اشتعال انگیز تقریر کیس: متحدہ کے 7 رہنما مختلف مقدمات میں بری

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لندن میں مقیم بانی ایم کیو ایم الطاف حسین کی جانب سے 22 اگست 2016 کو پاکستان مخالف تقریر سے متعلق 21 مقدمات میں ایم کیو ایم کے سینئر رہنماؤں کو بری کردیا۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج نے کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ‘265 کے’ کے تحت موجودہ مقدمات میں بری ہونے والے ایم کیو ایم رہنماؤں کی جانب سے دائر درخواستوں پر رواں ماہ کے آغاز میں اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ جج نے شہر کے مختلف تھانوں میں درج 21 مقدمات میں دائر درخواستوں پر فیصلہ سنایا جن کو عدالت نے مشترکہ مقدمے کی سماعت کےلیے ضم کردیا تھا۔ عدالت نے درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر فاروق ستار، ایم کیو ایم کے سابق ترجمان قمر منصور اور سندھ کے سابق وزیر رؤف صدیقی چند دیگر افراد کو بری کردیا۔ اپنی درخواستوں میں ایم کیو ایم رہنماؤں نے استدلال کیا تھا کہ انہیں ان الزامات میں زبردستی پھنسایا گیا تھا جسے استغاثہ ثابت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے کیونکہ ان کے پاس اس بات کا ثبوت نہیں ہے۔ دوسری جانب سرکاری پراسیکیوٹر نے استدلال کیا کہ ریکارڈ پر کافی مواد موجود ہے جس سے ایم کیو ایم کے بانی کی نفرت انگیز تقاریر میں ایم کیو ایم کے نامزد رہنماؤں اور دیگر افراد کی شمولیت ظاہر ہوتی ہے۔ استغاثہ کے مطابق الطاف حسین جو تقریبا 3 دہائیوں سے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے، نے ملک کے بارے میں متنازع تبصرے کیے تھے اور جولائی 2015 میں اپنی تقریر کے دوران اپنی پارٹی کارکنوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔ یاد رہے کہ 22 اگست 2016 کو ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی جانب سے پاکستان مخالف تقریر اور میڈیا ہاؤس پر حملوں میں سہولت کاری پر فاروق ستار، خالد مقبول صدیقی اور عامر لیاقت حسین سمیت دیگر پر کراچی کے مختلف تھانوں میں مقدمات درج کیے گئے تھے اور عدالت نے متعدد رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔
