افسر شاہی سے چیف الیکشن کمشنر بننے والا مقدر کا سکندر

ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ پہلے ریٹائرڈ بیورو کریٹ ہیں جنھیں چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کی تاریخ میں جتنے بھی چیف الیکشن کمشنر آئے ہیں ان کا تعلق عدلیہ سے رہا ہے حتیٰ کہ سپریم کورٹ کا کوئی حاضر سروس جج ہی قائم مقام چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ دایاں نبھاتا تھا۔
واضح رہے کہ سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار رضا خان گزشتہ برس 5 دسمبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے اور اس کے بعد سے یہ عہدہ خالی تھا اور حکومت اور اپوزیشن کے مابین کسی ایک نام پر اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا.
22ویں آئینی ترمیم میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے دیگر ارکان کی تعیناتی کے لیے صرف عدلیہ کے ریٹائرڈ ججز کی طرف دیکھنا پڑتا ہے جس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے ریٹائرڈ بیورو کریٹس کو بھی ان اہم عہدوں پر تعینات کرنے کی شق منطور کی گئی تھی۔ ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ پانچ سال کے لیے بطور چیف الیکشن کمشنر فرائض سر انجام دیں گے۔ ان کی اہم ذمہ داریوں میں آئندہ آنے والے بلدیاتی انتخابات اور سنہ 2023 میں ہونے والی عام انتخابات شامل ہوں گے۔
ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ پاکستان میں ایک مضبوط، اثرو رسوخ والے بیروکریٹک خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد بھی ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر تھے. جہاں کچھ حلقے انہیں حکومت کے قریب سمجھتے ہیں وہیں کئی لوگ ان کو سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے قریب بھی تصور کرتے ہیں جبکہ بعض ان کے فوجی بیک گراؤنڈ کے حوالے سے بھی خاص رائے رکھتے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کے سُسر سعید مہدی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ کے دور میں چیف سیکریٹری پنجاب اور وزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دور میں پرنسپل سیکرٹری رہ چکے ہیں۔ سکندر سلطان راجہ کی بیگم رباب سکندر بھی ایف بی آر ڈویژن میں 20ویں گریڈ کی افسر ہیں اور کسٹم سروس میں ڈائریکٹر کے طور پر فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ ان کے ایک بھائی فخر وصال سلطان راجہ پولیس سروس میں ہیں اور راولپنڈی میں ریجنل پولیس افسر کے عہدے پر بھی تعینات رہ چکے ہیں جبکہ ان کے ایک برادرِ نبستی عامر علی احمد اس وقت اسلام آباد میں چیف کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں اور حکومت کے چہیتے تصور کیے جاتے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری اور طاقتور بیورو کریٹ سمجھے جانے والے فواد حسن فواد کے بیچ میٹ ہیں۔ ڈپٹی چیئرمین نیب اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قائم کیے گئے قومی قرضہ کمیشن کے چیئرمین حسین اصغر بھی ان ہی کے بیچ میٹ ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ نے زندگی میں جو چاہا سو پایا۔ فوجی سکولوں سے تعلیم پانے کے بعد ڈاکٹر بن گئے۔ پھر سول سروس میں شمولیت اختیار کر لی اور اب اہم آئینی عہدے پر براجمان ہوگئے، رفقاء انہیں مقدر کا سکندر کہتے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ ضلع سرگودھا کے گاؤں بھیرہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد آرمی افسر تھے، وہ میجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ سکندر سلطان نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ جبکہ میٹرک اور ایف ایس سی کیڈٹ کالج حسن ابدال سے کیا۔ اپنے والد کی طرح فوج میں کیریئر بنانے کی بجائے انہوں نے شعبہ طب کا انتخاب کیا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور سے ایم بی بی ایس کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں سول سروس جوائن کرنے کی سوچی تو پنجاب یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعدڈاکٹر سکندر سلطان راجہ نے 1987 میں سی ایس ایس کا امتحان بھی پاس کر لیا اور ڈی ایم جی گروپ میں شامل ہوئے۔ سکندر سلطان راجہ نے کیریئر کا آغاز 1989 میں اسسٹنٹ کمشنر اسلام آباد کی حیثیت سے کیا اور پھر بطور ڈپٹی کمشنر بھی یہیں خدمات انجام دیں۔ اپنی ملازمت کے دوران سکندر سلطان راجہ ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب، صوبائی سیکریٹری مواصلات اینڈ ورکس پنجاب، صوبائی سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی، صوبائی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پنجاب کے اہم عہدے پر فائز رہے۔
نوازشریف دور میں یہ وفاقی حکومت میں ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ سکندر سلطان راجہ کچھ عرصہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چیف سیکریٹری آزاد کشمیر کی خدمات بھی انجام دے چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بطور وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم، ریونیو اور سیکریٹری سیفران بھی خدمات انجام دیں۔ سکندر سلطان راجہ حال ہی میں بطور سیکریٹری ریلوے کے عہدے سے ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ کے زیر التوا کیس کا فیصلہ بھی کرنا ہے جو کہ حکومت کی فراغت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔