کچے میں دو دہائیوں سے قائم ہنی ٹریپ نیٹ ورک کیسے ٹوٹا؟

سندھ کے کچے میں دو دہائیوں سے شہریوں کے لیے خوف کی علامت بننے والا ہنی ٹریپ نیٹ ورک ڈاکوؤں کے سرینڈر کرنے اور متعدد خطرناک ڈاکوؤں کے مارے جانے کے بعد نمایاں طور پر کمزور پڑ چکا ہے، جس سے عام شہریوں کو اغوا کے اس خطرناک جال سے بڑی حد تک نجات ملی ہے۔ لیکن شکارپور سے ایک مقامی صحافی کے اغوا نے اس بہتری کے باوجود ایک بار پھر تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کچے میں امن کی جانب بڑھتی ہوئی پیش رفت برقرار رہے گی یا ایک واردات ماضی کے خطرناک دور کی واپسی کا پیش خیمہ ثابت ہوگی؟

گھوٹکی، کشمور، شکارپور اور سکھر کے کچے کے علاقوں میں کئی دہائیوں تک ڈاکوؤں کا اثر و رسوخ رہا۔ حکومت کی سرینڈر پالیسی اور پولیس آپریشنز کے نتیجے میں متعدد ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈالے، جبکہ کئی خطرناک ڈاکو مارے بھی گئے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل تھے جن کے سروں کی قیمت لاکھوں روپے مقرر تھی۔ اس پیش رفت کے بعد کچے میں اغوا برائے تاوان اور ہنی ٹریپ کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی۔

ہنی ٹریپ ڈاکوؤں کا ایک انتہائی خطرناک طریقہ واردات تھا۔ وہ خواتین کی آواز میں فون کرکے لوگوں کو مختلف بہانوں سے کچے کے علاقوں میں بلاتے اور وہاں پہنچنے کے بعد انہیں یرغمال بنا لیتے۔ بعد میں مغوی کے اہل خانہ سے لاکھوں یا کروڑوں روپے تاوان طلب کیا جاتا۔ اس جال میں سندھ کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شہری بھی پھنس چکے ہیں۔

وقت کے ساتھ ڈاکوؤں نے اس وارداتی طریقے کو سماجی ذرائع ابلاغ تک بھی پھیلا دیا۔ انتہائی سستی قیمت پر گاڑیاں، ٹریکٹر، موبائل فون اور دیگر قیمتی اشیا فروخت کرنے کے جھوٹے اشتہارات کے ذریعے لوگوں کو لالچ دیا جاتا، رابطہ کرنے والوں کو مخصوص مقام پر بلایا جاتا اور وہاں انہیں اغوا کر لیا جاتا۔ ایک واقعے میں پنجاب سے بینڈ باجے کی پوری ٹیم کو بھاری معاوضے کا جھانسہ دے کر کچے میں بلایا گیا اور تقریباً ایک درجن افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔

ڈاکوؤں کے سرینڈر اور پولیس کارروائیوں کے بعد یہ نیٹ ورک کمزور ہونا بلاشبہ کچے کے علاقوں میں امن و امان کی بحالی کی اہم علامت ہے۔ مقامی آبادی میں یہ امید پیدا ہوئی کہ اب کچے کے علاقے دوبارہ نو گو ایریا نہیں رہیں گے، بلکہ وہاں اسکول، بنیادی مراکز صحت اور دیگر ترقیاتی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہ سکیں گی۔

تاہم شکارپور کی تحصیل خانپور مہر میں مقامی صحافی عظیم سیال کا اغوا اس امید پر ایک بڑا سوال بن کر سامنے آیا ہے۔ صحافی کے اغوا کے بعد مقامی آبادی میں ایک بار پھر خوف پیدا ہوا ہے اور بعض حلقے خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کہیں کچے میں جرائم پیشہ عناصر دوبارہ منظم نہ ہو جائیں۔ مغوی کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان کا فون بھی موصول ہوا ہے۔

صحافی کی گاڑی بعد میں سکھر کی تحصیل پنو عاقل میں کچے کے قریب سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق ممکن ہے اغوا کار کسی اور مقام کی طرف جانا چاہتے ہوں اور گاڑی کا ایندھن ختم ہونے کے باعث اسے چھوڑ گئے ہوں۔ دوسری جانب پولیس نے مغوی کی بازیابی کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے اور سکھر کے بدھاپور کے کچے کے علاقے میں ڈرون کی مدد سے آپریشن کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

صحافی کے اغوا کی اصل وجہ ابھی حتمی طور پر سامنے نہیں آئی۔ بعض مقامی حلقے اسے اس کے ایک بھائی، جو پولیس افسر ہیں، کی ڈاکوؤں کے خلاف کارروائیوں سے جوڑ رہے ہیں، تاہم یہ محض قیاس ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ اس لیے اصل محرکات کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ضرور ہے کہ کچے میں جرائم پیشہ نیٹ ورک کمزور ہونے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ہنی ٹریپ اور اغوا کی وارداتوں میں کمی کو مستقل امن سمجھنے کے بجائے حکومت کو اسے ایک موقع سمجھنا چاہیے کہ باقی ماندہ جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی، جدید نگرانی، سڑکوں اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور مقامی آبادی کا اعتماد مزید مضبوط کیا جائے۔

کچے کے علاقوں میں امن صرف ڈاکوؤں کے سرینڈر کرنے سے قائم نہیں ہوگا بلکہ ریاستی اداروں کی مستقل موجودگی، قانون کی عمل داری اور ترقیاتی سرگرمیوں کے تسلسل سے ہی پائیدار بن سکتا ہے۔ ایک صحافی کا اغوا اس پورے عمل کو دوبارہ خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہوسکتا ہے، اس لیے حکومت کے لیے سب سے اہم امتحان مغوی کی فوری اور محفوظ بازیابی کے ساتھ یہ یقینی بنانا ہے کہ کچے کے علاقے دوبارہ خوف، ہنی ٹریپ اور اغوا برائے تاوان کے شکنجے میں نہ جائیں۔

Back to top button