افغان طالبان ایک بار پھرٹی ٹی پی کے محافظ بن گئے

افغان طالبان نے پاکستانی فضائی حملوں سے بچانے کیلئے ٹی ٹی پی کی مرکزی قیادت کو کابل کے سفارتی علاقے میں پناہ دے دی۔ کابل کے انتہائی حساس سفارتی علاقے گرین زون میں مطلوب عسکریت پسندوں اور دہشتگردوں کی موجودگی سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نے نہ صرف افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال بلکہ طالبان حکومت کی بین الاقوامی ساکھ پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ناقدین کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود، عسکری کمانڈر حافظ گل بہادر، بلوچ علیحدگی پسند رہنما بشیر زیب بلوچ اور دیگر مطلوب افراد کی کابل کے سفارتی علاقے میں موجودگی اس بات کی غماز ہے کہ افغانستان واقعی عالمی دہشتگرد تنظیموں کیلئے ایک محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ جو مستقبل میں نہ صرف خطے کے امن بلکہ عالمی سفارتی اور سیکیورٹی مفادات کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ناقدین کے مطابق افغان طالبان حکومت کابل کے انتہائی حساس علاقے گرین زون میں متعدد مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مطلوب دہشتگردوں کو افغان حکومت کی جانب سے کابل کے سفارتی علاقے وزیر اکبر خان اور گرین زون کے مختلف ایسے حصوں میں محفوظ ٹھکانے مہیا کئے گئے ہیں، جنھیں غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی اداروں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصرکی سفارت خانوں اور عالمی اداروں کے دفاتر کے قریب موجودگی ایک سنگین سیکیورٹی مسئلہ بن چکی ہے۔ اسی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر صورتحال واضح نہ ہوئی تو کئی غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے یا اپنے عملے کو محدود کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ اور بعض بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کے حکام نے بھی اس حوالے سے غیر رسمی رابطوں میں طالبان حکام کے سامنے اپنی تشویش کا اظہار کر دیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ سفارتی زون میں عالمی سطح پر مطلوب افراد کی موجودگی بین الاقوامی سفارتی اصولوں اور سیکیورٹی انتظامات کے منافی ہے۔
ناقدین کے مطابق یہ صورتحال اس لیے بھی زیادہ حساس بن جاتی ہے کیونکہ ماضی میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی کابل میں موجودگی نے بھی طالبان حکومت کے لیے سفارتی مشکلات پیدا کی تھیں حالانکہ طالبان اور امریکا کے درمیان 2020 میں ہونے والے دوحہ معاہدے کے تحت طالبان نے عالمی برادری کو یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی بین الاقوامی دہشتگرد تنظیم کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تاہم بعد میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل کے حساس علاقے وزیر اکبر خان میں مقیم تھے اور 2022 میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعے نے طالبان کے اس دعوے پر سوالات کھڑے کر دیے تھے کہ افغانستان کسی دہشتگرد تنظیم کی پناہ گاہ نہیں بنے گا۔ ناقدین کے مطابق موجودہ اطلاعات اسی خدشے کو ایک بار پھر تقویت دے رہی ہیں کہ القاعدہ اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ طالبان کے روابط مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے بلکہ افغان حکومت اب بھی ان کی سہولت کار بنی ہوئی ہے۔
اسی دوران یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کو کابل کے صدارتی محل کے قریب دیکھا گیا ہے۔ اگرچہ اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اس طرح کی اطلاعات نے یہ سوال ضرور اٹھا دیا ہے کہ آیا افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط بدستور موجود ہیں۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق ٹی ٹی پی ملک میں متعدد خودکش حملوں اور دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ دار رہی ہے۔ اس تناظر میں اگر اس کے رہنماؤں کی افغانستان میں موجودگی ثابت ہوتی ہے تو یہ اسلام آباد اور کابل کے تعلقات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
کابل میں موجود سفارتی حلقوں کے مطابق اگر گرین زون جیسے حساس علاقے میں مطلوب عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو اس کے سفارتی اثرات انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال غیر ملکی سفارت خانوں اور بین الاقوامی اداروں کے عملے کی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے کئی ممالک نے اپنے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے یا کابل میں اپنی سرگرمیوں کو محدود کرنے پر غور شروع کر دیا۔
امریکہ کے خلاف ایران کی منفرد جنگی سٹریٹجی کیا ہے ؟
دوسری جانب افغانستان کے عبوری وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی کے اراکین کو پناہ گزین قراردے دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی اراکین دہشتگرد نہیں بلکہ اپنے ممالک سے بھاگ کر آنے والے افراد ہیں جنھیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دی گئی ہے حالانکہ پاکستان سمیت متعدد ممالک اور عالمی ادارے ٹی ٹی پی کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ٹی ٹی پی قیادت کی کابل کے سفارتی علاقے میں موجودگی کی اطلاعات درست ثابت ہوئیں تو اس سے طالبان حکومت کی بین الاقوامی سطح پر قبولیت کی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے جبکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں اضافہ سرحدی جھڑپوں اور طویل عسکری تنازع کا سبب بن سکتا ہے، جس سے عسکریت پسند گروہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر افغانستان ایک بار پھر مختلف عسکریت پسند گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بنتا ہے تو یہ صورتحال نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک نیا سیکیورٹی چیلنج بن سکتی ہے۔
