بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر پر پاکستان کا اظہار مذمت

پاکستان نے بھارتی شہر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کی اراضی پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی سخت مذمت کی ہے۔
واضح رہے کہ آج (5 اگست) کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایودھیا میں بابری مسجد کی متنازع اراضی پر رام مندر کا سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔
عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث بڑے ہجوم کو محدود کرنے کے باوجود ہندوؤں نے مندر کا سنگِ بنیاد رکھنے کا جشن منایا۔ اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بابری مسجد کی اراضی پر رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی مذمت کی گئی۔
دفتر خارجہ نے کہا کہ تاریخی بابری مسجد پانچ صدیوں سے موجود تھی لیکن بھارت کی سپریم کورٹ کے ناقص فیصلے کے نتیجے میں رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ فیصلے سے نہ صرف عدالتی نظام پر یقین اٹھ گیا بلکہ بھارت میں موجود اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں پر تیزی سے حملے ہو رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی عجلت میں تعمیر، مسلمان مخالف شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) اور شہریوں کو آزادی سے محروم کرنے کے لیے قومی شہری رجسٹرڈ (این آر سی) کے علاوہ نئی دہلی میں مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ریاستی شمولیت اور دیگر مسلم مخالف اقدامات اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کس طرح بھارت میں مسلمانوں کو خوفزدہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مقبوضہ علاقے کی آبادکاری کو تبدیل کرنے کے بی جے پی کے مذموم ارادے دراصل تفرقہ انگیزی اور انتہا پسندانہ نظریہ کی بڑھتی ہوئی لہر کی عکاسی ہیں جس سے بھارت اور علاقائی امن کے لیے مذہبی خطرہ لاحق ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آر ایس ایس-بی جے پی اتحاد منظم انداز میں بھارت میں مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو مسلسل نشانہ بنانے اور انہیں ختم کرنے کے لیے ذمہ دار ہیں اور مساجد پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ کورونا وائرس کو پھیلانے کے لیے نہ صرف مسلمانوں کو ہی قصوروار ٹھہرایا گیا بلکہ ان کی مذہبی آزادی پر بھی بی جے پی – آر ایس ایس کے پیروکار حملہ آور ہوئے ہیں جو اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتے ہیں۔ پاکستان نے بھارتی حکومت سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں اور دیگر اسلامی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنانے کی درخواست کی۔
واضح رہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے آغاز سے پہلے، نریندر مودی نے ہندو قوم پرستوں کی جانب سے قائم کیے گئے عارضی مندر میں رکھے رام (ایک چھوٹے سے بت) کے آگے ماتھا ٹیکا جہاں اسی جگہ 1992 میں بابری مسجد کو شہید کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ ایودھیا میں مندر کا سنگِ بنیاد، بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ایک برس مکمل ہونے پر رکھا گیا ہے۔
