افغانستان: صدر اشرف غنی اور عبد اللہ عبد اللہ نے الگ الگ حلف اٹھا لیا

افغانستان میں نو منتخب صدر اشرف غنی اور ان کے سیاسی حریف اور سابق چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبد اللہ نے الگ الگ حلف اٹھا لیا ہے۔
افغانستان میں سیاسی بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب نومنتخب صدر اشرف عنی کی تقریب حلف برداری کے دوران ان کے سیاسی حریف عبداللہ عبداللہ نے بھی ایک متوازی تقریب میں اپنے آپ کو صدر قرار دے کر حلف اٹھا لیا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق کابل کے صدارتی محل میں ہونے والی تقریب حلف برداری میں نومنتخب صدر اشرف غنی نے حلف اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے نام پر حلف اٹھاتا ہوں کہ میں مذہب اسلام کی پاسداری اور حفاظت کروں گا اور آئین کی تکریم اور اس پر عملدرآمد کی نگرانی کروں گا۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اشرف غنی کی تقریب میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد، امریکی سکیورٹی اہلکار، انتظامیہ اور نیٹو اتحاد کے متعدد ممالک کے سفارتکار، بیرون ملک سے آنے والے عمائدین اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔
افغان میڈیا کے مطابق نو منتخب صدر اشرف غنی کی تقریب کے دوران کچھ سیاسی شخصیات نے شرکت نہیں کی، شرکت نہ کرنے والوں میں سابق صدر حامد کرزئی، عبدالرب رسول سیاف، یونس قانونی شامل ہیں۔
دوسری جانب اشرف غنی کے حلف اٹھانے کے چند منٹوں کے بعد ہی عبداللہ عبداللہ نے بھی حلف برداری کی تقریب منعقد کی جس میں انہوں نے اپنے آپ کو نومنتخب صدر قرار دے حلف اٹھایا۔
تقریب حلف برداری کے دوران فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں، اس دوران اشرف غنی جذباتی ہو گئے اور کہا کہ میں نے کوئی بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنی، عام کپڑے پہنے ہیں، یہ سینہ اس ملک اور یہاں کے لوگوں پر قربان ہونےکے لیے تیار ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تقریب حلف برداری کے دوران مشتبہ طور پر دھماکے سنے گئے، حملے راکٹ حملوں کے ذریعے کیے گئے۔
افغانستان کے الیکشن کمشن کی جانب سے ملک کے صدارتی انتخابات کے سرکاری اور حتمی نتائج کا اعلان کیے جانے کے بعد سے وہاں سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ صداتی امیدوار اور گذشتہ دور کے چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو ملک کا صدر قرار دیا ہے اور آج جہاں ایک جانب کابل کے صدارتی محل ارگ میں نومنتخب صدر اشرف غنی کی تقریب حلف برادری جاری تھی تو قریب ہی واقع سپیدار محل جو کہ پہلے افغانستان کے چیف ایگزیکٹو کا دفتر تھا، میں عبداللہ عبداللہ نے بھی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان سے بھی ایک غیر سرکاری سیاسی وفد افغانستان کے نومنتخب صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے وہاں موجود ہے۔ وفد میں قومی اسمبلی کے اراکین اور پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماؤں علی وزیر اور محسن داوڑ کے علاوہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے افراسیاب خٹک، پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر، فیصل کریم کنڈی اور دیگر شامل ہیں۔
خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق ستمبر 2019 میں ہونے والے متنازع انتخاب کے بعد اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ دونوں نے افغان قیادت کے طور پر منتخب ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ امریکا اور طالبان کے درمیان امریکی فورسز کے انخلا سے متعلق معاہدے پر دستخط کے چند روز بعد مذکورہ صورتحال سے سیاسی انتشار پیدا ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
گزشتہ ماہ طالبان سے معاہدے کے بعد امریکا کی جانب سے انخلا کی تیاریوں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے کے بعد اس جھگڑے نے افغانستان کی کمزور جمہویت کے خدشات کو بڑھادیا ہے۔
قبل ازیں واشنگٹن نے خبردار کیا تھا کہ اس تنازع سے امریکی دستبرداری کے معاہدے کو خطرہ ہے جس کے تحت طالبان کو کابل میں مذاکرات کرنے کی ضرورت ہے۔ افغان سیاستدانوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تفرقات کے باعث طالبان کو ان مذاکرات میں بالادستی حاصل ہوجائے گی۔
صدارتی تقاریب کابل میں سخت سیکیورٹی میں منعقد کی گئیں جہاں دونوں حریفوں کی حلف برداری سے گھنٹوں قبل سڑکیں بند کر دی گئیں جبکہ متعدد چیک پوائنٹس بھی قائم کیے گئے تھے۔ صدارتی محل کے میدانوں میں قائم دو الگ الگ مقامات پر درجنوں حامی حلف برداری کی تقاریب میں شریک ہوئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سب کی قیمت حکومت کو ادا کرنی پڑے گی جو دوحہ مذاکرات ختم ہونے کے بعد پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔
خیال رہے کہ فروری میں افغانستان کے الیکٹورل کمیشن نے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر اشرف غنی کی کامیابی کا اعلان کیا تھا لیکن ان کے سخت ترین حریف عبداللہ عبداللہ نے کہا تھا کہ وہ اور ان کے اتحادی انتخاب جیتے ہیں اور اصرار کیا کہ حکومت وہ ہی بنائیں گے۔
