اپنی گرل فرینڈ پر قاتلانہ حملے کے بعد بابر اعظم مزید مشکل میں

لاہور کی ایک خاتون رہائشی کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا کرنے والے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم مزید مشکلات میں گھرتے نظر آتے ہیں کیوں کہ اب اس خاتون نے کرکٹر کے ایما پر خود پر قاتلانہ حملہ کرائے جانے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کپتان بابر اعظم کی گرل فرینڈ ہونے کی دعوے دار اور جنسی ذیادتی کا الزام لگانے والی خاتون حامزہ مختار کی گاڑی پر دو موٹر سائیکل سواروں نے اس وقت فائرنگ کی جب وہ نجی کام سے گھر واپس آ رہی تھیں۔ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر چار فائر کیے تاہم وہ خوش قسمتی سے محفوظ رہیں۔ حامزہ مختار نے بتایا کہ وہ پراپرٹی کے کام کے سلسلے میں کاہنہ تک آئی تھیں جہاں سے واپسی پر ملزمان نے ان تعاقب شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان نے جیسے ہی ان کے قریب آ کر پستول نکالی تو انہوں نے اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دی جس پر حملہ آوروں نے فائرنگ کردی اور 4 فائر کیے لیکن وہ نیچے جھک جانے کی وجہ سے محفوظ رہیں۔ حامزہ کے مطابق حملہ آوروں نے گاڑی آہستہ ہونے پر پہلے گالیاں دیں اور کہا کہ گاڑی کس طرح چلا رہی ہو۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو حامزہ اپنی گاڑی میں بیٹھی رو رہی تھیں، جس کے بعد پولیس کو بلایا گیا۔ گاڑی پر تین گولیاں لگنے کے نشانات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے کافی دنوں سے دھمکیاں مل رہی تھیں جس کی میں نے پولیس میں شکایت بھی کی تھی کہ مجھے دھمکی آمیز فون اور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ خاتون نے وزیر اعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ ان کے مقدمے کو خود دیکھیں اور انہیں تحفظ فراہم کریں کیوں کہ ان کی جان کو بہت خطرہ ہے۔ خاتون نے گزشتہ روز حملے کے خلاف کاہنہ پولیس اسٹیشن میں آن لائن شکایت بھی درج کرائی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انہیں جان سے مارنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کوشش کے پیچھے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے موجودہ کپتان بابر اعظم کا ہاتھ ہے ۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حامزہ نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بابر اعظم پر جنسی ذیادتی سمیت سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت میں ایک علیحدہ درخواست دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ قومی کرکٹر بابر اعظم کے اہل خانہ انہیں ہراساں اور دھمکیاں دے رہے ہیں۔ اس درخواست پر عدالت نے ہفتے کو فیصلہ سناتے ہوئے بابر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو حامزہ مختار کو ہراساں کرنے سے روک دیا تھا۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار نے اندراج مقدمہ کےلیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ حامزہ مختار نے سی سی پی او لاہور کو درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانا شروع کیا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعد ازاں انہوں نے ملزم کے دباو پر اسقاط حمل بھی کروایا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔ درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔
اس سے قبل گزشتہ ہفتےحامزہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مؤقف اپنایا تھا کہ 2010 میں بابر اعظم نے انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کرچکے تھے لہٰذا ہم نے اپنے خاندانوں کو آگاہ کیا لیکن دونوں کے خاندانوں نے صاف انکار کیا جس کے بعد بابر اعظم اور میں نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2011 میں بابر اعظم مجھے کورٹ میرج کا کہہ کر میرے گھر سے بھگا کر لے گیا اور ہم مختلف مقامات پر کرائے کے مکانوں میں قیام پذیر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصرار کے باوجود بابر اعظم نے ان سے نکاح نہیں کیا اور دعویٰ کیا کہ 2014 سے پہلے نوکری کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنا سیلون کھولا جس سے وہ کرکترز کے اخراجات برداشت کرتی رہیں۔ حامزہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 2014 میں جب بابر اعظم کا نام پاکستانی کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ آہستہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا تھا، میں 2016 میں حاملہ ہوگئی تھی جب میں نے بابر اعظم کو بتایا تو سن کر ان کا رویہ بہت عجیب ہوگیا، مجھے مارا پیٹا اور میں ان کے اصرار پر اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بالآخر تنگ آکر 2017 میں، میں نے بابر اعظم کے خلاف پولیس رپورٹ کی اور شکایت دیکھنے والے افسر نے بابر اعظم کو پیش کرنے کا کہا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے تھے لیکن اسی رات بابر اعظم نے اس افسر کے سامنے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کروائے تھے، جس میں شرط یہ طے کی گئی تھی کہ بابر مجھ سے شادی کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 10 روز قبل میں نے ان کے خلاف دوبارہ شکایت درج کروائی، 20 نومبر کو بابراعظم نے بیرون ملک جانے سے قبل مجھے فون کرکے کہا تھا کہ اگر تم پولیس کے پاس گئی یا اب شادی کا مطالبہ کیا تو تم جان سے جاؤ گی اور تمہیں یہ بھی نہیں پتا کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا’۔ حامزہ کا کہنا تھا کہ ’10 سال تک حد سے زیادہ زیادتی کے بعد اب میں یہاں انصاف کےلیے آئی ہوں لیکن بابر اعظم پولیس پر بھی دباو ڈال رہا یے’۔
