ایک تصویر نے کیسے سانحہ APS کے زخم تازہ کر دیے؟

فوج کی حراست سے فرار ہونے والے تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی اپنے بیٹے کے ساتھ ایک تصویر ٹویٹر پر وائرل ہونے کہ بعد سانحہ پشاور میں شہید ہونے والے والدین کے طلبا نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا یے کہ ان کے معصوم بچوں کو قتل کر کے اپنے بچے کے ساتھ خوشیاں منانے والے سفاک قاتل کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ یاد رہے کہ پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے دسمبر 2014 کے خونی حملے میں 130 سے زائد معصوم بچوں کو شہید کر دیا گیا تھا اور اس واقعے کی ذمہ داری تب کے تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے قبول کی تھی۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ احسان اللہ احسان کی جانب سے اپنے بیٹے کے ساتھ ایک شاندار بیڈ پر بیٹھے ہوئے کی تصویر اس زمانے کی یے جب وہ پشاور کے ایک سیف ہاوس میں فوج کی حراست میں تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ احسان اللہ احسان نے ایک ڈیل کے تحت فوجی حکام کے سامنے سرنڈر کیا تھا جس کے بعد اس کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے کی بجائے اس کو پشاور کے ایک سیف ہاؤس میں رکھا گیا تھا جہاں سے وہ تین برس بعد اپنے خاندان سمیت فرار ہو گیا تھا۔ اسکی تصویر ایک صحافی نے ٹویٹر پر شئیر کی اور لکھا کہ تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے جیل روڈ پشاور پر ایک گھر میں حراست کے دوران اپنے بیٹے محمد عباس خان کے ساتھ تصویر شئیر کی ہے۔ اس تصویر پر ردعمل دیتے ہوئے پشاور سانحے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے کہا ہے کہ یہ حرکت ان کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاش اس سانحے میں ان لوگوں کے بچے بھی مرتے جن کی غفلت سے یہ واقعہ رونما ہوا اور ان کو بھی احساس ہوتا کہ اولاد کا غم کیا ہوتا ہے۔ شہید بچوں کے والدین کا کہنا تھا کہ زیادہ ظلم کی بات تو یہ ہے کہ جب احسان اللہ احسان فوجی حکام کے قابو آ گیا تو اس کا ٹرائل کرنے کی بجائے اسے ایک آرام دہ گھر میں اسکے خاندان سمیت رکھا گیا جہاں اس نے تین برس عیاشی کی اور پھر وہ اپنے محافظوں کے منہ پر کالک مل کر فرار ہو گیا۔ شہید بچوں کے والدین نے کہا کہ ہم اس واقعے کا ذمہ دار موجودہ فوجی قیادت کو سمجھتے ہیں اور انہیں فوری طور پر احسان اللہ احسان کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانا چاہیے۔
یاد رہے کہ فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 17 اپریل 2017ء کو ایک پریس کانفرنس میں احسان اللہ کے فوج کی تحویل میں ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد 26 اپریل 2017 کو اس کا اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا تھا۔ اپنے بیان میں احسان اللہ احسان نے کہا تھا کہ وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے لیے کام کر رہا تھا۔ اس نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اور کہا کہ اس کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔ بعد ازاں فروری 2020ء میں پاکستانی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام میں احسان اللہ احسان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا یے۔ اس آڈیو پیغام میں کہا گیا تھا کہ پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد میں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا۔ میں نے برسوں اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سکیورٹی اداروں نے مجھے بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔ احسان اللہ نے کہا کہ تین برسوں میں پاکستانی فوج نے اسکے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد وہ اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوگیا۔
دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری 2019 کو بھاگنے میں کامیاب ہوا۔ بعد میں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے احسان اللہ احسان کے فرار کی تصدیق کردی اور کہا کہ ایک خفیہ آپریشن میں احسان اللہ کو استعمال کیا جارہا تھا جو اس دوران فرار ہوگیا۔ راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے احسان اللہ کی مبینہ آڈیو ٹیپ میں لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ‘ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں’۔میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ احسان اللہ کو جتنا عرصہ پاکستان میں رکھا گیا اس دوران اس سے اہم معلومات حاصل کیں اور اس سے فائدہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جارہی ہے’۔
اب احسان اللہ احسان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان سے فرار ہوکر کر ترکی پہنچ چکا ہے جہاں اس پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں ہے۔ احسان اللہ احسان کے نام سے مشہور لیاقت علی کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے سامنے 5 فروری 2017 کو ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈالے تھے۔ ‘میں نے اپنی طرف سے وعدوں کی پاسداری کی۔ لیکن پاکستانی عہدیداروں نے ان سے وعدہ خلافی کی’۔ بعدازاں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے احسان اللہ احسان کے مبینہ طور پر ملک سے فرار ہونے پر تفصیلی رپورٹ طلب کی تھی اور 13 فروری کو شہدائے آرمی پبلک اسکول کے لواحقین نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد سے رجوع کیا تھا. چیف جسٹس کو اپنی درخواست میں سانحے میں شہید ہونے والے طلبہ کے لواحقین نے کہا تھا کہ ‘ہم لواحقین احسان اللہ احسان کے سرکاری تحویل میں تقریباً تین سال گزارنے کے بعد اہلخانہ سمیت مبینہ طور پر فرار ہونے کی خبر سن کر سخت صدمے میں ہیں۔’ درخواست میں کہا گیا تھا کہ سفاک دہشت گرد نے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں 147 طلبہ اور اساتذہ شہید ہوئے۔ لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ اس واقعہ میں غفلت برتنے کے مرتکب لوگوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے اور احسان کو گرفتار کیا جائے۔۔
احسان اللہ احسان تاحال گرفتار نہیں ہوسکا لیکن وہ کئی رپورٹرز اور صحافیوں سے اکثر رابطے میں رہتا ہے۔ احسان آخر کار پاکستانی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا۔ اس سوال کا جواب اس نے ایک آڈیو کی صورت میں یوٹیوب پر پوسٹ کیا۔ اپنے فرار کی تفصیلات بتاتے ہوئے احسان کہتا ہے کہ اس نے جب 2017ء میں پاکستانی اداروں کے سامنے سرینڈر کیا تو اسے پشاور میں رکھا گیا۔ وہ پہلے ایک گھر میں تقریباً 18 ماہ رہا، جس کے بعد اسے پشاور میں ہی دوسرے گھر منتقل کردیا، جہاں سے وہ جنوری 2020ء میں فرار ہو گیا۔ احسان کا کہنا تھا کہ ’جس گھر میں وہ مقیم تھا اس میں بیک سائیڈ پر ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جسے تالا لگاکر بند کردیا گیا تھا، یہی راستہ ہمارے فرار کے لئے بہترین تھا کیونکہ وہ ایک رہائشی علاقہ تھا اور وہاں سے نکلنا آسان تھا۔ اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ پہلے اس دروازے کی کنڈی کو توڑا جائے تاکہ نکلتے وقت کوئی رکاوٹ نہ ہو، فرار سے دو دن پہلے میں نے وہ کنڈی توڑلی۔ اس سیف ہاوس کے سیکیورٹی اہلکاروں کا کمرہ گھر کے صحن میں تھا اور اہلکاروں کو بلا ضرورت گھر کے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی اسلیے انہیں میرت۔منصوبے کا پتہ نہ چلا۔ لیکن وہاں سے فرار ہونے کیلئے مجھے ایک سواری کی ضرورت تھی جس کیلئے میں نے آن لائن ٹیکسی کا انتخاب کیا۔ احسان کے مطابق ’میں نے آن لائن تیکسی بک کروائی کیونکہ موبائل تو میرے پاس پہلے سے تھا‘۔ اسکا کہنا تھا کہ آن لائن ٹیکسی میں اسنے خاندان سمیت حاجی کیمپ اڈے تک سفر کیا، جس کے بعد ایک اور گاڑی بک کروا کر پاکستان کی حدود سے باہر نکل گیا۔
تاہم سانحہ اے پی ایس میں شہید ہونے والے بچوں کے ورثا کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان جیسے ہائی پروفائل دہشتگرد گا حکام کی مرضی کے بغیر فرار ہونا ناممکن تھا لہذا وہ فرار ہوا نہیں بلکہ اسے فرار کروایا گیا۔ اس لیے اس واقعے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داران کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔
