہم سوال پر مشتمل مقدمے میں ہر فریق کو عموماً 30 منٹ زبانی دلائل کا وقت دیاجائے گا،عدالت کی پیشگی اجازت کےبغیر مقررہ وقت سے زیادہ دلائل نہیں دیے جاسکیں گے،مختصر تحریری دلائل سماعت سے کم از کم 2 دن پہلے سافٹ یا سکین شدہ کاپی کے ساتھ جمع کرانا ہوں گے۔

عدالت مقررہ وقت کی سختی سے پابندی یقینی بنائےگی اور مقدمات جلد نمٹانے کےلیے ضروری احکامات جاری کرسکےگی۔

رولز کےمطابق ہر مقدمہ،معاملہ یا اپیل کم از کم 2 ججز پر مشتمل بینچ سنے گا، ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے سے پیدا ہونےوالی اپیل بھی کم از کم 2 ججز کے بینچ کے سامنےمقرر ہوگی،بینچ میں ججز کی رائے برابر تقسیم ہونےپر معاملہ دوسرے جج یا چیف جسٹس کے نامزد بڑے بینچ کو بھیجا جاسکے گا۔

چیف جسٹس اہمیت، پیچیدگی یا عوامی اہمیت کے پیش نظر کسی بھی مرحلے پر بڑا بینچ تشکیل دے سکیں گے، بڑے بینچ میں ججز کی تعداد چیف جسٹس حکم کے ذریعے مقرر کریں گے۔

وفاقی آئینی عدالت کے رولز کے مطابق سینئر ایڈووکیٹس، ایڈووکیٹس اور ایڈووکیٹس آن ریکارڈ کے الگ الگ رول برقرار رکھے جائیں گے، پاکستان بار کونسل کا انرولمنٹ سرٹیفکیٹ پیش کیے بغیر کسی وکیل کو رول پر دستخط کی اجازت نہیں ہوگی،پیشہ ورانہ بدعنوانی یا بدسلوکی پر چیف جسٹس اور ججز وکیل کا نام رول سے خارج کرسکیں گے۔

ایڈووکیٹ کےطور پر انرولمنٹ کےلیے کم از کم 7 سال ہائی کورٹ کا ایڈووکیٹ رہنا لازم ہوگا،ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کو وکیل کی عدالت میں پیش ہونے اور دلائل دینے کی موزونیت کی تصدیق کرنا ہوگی۔

چیف جسٹس اور ججز علم،قابلیت اور تجربے کی بنیاد پر وکلا کو سینئر ایڈووکیٹ نامزد کرسکیں گے،سینئر ایڈووکیٹ کو دیگر وکلا پر ترجیح حاصل ہوگی،جب کہ سینئر ایڈووکیٹ کےلیے انرولمنٹ فیس ایک لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔

وفاقی آئینی عدالت میں تمام مقدمات،درخواستیں،اپیلیں اور نظرثانی درخواستیں مختلف زمروں اور ذیلی زمروں میں تقسیم ہوں گی،رجسٹرار چیف جسٹس کی منظوری سے مقدمات کی فائلنگ،جانچ، رجسٹریشن، فہرست سازی، تقسیم اور شماریاتی انتظام کا جامع شیڈول مرتب کرکے شائع کرے گا۔

 

 

 

Back to top button