’’امتحانات میں کامیابی کیلئے 100 میں سے 40 نمبرز ضروری قرار‘‘

انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن کی جانب سے امتحانات میں کامیابی کے لیے طلبا کیلئے 100 میں سے 40 نمبرز کو ضروری قرار دے دیا گیا ہے، اس سے قبل 100 میں سے 33 نمبرز لینے والے کو پاس قرار دیا جاتا تھا۔آئی بی سی سی کے اس فیصلے کے مطابق اب امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں پر مجموعی گریڈ پوائنٹ اوسط یعنی (سی جی پی اے) نکال کر گریڈنگ کی جائے گی، آئی بی سی سی کے چیئرمین ڈاکٹر غلام علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم نے پاسنگ مارکس 40 اس لیے کیے تاکہ بچوں کو زیادہ محنت کرنی پڑے جس سے تعلیمی کارکردگی میں بہتری نظر آئے گی، پہلے بچوں کا ہدف 33 نمبر ہوتا تھا، اب 40 ہوگا، یونیورسٹیز 45، 50 اور 60 فیصد والوں کو داخلہ دے رہی ہیں۔اس تبدیلی پر رواں سال عملدرآمد ہوگا اور 2023 میں ہونے والے نویں اور 11ویں جماعت کے امتحانی نتائج جو 2024 میں آئیں گے ان پر یہ لاگو ہوگا، جبکہ اگلے برس سے یہ دسویں اور بارہویں جماعتوں پر بھی لاگو ہو جائے گا، اس کے بعد ہائبرڈ سسٹم چلے گا اور 2025 میں نویں سے بارہویں جماعت تک مکمل طور پر گریڈنگ سسٹم پر چلا جائے گا۔ڈاکٹر غلام کے مطابق سب سے زیادہ جی پی اے 95 سے 100 فیصد نمبروں پر پانچ رکھا ہے اور گریڈ اے پلس پلس ہوگا۔اسی طرح تین پوائنٹس کم کیے جاتے رہیں گے اور 90 سے 95 فیصد نمبروں پر 4.7 جی پی اے ملے گا اور گریڈ اے پلس ہوگا۔ 90 سے 85 فیصد نمبروں پر4.3 جی پی اے اور گریڈ اے،85 سے 80 فیصد نمبروں پر 4 جی پی اے اور گریڈ ڈبل پلس بی ہوگا۔80 سے 75 فیصد نمبروں پر 3.7 جی پی اے ملے گا اور گریڈ بی پلس ہوگا، 75 سے 70 فیصد نمبروں پر جی پی اے 3.3 اور بی گریڈ، 70 سے 60 پر جی پی اے 3 ہو گا اور سی گریڈ ملے گا۔60 سے 50 پر سی جی پی اے 2 ہو گا اور گریڈ ڈی ہوگا، 50 سے 40 پر جی پی اے ایک ہوگا اور گریڈ ای ملے گا۔ڈاکٹر غلام کا کہنا تھا کہ اس نظام کے تحت دو امتحان متعارف کروائے جا رہے ہیں، پہلا فائنل امتحان جو مارچ – اپریل میں ہوگا اور پھر دوسرا فائنل امتحان جو ستمبر- اکتوبر میں ہوگا اگر کوئی بچہ پہلے فائنل امتحان میں رہ جاتا ہے تو وہ دوسرے میں اس کا امتحان دے سکتا ہے، اس طرح اس کے رزلٹ میں سپلیمنٹری امتحان نہیں لکھا جائے گا، راولپنڈی کے ایک سرکاری سکول کی سابقہ پرنسپل ثمینہ شکور کے خیال میں ’امتحان میں پاس ہونے کے لیے 40 فیصد نمبر حاصل کرنے کا فیصلہ درست ہے، انہوں نے بظاہر پرسنٹیج کو بہتر سمجھا لیکن ساتھ ہی کہا کہ ایف ایس سی کے بعد جتنی بھی بڑی ڈگریز ہیں ان میں جی پی اے ہی دیکھا جاتا ہے۔زریں اسے ایک مثبت فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اگر آپ نجی تعلیمی اداروں یا او اور اے لیولز والوں کو دیکھیں تو وہاں 50 فیصد والا پاس ہوتا ہے تو پبلک سیکٹر میں امتحان پاس کرنے کیلئے کم از کم 40 فیصد نمبر لینا تو ضروری ہونا چاہئے، بلال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پبلک کالجز یا سکولز میں میرٹ پر ایک ایک نمبر پر لڑائی ہوا کرتی تھی مثلاً ایک طالب علم نے 1100 میں سے 550 نمبر لیے ہیں یعنی 50 فیصد نمبر تو اس کا نام تو میرٹ لسٹ کے آخر میں آ گیا لیکن 549 والا داخلہ لینے سے رہ گیا۔
