اٹلی میں ڈیڑھ کروڑ افراد کو قرنطینہ کردیا گیا

کورونا وائرس کی صورت یورپ میں شدت اختیار کرتی جارہی ہے وائرس سے متاثرہ ملک اٹلی نے اپنے شمالی خطے کے ایک کروڑ 60 لاکھ افراد پر قرنطینہ کو لازمی قرار دیا ہے جس میں میلان اور وینس جیسے شہر بھی شامل ہیں تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کو سست کیا جاسکے۔
اٹلی کے حکام کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ایک ہی دن میں 133 اموات ہوئی ہیں اور مجموعی اموات کی تعداد 366 ہوگئی ہے جب کہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی غرض سے حکومت نے اپنے لگ بھگ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ شہریوں کو قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔
شہری حفاظت سے متعلق ایجنسی کا کہنا ہے کہ وائرس سے متاثرین کی تعداد 5883 سے 7375 تک پہنچ گئی ہے۔
اب قرنطینہ کے نئے اصولوں کے تحت عائد کی گئی پابندی کے بعد لمبارڈی سمیت ملک کے شمال اور مشرق میں واقع 14 صوبوں کے رہائشیوں کو سفر کرنے سے قبل خصوصی اجازت نامے کی ضرورت ہو گی۔ اٹلی کے شہر میلان اور وینس بھی متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔
اٹلی کے وزیراعظم نے ملک بھر میں اسکولوں، میوزیم، نائٹ کلب، جم اور دیگر بہت سے عوامی مقامات کو غیر معینہ مدت کےلیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔قرنطینہ کا یہ دورانیہ تین اپریل تک جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ اٹلی یورپ کا وہ ملک ہے جہاں کورونا وائرس کی وبا کی شدت سب سے زیادہ ہے، اب تک 6 ہزار کے قریب افراد میں اس وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی تشخیص ہوچکی ہے جب کہ 233 اموات ہوئی ہیں، جو ایشیاء سے باہر سب سے زیادہ ہیں۔ صرف ہفتے کو ہی 12 سو کے قریب نئے کیسز کی تشخیص ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button