اپوزیشن کو حکومت مخالف تحریک کی کامیابی کا یقین کیوں ہے؟


پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کی پے درپے ناکامیوں کے باوجود انکی حکومت کا ساتھ دینے کے باوجود اپوزیشن جماعتیں اس یقین کا اظہار کر رہی ہیں کہ وہ اس مرتبہ اپنی تحریک کے ذریعے حکومت کو گھر بھیجنے میں کامیاب ہوجائیں گی۔ دوسری طرف حکومتی حلقے یہ جاننے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ اپوزیشن اس مرتبہ حکومت گرانے کے بارے میں اتنی پرامید کیوں ہے؟
یاد رہے کہ 10ستمبر کو اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے حکومت مخالف فیصلہ کن تحریک چلانے کے لئے میدان میں آ گئی ہیں اور مارچ میں سینیٹ انتخابات سے قبل حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے پر عزم ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں کرپشن کے الزامات، غداری کے مقدمات، نیب کے ذریعے گرفتاریوں اور جبری پابندیوں کے باوجود مصر ہیں کہ وہ حکومت سے نجات حاصل کر کے رہیں گے اب کوئی بھی طاقت ان کی تحریک کو نہیں روک سکتی۔ مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز نے تو واضح کر دیا ہے کہ اب فیصلے ڈرائنگ روم میں نہیں عوامی عدالت میں ہوں گی۔
اپوزیشن اتحاد کے بقول ملک میں عوام کے آئینی حقوق سلب جبکہ آزادی اظہار رائے جبری پابندیوں کا شکار ہے اور پاکستانی عوام کو آزادی دلوانے کے لیے انہیں سڑکوں پر آنا ہوگا۔ دوسری طرف اسلام آباد میں 126 دن کا طویل دھرنا دینے اور پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کرنے والے وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کے احتجاج کا آئینی حق ماننے کو تیار نظر نہیں۔ اپوزیشن کی 11 جماعتوں کی طرف سے حکومت مخالف احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان کے بعد سے جہاں وفاقی وزراء اورحکومتی ترجمانوں کی طرف سے اپوزیشن بالخصوص نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف بیانات کے ذریعے تابڑ توڑحملے جاری ہیں، وہیں پیمرا کے ذریعے نواز شریف کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی عائد کرتے ہوئےغداری کے مقدمات درج کرا کے دبانے کا دہائیوں پرانا حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنماؤن کا ماننا ہے کہ اس گھسے پٹے حربے کا انجام بھی وہی ہوگا جو ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب ملک میں پارلیمان، عدالتیں اور تمام ریاستی ادارے کام کر رہے ہیں تو اپوزیشن کے احتجاج کے جمہوری حق کو دبانے کیلئے غداری کے مقدمات دائر کرنے کے راستے کا انتخاب افسوسناک ہے حالانکہ تحریک انصاف خود 126 دن کا طویل ترین دھرنا دے کر احتجاج کے حق کو انتہائی موثر طریقے سے استعمال کر چکی ہے۔ لہذا اسے اپوزیشن کے اس جمہوری حق پہ پابندیاں عائد کرنے کی بجائے ان عوامل پہ غور کرنا چاہئے جس کے باعث صرف پچیس ماہ بعد ہی اپوزیشن کو یہ راستہ اختیار کرنا پڑا ۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت ملکی صورتحال پہ نظر ڈالی جائے تو تمام اعدادوشمار 2018کے مقابلے میں بد تر ہوتے نظر آتے ہیں،مہنگائی نے غریب تو کیا متوسط طبقے کی بھی عملی طور پہ چیخیں نکلوا دی ہیں ۔ادویات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافے سے غریب اور متوسط افراد کی شرح اموات کو تیز تر کرنے کا پورا بندوبست کر دیا گیا ہے جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی جلد متوقع ہے
اسی طرح بیروزگاری کی شرح میں کرونا سے قبل ہی پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا تھا۔ آخری اکنامک سروے کے مطابق، زراعت سے صنعت تک ہر شعبے میں ترقی کی شرح بدترین گراوٹ کا شکار ہوئی ہے۔ حکومتی اکابرین جس وقت معیشت کی بتدریج بحالی کی نوید سنا رہے ہوتے ہیں تو دوسری طرف چینلز پہ روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مزید گرنے کی خبریں چل رہی ہوتی ہیں، تجزیہ کاروں کے مطابق امن و امان کی ابتر صورتحال کا یہ عالم ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں دن دہاڑے ڈکیتیاں اور چوریاں ہو رہی ہیں، ملک بھر میں خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ، مختلف علاقوں میں دہشت گردی کا عفریت دوبارہ سر اٹھانے لگا ہے جبکہ لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کا لاوا پھر سے دہکنے لگا ہے۔اس ساری صورتحال میں وزراء اور ترجمانوں کے بیانات جس لا پروائی اور بے حسی کی عکاسی کر رہے ہیں، وہ اپوزیشن کی احتجاجی تحریک کو بھڑکانے کے مترادف ہے ۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا کیونکہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی قیادت کو سیاست سے ہمیشہ کیلئے نکال باہرکرنے کے جس فارمولے پہ عمل درآمد جاری ہے وہ اس فامرولے کوقطعی قبول نہیں کر سکتے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے باقی افراد کے خلاف مقدمات اور عدالتوں سے سزاؤں کے حکومتی بیانیے کو احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی برطرفی سے بری طرح زک پہنچ چکی ہے جس سے احتساب اور انصاف کا پورا نظام مشکوک ہو چکا ہے، اس صورتحال میں نواز شریف کی نااہلی، سزا، مفروراور اشتہاری قراردینے کی کارروائی نے سابق وزیر اعظم کو اپنا لہجہ اس قدر تلخ کرنے پہ مجبور کر دیا ہے کہ وہ ساری کشتیاں جلا کرانہونی کو ہونی میں تبدیل کرنے پہ اتر آئے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو جب تک بیک ڈور رابطوں کے ذریعے انگیج رکھا گیا وہ بھی لچک کا مظاہرہ کرتے رہے اور نہ صرف شہباز شریف کے مفاہمتی بیانیے کو آزمانے کیلئے خود طویل عرصہ خاموش رہے بلکہ انہوں نے جارحانہ سیاست شروع کرنے والی اپنی صاحبزادی مریم نواز کو بھی مصلحت سے کام لینے پہ قائل کیے رکھا۔ لیکن جب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نواز شریف کی جانب سے کھلی جنگ کا اعلان کردیا گیا ہے تو انہوں نے دوبارہ مزاحمت کا علم بلند کر دیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت مخالف فیصلہ کن تحریک کیلئے میدان عمل میں موجودگی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں ایک طرف انہوں نے اپنے بیانیے سے اختلاف کرنے والے پانچ ایم پی ایز کو فوری پارٹی سے نکالنے کا حکم دیا وہیں خواجہ آصف کے سابق صدر آصف زرداری سے متعلق بیان سے بھی لاتعلقی اور برہمی کا اظہار کیا جس کے باعث خواجہ آصف کو معذرت کرنا پڑی جبکہ اپنے عزائم کی پختگی کے اظہار کیلئے پہلے دن سے حکومت کو تسلیم نہ کرنے والے مولانا فضل الرحمٰن کو پی ڈی ایم کا سربراہ بنوادیا۔ جس سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن اس بار واپسی کی تمام کشتیاں جلا کر میدان عمل میں اترنے کا عزم کر چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طرف مسلم لیگ ن حکومت مخالف تحریک کو اپنے انجام تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہے تو دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت بھی مولانا کی امامت میں چلنے پہ تیار ہو چکی ہے جبکہ اپوزیشن میں شامل دیگر جماعتوں کا مفاد بھی موجودہ حکومت کے خاتمے سے وابستہ ہے، اپوزیشن کے احتجاج کی ٹائمنگ میں سب سے اہم پہلو مارچ میں ہونے والا سینیٹ الیکشن ہے کیونکہ اسے بخوبی ادراک ہے کہ اگر موجودہ سیٹ اپ میں یہ الیکشن ہو گئے تو پھران پر سیاست کی زمین تنگ کر دی جائیگی۔ ان حالات میں اگر وزراء اور حکومتی ترجمان، بالغ نظری اور مصلحت پسندی سے کام لینے کی بجائے اپوزیشن کو ایسے ہی اشتعال دلاتے رہے تو آنے والا ہر دن سیاسی کشیدگی میں اضافہ کرے گا ۔ اگر اپوزیشن اپنے کارکنوں کے ساتھ عوام کو بھی سڑکوں پہ لانے میں کامیاب ہو گئی تو پھر ثالثی بھی کام نہیں آئے گی اور حکومت اور پس پردہ قوتوں کو سوائے ہزیمت کے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button