اسٹیبلشمنٹ شہباز حکومت کو زیادہ دیر نہیں چلنے دے گی


معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کو فوری الیکشن پر آمادہ کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے لہذا شہباز حکومت کا زیادہ عرصہ چلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔ انکا کہنا ہے کہ آج نہیں تو کل، اس حکومت کو گھر جانا ہی پڑے گا، کیونکہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن میں تاخیرپر نہیں مانے گی۔ سیٹھی نے کہا کہ آصف زرداری حکومت بچانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کر رہے ہیں اور ساتھ میں اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لے رہے ہیں لیکن ان کی کامیابی کا امکان ففٹی ففٹی ہے، تاہم ایسا کرنے سے ان کو تھوڑا ٹائم ضرور مل جائے گا۔

نیا دور ٹی وی کے پروگرام ”خبر سے آگے” میں سیاسی منظر نامے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ زرداری شاید نواز شریف کو یقین دلا دیں کہ میں معاملات سنبھال لوں گا اور اسٹیبشلمنٹ کو بھی سمجھا دوں گا کہ پلیز ہمیں حکومت چلانے دیں، تاہم اگر اسٹیبشلمںٹ نے ان کو مطلوبہ گارنٹی نہ دی تو پھر زرداری صاحب کہاں جائیں گے؟ نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ زرداری جتنی مرضی کوششیں کرلیں، اسٹیبلشمنٹ کبھی نہیں مانے گی۔ آج نہیں تو کل، اور کل نہیں تو پرسوں، اس اتحادی حکومت کو گھر جانا ہی پڑے گا۔ انکا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس کا خیال تھا کہ اسے ملکی معیشت کو ٹھیک اور سیاسی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے اگلے سال تک مہلت ملی ہے۔ یقیناً یہی بات ان کو اسٹیبشلمنٹ کی جانب سے بھی کہی گئی تھی۔ اسی لئے حکومت نے کابینہ کی تشکیل میں بھی دیر لگائی اور فوری طور پر کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ حتیٰ کے نیب قوانین میں ترمیم اور انتخابی اصلاحات کے حوالے سے جو باتیں کی جاتی رہیں، اس کیلئے بھی کچھ نہیں کیا گیا۔ اتحادیوں کا یہی خیال تھا کہ ہم ڈیڑھ سال کی مدت کیلئے اقتدار میں آئے ہیں اور اسٹیبشلمنٹ کیساتھ تعاون کرتے ہوئے آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے سمیت تمام مشکل فیصلے کریں گے اور سب ادارے اس کی ذمہ داری لیں گے خواہ وہ کتنے ہی ان پاپولر کیوں نہ ہو جائیں۔ حکومتی اتحادیوں کا خیال تھا کہ وہ اس کے بعد ہی عام انتخابات کی طرف جائیں گے۔

لیکن بقول سیٹھی، اتحادیوں کا یہ خیال غلط ثابت ہوا حالانکہ اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ان معاملات پر انڈرسٹیڈنگ کی گئی تھی۔ مسئلہ یہ ہوا کہ اقتدار سے نکلتے ہی عمران خان کی جانب سےنفوجی اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ پر بہت زیادہ دبائو ڈالا جانے لگا۔ اسٹیبشلمنٹ نے شاید سوچا تھا کہ عمران کے جانے کے بعد ان کا اتنا زیادہ پریشر نہیں آئے گا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک تو عمران خان باآسانی آئینی طریقے سے گھر چلے جائیں گے اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کریں گے، خیال کیا جا رہسنتھا کہ عمران ایک دو جلسے کریں گے اور معاملہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن خان پہلے ہی وارننگ دے چکے تھے کہ میں اقتدار سے نکلا تو اور زیادہ خطرناک ہو جائوں گا۔ اب وہ حقیقت میں خطرناک ہو چکے ہیں اور ان کی زبان درازی سے نہ کوئی مخالف محفوظ ہے اور نہ ہی کوئی ادارہ۔ ان کی سوشل میڈیا ٹیم نے جس طرح کے ٹرینڈ چلائے اس سے اسٹیبشلمنٹ پر بہت سخت دباو آیا اور اسے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرنا پڑ گئی۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ جنرل باجوہ کے اپنے لوگوں نے ان کیساتھ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے باقاعدہ غصے کا اظہار اور تنقید بھی کی کہ آپ نے عمران خان کو کیوں نکالا۔ یہ ٹھیک ہے کہ عمران خان کی نااہلی کی وجہ سے ہماری بڑی بدنامی ہو رہی تھی لیکن ان کی جگہ چوروں کو اقتدار میں کیوں لایا گیا؟ لہذا فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ملک میں فوری انتخابات کروانے کا فیصلہ کیا جو کہ عمران خان کا بھی مطالبہ ہے۔ یہی ایک طریقہ ہے جس سے عمران کی زبان بندی کی جا سکتی ہے۔ لہذا اب شہباز حکومت پر فوری الیکشن کی تاریخ دینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

ایک سوال پر نجم کا کہنا تھا کہ آصف زرداری موجودہ حکومت بچانے کیلئے فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کی بھرپور کوششں کر رہے ہیں لیکن انکی کامیابی کا امکان ففٹی ففٹی ہے۔ سیٹھی کا کہنا تھا کہ اگر ڈیڑھ سال کی حکومت کا تجربہ کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا زرداری کو بڑا فائدہ ہو گا۔ ان کے بیٹے کو وزیر خارجہ کا عہدہ مل چکا ہے۔ پہلے انہوں نے امریکا جا کر اپنے تعلقات بنائے ہیں، اب چین جا رہے ہیں۔ زرداری تو ان کو مستقبل کیلئے تیار کر رہے ہیں۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کیساتھ معاہدہ اور ملک کے معاشی مسائل جیسے دیگر معاملات حل کرنے کی بھاری ذمہ داری تو اس وقت اکیلے ن لیگ اوع شہباز شریف کے کاندھوں پر آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ تجربہ بھی ناکام ہو جاتا ہے تو اس کا بھی زرداری کو کوئی نقصان نہیں بلکہ ان کا فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ سندھ میں ان کا اقتدار مضبوط ہے۔

Back to top button