انڈیا نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کیسے کی؟ کہانی کھل گئی

 

 

 

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے پاکستان کے اس مؤقف کی تصدیق کر دی ہے کہ مئی 2025 میں پاک بھارت سرحدی اور فضائی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے لیے پہل بھارت نے کی اور نئی دہلی نے امریکہ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 10 مئی کو جنگ بندی کے اعلان سے قبل واشنگٹن میں امریکی لابیئسٹ جیسن ملر کے ذریعے امریکی انتظامیہ کے چار سینیئر حکام سے براہِ راست رابطہ کیا اور ان سے جنگ بند کرانے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

 

بی بی سی کے مطابق اس روز بھارتی سفارتکاروں نے امریکی محکمہ تجارت کے نمائندے جیملسن گریر، نیشنل سکیورٹی کونسل کے ریکی گل، وائٹ ہاؤس کے سٹیون چنگ اور چیف آف سٹاف سوزی وائلز سے فون پر بات چیت کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ رابطے جنگ بندی کے اعلان سے عین پہلے ہوئے اور ان کا مقصد پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے لیے امریکی کردار حاصل کرنا تھا۔ لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ انکشاف کیا کہ بھارتی حکام نے جنگ بندی کے لیے ان کی انتظامیہ سے رابطہ کیا تھا تو نئی دہلی نے سرکاری طور پر اس کی تردید کر دی۔ بی بی سی کے مطابق اسی تردید پر صدر ٹرمپ ناراض ہوئے اور تب سے ان کے اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے۔

 

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق مئی 2025 میں جب ایک جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی اور فضائی جھڑپیں جاری تھیں، وہیں ہزاروں میل دور واشنگٹن میں ایک اور محاذ سرگرم تھا۔ میزائل اور ڈرون حملوں سے ہٹ کر اس محاذ پر دونوں ممالک نے لابنگ فرموں کے ذریعے امریکی پالیسی سازوں، کانگریس اور میڈیا میں اپنے اپنے بیانیے کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔

بی بی سی نے امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت جمع کرائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا، جن سے پتا چلتا ہے کہ مئی کی کشیدگی کے دوران پاکستان اور بھارت دونوں نے واشنگٹن میں بھرپور لابنگ مہم چلائی۔ ان دستاویزات کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی لابیسٹس تک رسائی حاصل کی گئی اور میڈیا و کانگریس میں مؤقف پیش کرنے کے لیے امریکی پی آر اور لابنگ کمپنیوں کی خدمات لی گئیں۔

 

دستاویزات کے مطابق پاکستان نے جنگی بحران کے دوران امریکی اثر و رسوخ کو ایک اہم سفارتی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔ اسلام آباد نے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے بھارتی فضائی حملوں کی مذمت کی جن میں 40 عام شہری جاں بحق ہوئے، جبکہ یہ بھی کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ بھارت کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی مبینہ حمایت ہے۔

پاکستان نے واضح کیا کہ اگر اس پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو وہ اپنے عوام اور علاقے کا دفاع کرے گا، تاہم اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، پانی کے معاہدوں اور دیگر تنازعات پر بھارت سے بات چیت کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

 

دوسری جانب بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کا کوئی کردار نہیں تھا، لیکن امریکہ کی سرکاری دستاویزات میں سامنے آنے والی تفصیلات اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق 10 مئی کو امریکی محکمہ تجارت کے نمائندے سے رابطہ اس پس منظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ صدر ٹرمپ خود یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے تجارت روکنے کی وارننگ دے کر دونوں ممالک کو جنگ بندی پر آمادہ کیا تھا۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ونود شرما کے مطابق اگرچہ بھارتی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جنگ بندی کسی کے کہنے پر نہیں ہوئی، تاہم اب سامنے آنے والے شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی مداخلت نے کلیدی کردار ادا کیا۔

 

امریکی اٹلانٹک کونسل کے سینیئر فیلو مائیکل کوگلمین کے مطابق پاکستان نے بھی بھارت کی طرح واشنگٹن میں نہایت بااثر لابیئسٹس کے ذریعے اپنے مفادات کو مؤثر انداز میں پیش کیا۔ ان کے بقول ٹرمپ انتظامیہ میں ذاتی اور خاندانی نیٹ ورکس کی اہمیت کے باعث ایسے لابیئسٹس کی طاقت غیر معمولی سمجھی جاتی ہے۔

تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ لابنگ کے ساتھ ساتھ ایک بڑی وجہ جوہری کشیدگی کا خطرہ بھی تھا۔ دنیا جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ممالک کو آمنے سامنے لڑتے نہیں دیکھنا چاہتی تھی، اسی لیے امریکہ سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے کردار ادا کیا۔

بھارت کا دہشت گردی پر مبنی من گھڑت بیانیہ حقائق نہیں چھپا سکتا،دفترخارجہ

واشنگٹن میں ڈان اخبار کے نمائندے انوار اقبال کے مطابق ایک وقت تھا جب پاکستان کو امریکی دارالحکومت میں نظرانداز کیا جاتا تھا، مگر اب اس کی بات سنی جا رہی ہے۔ ان کے بقول میڈیا، کانگریس اور پینٹاگون میں پاکستان کی موجودگی واضح ہے، جبکہ بھارت کو اب بھی برتری حاصل ہونے کے باوجود سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے اس بحران کے دوران اپنا موقف مؤثر انداز میں پیش کی، اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کو پاکستان کے بیانیے کا مقابلہ کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ مختصر یہ کہ مئی 2025 کی جنگ میں سفارتی اور لابنگ محاذ بھی اتنا ہی اہم تھا جتنا زمینی اور فضائی معرکہ، اور اس محاذ پر پاکستان نے اپنے مؤقف کو عالمی سطح پر نمایاں کرنے میں قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی۔

Back to top button