اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے انکشاف پر شہباز ن لیگ میں زیر تنقید

نون لیگ کے صدر شہباز شریف کی جانب سے انتخابات 2018 سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل کے لیے درپردہ ملاقاتوں کے اعتراف کے بعد ن لیگ میں دھڑے بندی عیاں ہو گئی ہیں۔
ایک انٹرویو میں شہبازشریف کی جانب سے اس اعتراف کے بعد نواز لیگ کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کے لیے پس پردہ ملاقاتیں نہیں ہونی چاہیے کیونکہ یہ عمل جمہوری روایات، اور آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خاقان عباسی کا شہباز شریف کے طرز عمل پر نکتہ چینی کرنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ نون لیگ میں دھڑے بندی موجود ہے اور شہباز شریف کے خلاف مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال گروپ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ مبینہ طور پر مریم نواز شاہد خاقان عباسی کو پارٹی صدر بنوانے کے لئے لابنگ کررہی ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل شہباز شریف نے سینئیر صحافی سہیل وڑائچ کو دیئے گئے انٹرویو میں اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے مقتدر حلقوں سے درپردہ ملاقاتوں کا اعتراف کیا تھا۔ شہباز شریف کے اس انکشاف نے کہ انتخابات 2018 سے ایک مہینہ پہلے تک وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھرپور رابطے میں تھے، مریم نواز گروپ کو مشتعل کردیا ہے جس سے تعلق رکھنے والے شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے کھل کر شہباز شریف کے فعل پر نکتہ چینی کی ہے۔
واضح رہے کہ شہبازشریف نے دعوی کیا یے کہ ان کا انتخابات 2018 کے نتیجے میں ملک کا وزیراعظم بننا یقینی تھا حتیٰ کہ کابینہ اراکین کے نام بھی فائنل ہو چکے تھے۔ تاہم بعدازاں نواز شریف اور مریم کی جانب سے ووٹ کو عزت دو کا جارحانہ بیانیہ آگے بڑھانے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ نے ناراض ہو کر اقتدار تحریک انصاف کے حوالے کردیا۔
اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اقتدار میں آنے کیلئے پس پردہ ملاقاتیں نہیں ہونی چاہئیں، یہ عمل آئین کی نفی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار سونپنے کا فیصلہ پاکستان کے عوام کو کرنا ہے اور اگر ایسا نہیں ہوگا تو اس کا نقصان ملک کو ہوگا۔ مریم نواز گروپ سے تعلق رکھنے والے
مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے بھی اپنی جماعت کے صدر میاں شہباز شریف کی جانب سے مقتدر حلقوں کے ساتھ بیک ڈور رابطوں سے متعلق واضح طور پر کہا ہے کہ اس حوالے سے کہاکہ پارٹی کی لائن بالکل مختلف بلکہ برعکس تھی۔ پارٹی سطح پر اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ مریم نواز نہیں اپنے چچا اور پارٹی صدر شہباز شریف کی جانب سے مقتدر حلقوں کے ساتھ سازباز کر کے وزیراعظم بننے کے اعتراف سے متعلق فی الحال کوئی ردعمل نہیں دیا تاہم شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کی جانب سے شہباز شریف کے طرز عمل کی مذمت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پارٹی میں واضح دھڑےبندی موجود ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے بھی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ شہبازشریف کے اعتراف کے بعد مریم نواز کی خواہش ہے کہ ان کے چچا کو صدارت سے ہٹا کر شاہد خاقان عباسی جوکہ اس وقت پارٹی کے سینئر نائب صدر ہیں، انہیں پارٹی کا صدر بنا دیا جائے۔ اس طرح پارٹی سے موروثی سیاست کا لیبل بھی اتر جائے گا اور مسلم لیگ نون مکمل طور پر نواز شریف اور مریم نواز کے کنٹرول میں آ جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button