بلوچستان کا جنگل 3دن سےآگ کی لپیٹ میں، سرکاری ادارے بے بس کیوں؟

بلوچستان کے ضلع زیارت میں دنیا کے قدیم ترین صنوبر کے جنگلات اس وقت ایک ایسے المیے سے دوچار ہیں جس میں آگ سے زیادہ تشویش اس بات کی ہے کہ آگ بجھانے کے لیے انسان موجود ہیں، وسائل موجود ہیں، ارادہ بھی موجود ہے، مگر سکیورٹی حالات نے سب کو بے بس کر رکھا ہے۔ تین دن سے جاری آتشزدگی نے 70 ایکڑ سے زائد رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور سینکڑوں قدیم درخت جل جانے کا خدشہ ہے، لیکن مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کے خطرے کے باعث محکمہ جنگلات کی ٹیمیں متاثرہ علاقے تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔ یوں بلوچستان کا ایک ایسا قدرتی خزانہ جس کے درخت ہزاروں سال پرانے سمجھے جاتے ہیں، آگ کے سامنے تقریباً بے دفاع کھڑا ہے۔

ذرائع کے مطابق آگ 25 ستمبر کو زیارت کے علاقے کلی وام سرانہ کے پہاڑی سلسلے میں واقع فیلہ غر کے جنگلات میں لگی۔ ابتدائی طور پر تقریباً دو ایکڑ رقبہ متاثر ہونے کی اطلاع تھی، تاہم بعد میں محکمہ جنگلات اور سیٹلائٹ تصاویر سے اندازہ ہوا کہ آگ 70 ایکڑ سے زیادہ علاقے تک پھیل چکی ہے۔ ناسا کے سیٹلائٹ ڈیٹا نے بھی 27 ستمبر کو اس علاقے میں آگ کی موجودگی کی تصدیق کی۔

متاثرہ علاقہ سطح سمندر سے تقریباً 2700 میٹر بلند دشوار گزار پہاڑی علاقے میں ہے، تاہم سب سے بڑی رکاوٹ سکیورٹی صورتحال ہے۔ حکام کے مطابق علاقے میں 30 سے 40 مسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاعات کے بعد محکمہ جنگلات کی ٹیموں کو واپس بلا لیا گیا۔ بلوچستان حکومت نے پاک فوج سے ہیلی کاپٹر یا فضائی معاونت کی درخواست کی، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق فوری طور پر فضائی کارروائی بھی شروع نہیں ہو سکی۔

محکمہ جنگلات کے پاس آگ بجھانے کے لیے جدید سہولتوں کی کمی بھی مسئلے کو سنگین بنا رہی ہے۔ حکام کے مطابق نہ ہیلی کاپٹر موجود ہے نہ ڈرون، جبکہ دشوار گزار پہاڑوں میں عملہ پانی اور اوزار پیدل یا گدھوں اور خچروں کے ذریعے لے کر جاتا ہے۔ ڈرون کے حصول کی کوشش بھی ضروری اجازت نہ ملنے کے باعث آگے نہیں بڑھ سکی۔

زیارت کے صنوبر کے جنگلات محض ایک مقامی جنگل نہیں بلکہ عالمی اہمیت کا قدرتی ورثہ ہیں۔ یہ جنگلات 2013 سے یونیسکو کے بائیوسفئیر ریزرو میں شامل ہیں اور 2016 سے عالمی ورثے کی عارضی فہرست کا حصہ ہیں۔ یہاں ہزاروں سال پرانے صنوبر کے درخت، نایاب جانور، پرندے اور متعدد اہم نباتاتی اقسام پائی جاتی ہیں۔ یہ جنگلات کاربن جذب کرنے کے ساتھ ماضی کے موسم اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مطالعے کے لیے بھی انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

اس واقعے نے ایک بار پھر بلوچستان میں جنگلات کے تحفظ کے انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ 2022 میں شیرانی کے جنگلات میں لگنے والی بڑی آگ نے سات ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے اور تقریباً نو لاکھ درختوں کو متاثر کیا تھا۔ اس سانحے کے بعد جدید آلات اور ہنگامی نظام بہتر بنانے کے منصوبے بنائے گئے، لیکن زیارت کی موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ عملی اقدامات اب بھی ناکافی ہیں۔

آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی اور محکمہ جنگلات کے مطابق تحقیقات کے بعد ہی اس بارے میں کوئی حتمی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم موجودہ بحران یہ واضح کرتا ہے کہ جنگلات میں آگ سے نمٹنے کے لیے صرف روایتی افرادی قوت کافی نہیں۔ سکیورٹی خطرات والے علاقوں کے لیے ڈرون نگرانی، فضائی معاونت، فائر واچ ٹاورز، تربیت یافتہ فوری رسپانس ٹیمیں اور جدید آلات کا مستقل نظام ضروری ہے۔

زیارت کے صنوبر کے درخت چند دہائیوں یا چند صدیوں کی میراث نہیں بلکہ ہزاروں سال پرانی قدرتی تاریخ کے امین ہیں۔ اگر سکیورٹی خطرات کے باعث انہیں آگ سے بچانے کے لیے کئی دن تک مؤثر کارروائی ممکن نہ ہو تو یہ صرف ایک جنگل کی تباہی نہیں بلکہ پاکستان کے قدرتی اور عالمی ورثے کے تحفظ کے نظام کے لیے ایک بڑا سوال ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آگ پر فوری قابو پانے کے ساتھ اس کی وجہ کا تعین بھی کیا جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات سے نمٹنے کے لیے مستقل اور جدید ہنگامی نظام قائم کیا جائے۔

Back to top button