فیلڈ مارشل کی شیعہ علماء کو دھمکیوں کی حقیقت بے نقاب

عسکری ذرائع نے سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے حوالے سے پھیلائے گئے جھوٹے پروپگنڈے کا جواب دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ شیعہ علماء سے ملاقات کے دوران جو گفتگو ہوئی تھی وہ پچھلے دنوں گلگت بلتستان میں ہونے والے پرتشدد واقعات کے تناظر میں تھی، جس کا ایران جنگ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یاد رہے کہ گلگت میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران سکردو میں پاکستانی فوج کے 62 بریگیڈ کے دفاتر مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جبکہ اقوام متحدہ کا دفتر اور رہائشی عمارت بھی مکمل تباہ کر دی گئی تھی۔

گذشتہ چند روز سے پاکستانی سوشل میڈیا پر چند شیعہ علما کی ویڈیوز وائرل ہیں جن میں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی ایک حالیہ ملاقات میں ہوئی گفتگو کے حوالے سے اپنی تنقیدی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی اہل تشیع مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما سے یہ ملاقات 18 مارچ کو ہوئی تھی جس میں ’قومی سلامتی کے معاملات اور سماجی ہم آہنگی میں علمائے کرام کے کردار‘ پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس ملاقات کے بعد آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکا کو پاکستان کی جانب سے علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور فعال سفارتکاری کے بارے میں آگاہ کیا۔ 19 مارچ کو جاری ہونے والے اس بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کسی دوسرے ملک میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر پاکستان میں تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل نے اس موقع پر معاشرے میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے اور باہمی اتحاد کو مضبوط کرنے میں علما کے اہم کردار پر زور دیا اور یہ بات دہرائی کہ مذہبی جذبات کو ملک میں تشدد بھڑکانے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

تاہم پاکستانی سوشل میڈیا پر فیلڈ مارشل سے ملاقات کرنے والے شیعہ علما بشمول مولانا سید حسنین عباس گردیزی اور علامہ شفا نجفی کی ویڈیوز وائرل ہیں۔ ان ویڈیوز میں شیعہ علما جنرل عاصم منیر کے ’سخت لب و لہجے‘، ان کی جانب سے سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد گلگت بلتستان میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کو 9 مئی کے واقعات سے تشبیہ دینے، اور ایران کے وفاداروں کو پاکستان سے نکل جانے کی دھمکی دینے پر تنقید کر رہے ہیں۔ تاہم عسکری ذرائع نے اِن دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ ’کچھ لوگ اپنے مفادات کے لیے اِس ملاقات کے سیاق و سباق اور مندرجات کی غلط رپورٹنگ کے ذریعے جان بوجھ کر حقائق مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

عسکری ذرائع کا کہنا تھا کہ اس ملاقات بارے گمراہ کن کہانیاں ایسے عناصر پھیلا رہے ہیں جن کی ساکھ پہلے ہی مشکوک ہے اور جن کا مقصد ملک میں فساد پھیلانا ہے۔ اس ملاقات میں شریک ایک شیعہ عالم علامہ عارف حسین واحدی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ ’ایران کے وفاداروں کو پاکستان سے نکل جانے‘ کی بات کا ایک مخصوص پس منظر تھا اور یہ گلگت بلتستان میں پیش آئے پُرتشدد واقعات کے تناظر میں کی گئی تھی، جسے سوشل میڈیا پر غلط رنگ دیا گیا۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل کا لہجہ بھی صرف انہی واقعات کے حوالے سے سخت تھا، تاہم نہ تو علما کو کوئی دھمکی دی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی توہین آمیز گفتگو کی گئی۔

یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کراچی، سکردو، گلگت اور اسلام آباد میں احتجاجی مظاہروں کے دوران پرتشدد واقعات پیش آئے تھے جن میں حکام کے مطابق مجموعی طور پر 32 افراد ہلاک ہوئے۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان شبیر میر کے مطابق مشتعل مظاہرین نے سکردو میں پاکستانی فوج کے 62 بریگیڈ کے دفاتر اور 62 بریگیڈ ہاؤس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جبکہ اقوام متحدہ کا دفتر اور رہائشی عمارت بھی نذرِ آتش کر دی گئی۔ اسی طرح آرمی پبلک سکول اور دیگر سرکاری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا جبکہ تین سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے، جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کر کے فوج کو طلب کرنا پڑا۔

بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث افراد کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں کیا جائے گا۔

مذہب کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا، فیلڈ مارشل عاصم منیر

بی بی سی اُردو نے 18 مارچ کو ہونے والی اس ملاقات میں شریک علما سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اس طویل نشست میں کیا گفتگو ہوئی اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے شکوک و شبہات کی حقیقت کیا ہے۔

ملاقات میں شریک مولانا سید حسنین عباس گردیزی کے مطابق 23 شیعہ علما اور دانشوروں کو افطار پر مدعو کیا گیا تھا، جن کا تعلق اسلام آباد، لاہور، کراچی، پاراچنار اور ڈیرہ اسماعیل خان سے تھا۔ ان کے بقول فیلڈ مارشل نے ایک گھنٹے سے زائد طویل گفتگو کی جس کے آغاز میں انہوں نے بتایا کہ ان کے آیت اللہ خامنہ ای سے قریبی تعلقات رہے ہیں اور وہ ان سے تین مرتبہ ملاقات بھی کر چکے ہیں۔

علامہ شفا نجفی نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل نے ایران اور آیت اللہ خامنہ ای کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ ان سے ذاتی طور پر واقف تھے۔ مولانا گردیزی کے مطابق ابتدائی گفتگو میں فیلڈ مارشل نے ایران کے ساتھ کھڑے ہونے کا ذکر بھی کیا، تاہم جب بات گلگت بلتستان کے واقعات پر آئی تو ان کا لہجہ سخت ہو گیا۔ مولانا گردیزی کا دعویٰ ہے کہ اس دوران فیلڈ مارشل نے کہا کہ ’جو ایران کے زیادہ وفادار ہیں وہ ایران چلے جائیں‘، جس پر بعض علما نے اسے سخت مؤقف قرار دیا اور محسوس کیا کہ شاید ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

تاہم اسی نشست میں شریک علامہ عارف حسین واحدی نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ جملہ صرف ان افراد کے لیے کہا گیا تھا جو گلگت میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تھے، نہ کہ پوری شیعہ کمیونٹی کے لیے۔ ان کے مطابق اس بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا جس سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ علامہ شفا نجفی کے مطابق انہوں نے دورانِ گفتگو فیلڈ مارشل کو مخاطب کر کے کہا کہ فسادات میں ملوث عناصر کو پوری قوم سے نہ جوڑا جائے کیونکہ شیعہ علما پاکستان کے وفادار ہیں اور ملک و فوج کے خلاف نہیں۔
ملاقات کے حوالے سے ایک اور نکتہ یہ بھی سامنے آیا کہ بعض علما کے مطابق انہیں مکمل طور پر اظہار خیال کا موقع نہیں ملا، جبکہ عسکری ذرائع اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نشست میں علما نے آزادانہ طور پر گفتگو کی اور مکالمہ جاری رہا۔

عسکری ذرائع کا مؤقف ہے کہ اس ملاقات کو جان بوجھ کر متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ اس کا مقصد صرف قومی یکجہتی، امن اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینا تھا۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان کسی بھی قسم کی انتہا پسندی یا تشدد کو برداشت نہیں کرے گا اور ملک میں امن کے قیام کے لیے تمام اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

اس صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیعہ علما کی جانب سے لگائے گئے الزامات بنیادی طور پر فیلڈ مارشل کے سخت لہجے اور مخصوص جملوں کے تاثر سے جڑے ہیں، جبکہ عسکری ذرائع اور بعض شریک علما کے مطابق ان بیانات کا اصل پس منظر گلگت بلتستان کے پرتشدد واقعات تھے، نہ کہ کسی مذہبی طبقے یا ایران سے وابستگی رکھنے والے افراد کے خلاف کوئی عمومی پالیسی یا دھمکی۔

Back to top button