4اکتوبر احتجاج، کیا PTI عوام کو سڑکوں پر لا پائے گی؟

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 4 اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی نئی تاریخ دینے کے بعد اصل سوال ایک بار پھر پنجاب کی طرف اٹھتا دکھائی دیتا ہے، جہاں پارٹی کے پاس سو سے زائد ارکان پنجاب اسمبلی، سابق ٹکٹ ہولڈرز اور ضلعی سطح پر بڑی تنظیمی موجودگی موجود ہونے کے باوجود ماضی کے بڑے احتجاجوں میں مطلوبہ عوامی شرکت نظر نہیں آئی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ پنجاب کی قیادت اور کارکن بڑی تعداد میں متحرک ہو کر احتجاجی قافلے کا حصہ بنیں گے یا انتظامی دباؤ، گرفتاریوں کے خدشات اور پارٹی کے اندر موجود اختلافات ایک بار پھر رکاوٹ بنیں گے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پنجاب میں کارکنوں کی عدم شرکت کو محض سیاسی کمزوری قرار دینا درست نہیں، کیونکہ صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ، مختلف علاقوں میں سکیورٹی انتظامات، گرفتاریوں اور مقدمات کے باعث کارکنوں اور رہنماؤں پر دباؤ موجود ہے۔ راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی سمیت بعض علاقوں میں اضافی سکیورٹی تعیناتی اور شاہراہوں پر رکاوٹوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ متعدد کارکن پہلے ہی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ احتجاج میں شرکت کی صورت میں دوبارہ گرفتاریاں ہوسکتی ہیں۔
پنجاب کے ارکان اسمبلی کے لیے ایک اور مسئلہ یہ بتایا جا رہا ہے کہ پارٹی کی اندرونی سطح پر بھی احتجاجی حکمت عملی کے حوالے سے مکمل اتفاق رائے موجود نہیں۔ ذرائع کے مطابق 27 ستمبر کی ابتدائی کال کے وقت بھی بعض پنجاب رہنماؤں نے سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا تھا، جبکہ 4 اکتوبر کی نئی تاریخ کے اعلان کے بعد بھی بعض ارکان اس حکمت عملی سے پوری طرح متفق نہیں۔ پارٹی کی جانب سے ہر رہنما کو کارکنوں کے ایک مخصوص گروپ کے ساتھ اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت دی گئی، تاہم موجودہ حالات میں اس ہدایت پر عملدرآمد کے امکانات کے بارے میں خود پارٹی حلقوں میں سوالات موجود ہیں۔
اس کے ساتھ قانونی محاذ بھی اہم ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے ارکان پنجاب اسمبلی کی جانب سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ اس قانون کا استعمال سیاسی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر پابندی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اگر عدالت سے واضح ریلیف ملتا ہے تو پنجاب میں سیاسی سرگرمیوں کے لیے صورت حال مختلف ہوسکتی ہے، جبکہ ریلیف نہ ملنے کی صورت میں منتخب ارکان اور کارکنوں کے لیے احتجاج میں کھل کر شرکت کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پارٹی کے اندر مختلف گروپس اور قیادت کے درمیان حکمت عملی کے اختلافات بھی اس پورے معاملے کو پیچیدہ بناتے ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کے پاس ایک بڑا پارلیمانی ڈھانچہ موجود ہے، لیکن سیاسی احتجاج میں پارلیمانی تعداد کو عملی عوامی طاقت میں تبدیل کرنا ایک الگ چیلنج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 4 اکتوبر کا لانگ مارچ صرف حکومت کے لیے نہیں بلکہ تحریک انصاف کی پنجاب تنظیم اور قیادت کے لیے بھی ایک عملی امتحان بن گیا ہے۔
تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ پنجاب سے کتنے افراد احتجاج میں شریک ہوں گے۔ اصل تصویر 4 اکتوبر کے قریب واضح ہوگی، جب پارٹی کی تنظیمی تیاری، عدالتی فیصلوں، انتظامی اقدامات اور کارکنوں کی عملی شرکت سامنے آئے گی۔ موجودہ اطلاعات البتہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف کو ایک ساتھ انتظامی دباؤ، قانونی رکاوٹوں، گرفتاریوں کے خدشات، مالی وسائل کی کمی اور اندرونی سیاسی اختلافات جیسے متعدد عوامل کا سامنا ہے۔ یہی عوامل اس بات کا تعین کریں گے کہ 4 اکتوبر کا اعلان محض سیاسی کال ثابت ہوتا ہے یا پنجاب سے ایک مؤثر احتجاجی قافلہ واقعی اسلام آباد کی طرف روانہ ہو پاتا ہے۔
