حکومت مہنگائی کے مارے عوام کا خون کیسے نچوڑ رہی ہے؟

ایران اور امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں تیل مہنگا ہونے کے باعث مہنگائی کی چکی میں پسنے والے پاکستانی عوام کو وفاقی حکومت ریلیف دینے کی بجائے ان کا مزید خون چوسنے میں مصروف ہے جس سے ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی روزانہ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ پٹرول پمپ پر صارف جو رقم ادا کرتا ہے، اس میں اصل درآمدی و بنیادی لاگت کتنی ہے اور ٹیکسوں، لیوی، ڈیوٹی اور مختلف مارجنز کا حصہ کتنا بنتا ہے۔ تازہ سرکاری قیمتوں کے مطابق 26 ستمبر 2026 سے پٹرول کی قیمت 391 روپے 30 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب سرکاری قیمت کے حساب میں پٹرول کی بنیادی لاگت 254 روپے 96 پیسے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی بنیادی لاگت 285 روپے 85 پیسے بتائی گئی ہے۔ یوں پٹرول کی بنیادی لاگت اور صارف کے ادا کردہ نرخ میں تقریباً 136 روپے 34 پیسے جبکہ ڈیزل میں تقریباً 122 روپے 68 پیسے فی لیٹر کا فرق موجود ہے۔
قیمتوں کے اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی حتمی قیمت صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت یا درآمدی لاگت کی بنیاد پر طے نہیں ہوتی بلکہ اس میں مختلف سرکاری محصولات، لیویز، ڈیوٹیز اور کاروباری مارجنز بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی بحث شروع ہوجاتی ہے کہ عالمی قیمت کے مقابلے میں مقامی صارف کو کتنا ریلیف یا اضافی بوجھ منتقل کیا جارہا ہے۔
پٹرول کی موجودہ قیمت میں 80 روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی، 5 روپے کلائمیٹ سپورٹ لیوی اور 23 روپے 68 پیسے کسٹمز ڈیوٹی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن 7 روپے 91 پیسے، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے اور ڈیلرز مارجن 9 روپے 98 پیسے ہے، جبکہ 1 روپے 90 پیسے کی ایکسچینج ایڈجسٹمنٹ بھی قیمت کے حساب میں شامل ہے۔
پٹرولیم مصنوعات میں حکومت کے لیے سب سے نمایاں جزو پٹرولیم لیوی ہے، جو پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر مقرر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پٹرول اب صرف آمدورفت اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والی شے نہیں رہا بلکہ وفاقی حکومت کے لیے محصولات جمع کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بن چکا ہے۔ حکومت کے لیے یہ رقم مالیاتی ضروریات پوری کرنے میں معاون ہے تاہم صارف کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ پٹرول کی قیمت میں عالمی منڈی کے اثرات کے علاوہ ایک بڑا حصہ مقامی محصولات کی صورت میں بھی شامل ہے۔
ہائی سپیڈ ڈیزل کی صورت حال بھی خاصی اہم ہے کیونکہ اس کی بنیادی لاگت 285 روپے 85 پیسے فی لیٹر جبکہ صارف کے لیے مقررہ قیمت 408 روپے 53 پیسے ہے، جس کے درمیان 122 روپے 68 پیسے کا فرق بنتا ہے۔ ڈیزل صرف نجی گاڑیوں کا ایندھن نہیں بلکہ ٹرکوں، بسوں، زرعی مشینری، صنعتی سرگرمیوں اور ملک بھر میں سامان کی ترسیل میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافہ براہ راست اور بالواسطہ طور پر معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کرسکتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں خوراک، تعمیراتی سامان اور دیگر اشیائے ضروریہ کی ترسیل مہنگی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح پٹرول کی قیمت میں اضافہ شہریوں کے روزمرہ سفر، نجی ٹرانسپورٹ اور کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس طرح پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی مالکان کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات معیشت میں ایک زنجیری عمل کے ذریعے عام صارف تک پہنچتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کے لیے پٹرولیم لیوی کو ختم کرنا یا نمایاں طور پر کم کرنا بھی آسان فیصلہ نہیں کیونکہ یہ قومی بجٹ کے لیے اہم آمدن کا ذریعہ ہے۔ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کی صورت میں اگر حکومت صارف کو مکمل ریلیف دینا چاہے تو اسے ٹیکس یا لیوی کم کرنا ہوگی یا اس کمی کو پورا کرنے کے لیے آمدن کا کوئی متبادل ذریعہ تلاش کرنا ہوگا۔ چنانچہ پٹرولیم قیمتوں کے تعین میں عوام کو ریلیف، حکومتی محصولات، درآمدی بل اور مالیاتی اہداف کے درمیان توازن ایک بنیادی چیلنج بن جاتا ہے۔
پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ، درآمدی لاگت، شرح مبادلہ اور مقامی اخراجات سمیت متعدد عوامل سے متاثر ہوتی ہیں۔ اوگرا کی جانب سے ستمبر 2026 کے دوران پٹرولیم مصنوعات سے متعلق روزانہ کے اعداد و شمار کی اشاعت بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی مارکیٹ کی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کے تعین کا تعلق مسلسل تبدیل ہونے والے اعداد و شمار سے ہے۔ تاہم صارف کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ عالمی قیمت میں ہونے والی تبدیلی کا اثر مقامی پمپ قیمت میں کس حد تک منتقل کیا جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں پٹرولیم قیمتوں کے تعین میں شفافیت بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ حکومت اگر ہر مرتبہ قیمت مقرر کرتے وقت عالمی قیمت، درآمدی لاگت، کسٹمز ڈیوٹی، پٹرولیم لیوی، فریٹ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کے مارجن سمیت ہر مد کی واضح تفصیل عوام کے سامنے رکھے تو صارف کو بہتر انداز میں معلوم ہوسکے گا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کہاں سے بنتی ہے۔ موجودہ اعداد و شمار سے بہرحال یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پمپ پر ادا کی جانے والی رقم کا ایک بڑا حصہ بنیادی پٹرولیم لاگت کے بجائے مختلف محصولات اور قیمت سازی کے دیگر اجزا پر مشتمل ہے، جس کے باعث مہنگے تیل کے ماحول میں عام آدمی پر ایندھن کا مالی بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔
