ایران کا اسرائیل پر حملہ ریاست کی طرف سے ریاست پر حملہ ہے، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں : امریکی محکمہ خارجہ

امریکی محکمہ خارجہ کےترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ ایران کا اسرائیل پر حملہ ریاست کی طرف سے ریاست پر حملہ ہے، امریکا ایرانی حملوں کے خلاف اسرائیل کےساتھ کھڑا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کےترجمان میتھیو ملر نے نیوز بریفنگ میں کہاکہ ایران کے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملےسے آگاہ ہیں، ایران نے اسرائیل پر 200 میزائل داغے۔ترجمان کاکہنا تھاکہ ایران نے اسرائیل پر حملے کا پہلےنہیں بتایا، ایران کاحملہ ریاست کی طرف سے ریاست پر حملہ ہے، ایران نے براہ راست حملہ کیاہے۔انہوں نےکہا کہ اسرائیل پر ایرانی میزائل حملے دہشت گردی ہے،اسرائیل پر ایرانی حملہ قابل مذمت ہے،دنیا ایران کی مذمت میں ہمارا ساتھ دے،ہم ایرانی حملوں کےخلاف اسرائیل کےساتھ کھڑے یں۔

امریکی ترجمان میتھیوملر کاکہنا تھاکہ اسرائیل کو اپنےدفاع کا حق حاصل ہے، ایران کوحملے کےسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ترجمان نےکہا کہ خطےمیں شراکت داروں سےرابطہ ہے، ایران دہشت گردوں کی جماعت ہے،ایران برسوں سے دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی کررہا ہے،ایران مشرق وسطیٰ میں دہشت گرد گروپوں کو فنڈنگ بھی کررہا ہے۔ان کاکہنا تھاکہ لبنان کچھ عرصہ سےعدم استحکام کا شکار ہے، ہمارےمفاد میں جو بہتر ہوگا، وہ کریں گے،ہوسکتا ہے امریکی صدر جنگ بندی کی نئی تجاویز دیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کےترجمان میتھیو ملر نےکہاکہ حماس کےحملے پر کہاتھا کشیدگی پورے خطے میں بڑھے گی، حماس کےمذاکرات پر راضی نہ ہون سے سیز فائر نہیں ہوسکا۔

دوسری جانب  امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے لبنان میں اسرائیل کے زمینی حملوں کے آغاز کےچند گھنٹوں بعد ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملوں کےجواب میں کہاکہ واشنگٹن مشرق وسطیٰ میں اپنےمفادات کے دفاع کےلیے پوری طرح تیاری ہے۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کےسربراہ لائیڈ آسٹن نے ایران کی جانب سے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل حملوں کےجواب میں اسرائیل کےدفاع کی تعریف کی۔آسٹن نے کہا میں نے اسرائیل کےخلاف ایران کے اشتعال انگیز اقدام کےبعد اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سےفون پر بات کی ۔انہوں نے کہاکہ ٹیلی فونک گفتگو میں ایران کی جانب سےداغے گئے تقریباً 200 بیلسٹک میزائلوں کےخلاف اسرائیل کے مربوط دفاع کی تعریف کرتےہوئے امریکا اور اسرائیل کے تعاون کو جاری رکھنےپر زور دیا۔

یاد رہےکہ رات گئے ایران کی جانب سے لبنان میں اپنی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کےخلاف اسرائیل کے حملے کا بدلہ لینے کےلیے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغے گئےتھے۔

اسرائیلی فوج نےکہا تھاکہ ایران سے بیلسٹک میزائل فائر کیےگئے ہیں، ہمیں امریکا نے ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل حملے سےخبردار کیا تھا اور ایران کی جانب سے میزائل حملےکے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

واشنگٹن نے ایران کے حملے کو غیر موثر قرار دیتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ ملکر تہران کے خلاف جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔

بعد ازاں، پینٹاگون کی جانب سےجاری بیان میں کہاگیا کہ امریکی وزیر دفاع نےاپنے اسرائیلی ہم منصب سےگفتگو میں کہاکہ واشنگٹن ایران اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں کےخطرات کے پیش نظر امریکی اہلکاروں، اتحادیوں اور شراکت داروں کا دفاع کرنے کےلیے پوری طرح تیار ہے۔

واضح رہےکہ اسرائیل نےحالیہ دنوں میں لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کےخلاف کارروائی تیز کردی ہیں اور فضائی آپریشن کےبعد گزشتہ دنوں زمینی آپریشن بھی شروع کر دیا گیاہے۔

جمعہ کو ایک فضائی حملے میں اسرائیل نے حزب اللہ کےسربراہ حسن نصراللہ سمیت تنظیم کےدیگر سینئر کمانڈرز کو شہید کر دیا تھا۔

ایران کا اسرائیل پر حملہ  : سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب

Back to top button