ایران کے بعد کون کون سے اسلامی ممالک کی باری لگنے والی ہے؟

ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں آگ لگ چکی ہے۔ ایک جانب امریکا اور اسرائیل اپنی کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں، تو دوسری جانب ایران بھی بھرپور جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی کے دوران سیاسی حلقوں، دفاعی تجزیہ نگاروں اور عوام کے درمیان سب سے زیادہ جس سوال پر بحث ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کے بعد اگلی باری کس کی ہوگی؟ اسی تناظر میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اگر ایران کو کمزور کیا گیا تو خطے میں اگلا ہدف کون ہوگا۔
اس حوالے سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی کا اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ اس وقت ایران امریکا اور اسرائیل کے شدید حملوں کے باوجود مزاحمت کر رہا ہے اور اس کے میزائل مسلسل داغے جا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی شدید بمباری جاری ہے۔ ابھی تک جنگ بندی کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آتا۔ اسی تناظر میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد امریکہ کا خطے میں اگلا ہدف کون ہوگا۔ مزمل سہروردی کے بقول کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ ایران کے بعد سعودی عرب، ترکی یا حتیٰ کہ پاکستان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین اس رائے کو زیادہ تر قیاس آرائی قرار دیتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ چونکہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے اور اس کا دفاع مضبوط ہے، اس لیے یہ تھیوری کہ ایران کے بعد پاکستان کی باری ہے غلط ہے۔ اسرائیل کو علم ہے کہ پاکستان دفاعی طورپر بہت مضبوط ہے۔ مزمل سہروردی کا مزید کہنا ہے کہ بھارت اسرائیل سے بڑا ملک ہے۔ دفاعی طور پر بھی زیادہ مضبوط ہے۔ جب بھارت پاکستان سے نہیں لڑ سکتا تواسرائیل کیا لڑے گا۔ اس لیے پاکستان کے خلاف کسی براہِ راست جارحیت کا امکان کم ہے۔
امریکہ کی مسلم دنیا کو لڑوانے کی سازش کیسے کامیاب ہوئی؟
ترکی کے بارے میں بھی یہی دلیل دی جاتی ہے کہ وہ نہ صرف ایک مضبوط فوجی طاقت ہے بلکہ نیٹو کا رکن بھی ہے۔ اس وجہ سے ترکی پر حملہ نیٹو کے تمام رکن ممالک کے خلاف حملہ تصور ہوگا، جو کسی بڑے عالمی تصادم کو جنم دے سکتا ہے۔ مزید یہ کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات بھی موجود ہیں، اس لئے اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے ترکی کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کے امکانات معدوم ہیں۔
مزمل سہروردی کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ کئی دہائیوں سے ایران خطے میں اپنے اتحادی گروہوں کے ذریعے اسرائیل کے خلاف محاذ آرائی کرتا رہا ہے جبکہ امریکا اور اسرائیل اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے ایران کو محدود کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم اب یہ کشیدگی ایک کھلی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں اکثر تجزیہ کار امریکا یا اسرائیل کی ممکنہ فتح کی بات کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل وحشیانہ بمباری جبکہ ایران قابل قدر مزاحمت کر رہا ہے۔ ابھی سیز فائر کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا۔ ایران بھی سیز فائر کے لیے تیار نہیں اور امریکا اور اسرائیل کی جانب سے بھی سیز فائر کا کوئی اعلان نہیں کیا۔ مزمل سہروردی کے بقول ایران کے میزائل ابھی چل رہے ہیں۔ یہی اس کی فتح ہے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رجیم چینج کا نعرہ تو لگا دیا ہے۔ لیکن کوئی راستہ ابھی نظر نہیں آرہا ۔ تاہم یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کو اگر ایران میں حکومت کی تبدیلی مقصود ہے تو اس کے لیے زمینی فوج کون بھیجے گا؟ ابھی تک نہ امریکا نے اس کا عندیہ دیا ہے اور نہ ہی نیٹو یا کوئی اور ملک ایران میں فوج بھیجنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اسی لیے “اگلی باری کس کی ہے” کی بحث زیادہ تر مفروضوں پر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کے بقول ایران اسرائیل جنگ نے عالمی سیاست میں ایک نئی بے چینی پیدا کر دی ہے، مگر اس وقے یہ کہنا کہ ایران کے بعد کس ملک کی باری ہوگی، فی الحال ایک مشکل اور غیر یقینی سوال ہے کیونکہ خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اس لئے آنے والے دن ہی اس بحث کی اصل سمت کا تعین کریں گے۔
