خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگا توPTIکیا کرے گی؟

خیبرپختونخوا میں سیاسی بحران اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ وفاق کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے امکانات پر مسلسل بیانات کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے بھی صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے، ان ہاؤس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد اور دیگر آئینی و سیاسی راستوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ یوں 27 ستمبر کا لانگ مارچ مؤخر ہونے کے بعد اصل سیاسی کشمکش اسلام آباد کی سڑکوں سے نکل کر پشاور کے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئی ہے۔ اب سوال صرف لانگ مارچ کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں موجودہ حکومت برقرار رہے گی، وزیراعلیٰ تبدیل ہوں گے یا اسمبلی ہی تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس حوالے سے پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس جلد متوقع ہے جس میں صوبے کی سیاسی و انتظامی صورتحال، 4 اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ، گورنر راج یا ایمرجنسی کی ممکنہ صورتحال اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے مستقبل سمیت مختلف آپشنز پر غور کیا جائے گا۔ تاہم پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کو سہیل آفریدی پر اعتماد ہے اور انہیں ہٹانے کی کوئی ہدایت نہیں دی گئی۔
اسمبلی تحلیل کرنا پی ٹی آئی کے لیے ایک بڑا سیاسی فیصلہ ہوگا، کیونکہ اس کے بعد صوبے میں نیا آئینی اور سیاسی مرحلہ شروع ہوگا۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد بھی آئینی راستہ ہے۔ آئین کے آرٹیکل 136 کے تحت صوبائی اسمبلی کے کم از کم 20 فیصد ارکان تحریک عدم اعتماد پیش کر سکتے ہیں، جبکہ کامیابی کے لیے ایوان کی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 130 کے تحت گورنر مخصوص آئینی شرائط پوری ہونے پر وزیراعلیٰ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے بیانات نے اس کشمکش کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے قانونی تقاضے پورے ہوچکے ہیں اور اس معاملے پر مشاورت جاری ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں لانگ مارچ کے بجائے جیل جانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ یہ امیر مقام کا سیاسی مؤقف ہے، جبکہ پی ٹی آئی وفاقی حکومت کے مؤقف کو سیاسی دباؤ قرار دیتی ہے۔
آئینی اعتبار سے گورنر راج کا معاملہ آرٹیکل 234 سے متعلق ہے، جس کے تحت اگر صدر کو گورنر کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ اطمینان ہو کہ صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی تو مخصوص آئینی اقدام کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 232 داخلی بدامنی کی ایسی صورتحال میں ایمرجنسی کا راستہ فراہم کرتا ہے جو صوبائی حکومت کے قابو سے باہر ہو۔ آئین اس کے لیے مخصوص پارلیمانی طریقہ کار بھی مقرر کرتا ہے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے لیے اسمبلی تحلیل کرنے کا آپشن بھی خطرات سے خالی نہیں۔ اگر اسمبلی تحلیل کی جاتی ہے تو سیاسی بحران ختم ہونے کے بجائے ایک نئے انتخابی اور انتظامی مرحلے میں داخل ہوسکتا ہے۔ اگر ان ہاؤس تبدیلی یا تحریک عدم اعتماد کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو پھر اصل سوال ایوان کے اندر عددی اکثریت کا ہوگا۔ یوں پی ٹی آئی کے سامنے بیک وقت کئی راستے موجود ہیں لیکن ہر راستے کے اپنے سیاسی اور آئینی نتائج ہیں۔
اس تمام صورتحال میں 4 اکتوبر کا لانگ مارچ بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی اسمبلی کے مستقبل پر فیصلہ کرتی ہے تو اس کا اثر لانگ مارچ کی حکمت عملی پر بھی پڑے گا، جبکہ اگر موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی کشیدگی مزید جاری رہنے کا امکان ہے۔ وفاقی وزرا پہلے ہی کہہ رہے ہیں کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا معاملہ زیر غور ہے، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا ہے۔
یوں خیبرپختونخوا میں اصل بحران اب صرف پی ٹی آئی اور وفاق کے درمیان سیاسی محاذ آرائی نہیں رہا بلکہ صوبائی حکومت کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔ اسمبلی تحلیل، ان ہاؤس تبدیلی، تحریک عدم اعتماد، اعتماد کا ووٹ، گورنر راج اور ایمرجنسی—یہ تمام آپشنز اب سیاسی بحث کا حصہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی حکمت عملی اس بات کا تعین کرے گی کہ وہ موجودہ حکومت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہے، سیاسی بندوبست میں تبدیلی لاتی ہے یا اسمبلی تحلیل کرکے ایک نیا آئینی راستہ اختیار کرتی ہے۔ فی الحال اتنا واضح ہے کہ 27 ستمبر کا ملتوی لانگ مارچ خیبرپختونخوا کے اندر پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو ختم نہیں کرسکا بلکہ اس بحران کا مرکز مزید پشاور کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔
