حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات:اصل تنازع کیا ہے؟

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان گزشتہ کئی ہفتوں سے پسِ پردہ رابطوں اور ملاقاتوں کے باوجود مذاکرات میں بنیادی تعطل ابھی تک برقرار ہے، اور اس تعطل کا مرکز کوئی ایک مطالبہ نہیں بلکہ احتجاجی سیاست اور سیاسی مذاکرات کے درمیان موجود بنیادی اختلاف ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آ رہا ہے کہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی گنجائش موجود ہے، لیکن اسلام آباد میں مارچ، سڑکوں کی بندش اور احتجاج کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی قابلِ قبول نہیں، جبکہ تحریک انصاف مذاکرات کے ساتھ اپنے احتجاج اور سیاسی مطالبات سے دستبردار ہونے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران حکومت اور متعلقہ حکام کے ساتھ تحریک انصاف کے متعدد غیر علانیہ رابطے ہوئے۔ ان میں یہ سوال مرکزی حیثیت رکھتا رہا کہ تحریک انصاف اسلام آباد مارچ کو صرف مؤخر کرے گی یا اسے مکمل طور پر منسوخ کرنے پر آمادہ ہوگی۔ اس دوران عمران خان سے ملاقات، وکلا تک رسائی اور طبی علاج جیسے معاملات میں قواعد و ضوابط کے تحت ممکنہ سہولتوں پر بھی بات ہوئی، تاہم عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کسی وعدے کی اطلاع نہیں دی گئی۔

یہ اختلاف اس وقت مزید واضح ہوا جب تحریک انصاف نے 27 ستمبر کا مجوزہ مارچ مؤخر کرکے 4 اکتوبر کو پشاور سے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ پارٹی کی جانب سے اسے مؤخر کرنے کا فیصلہ سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد سامنے آیا، جبکہ مختلف رپورٹس میں اس فیصلے کے پس منظر میں انتظامی اور لاجسٹک مسائل، سکیورٹی انتظامات اور اندرونی مشاورت سمیت متعدد عوامل کا ذکر کیا گیا۔ یوں مارچ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی تاریخ آگے بڑھ گئی، جس کے باعث مذاکرات کا بنیادی تنازع بھی برقرار رہا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے بعض رہنماؤں کی طرف سے مختلف اوقات میں یہ مؤقف سامنے آیا کہ اگر حکومت انتخابات، عمران خان کی رہائی اور ماضی کے واقعات کی تحقیقات جیسے معاملات پر یقین دہانی کرائے تو احتجاج مؤخر کرنے پر غور ہوسکتا ہے۔ تاہم پارٹی کے اندر بھی اس حوالے سے مکمل یکسانیت نظر نہیں آئی اور بعض رہنماؤں نے ایسی تجاویز کی تردید کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کا مسئلہ صرف حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندر بھی احتجاج، مذاکرات اور آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔

حکومت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مذاکرات سیاسی مسائل کے حل کا راستہ ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے مذاکراتی نمائندوں کو واضح اختیار دینا ہوگا۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے رابطے برقرار رہنے اور بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بھی حالیہ دنوں میں وفاق کے ساتھ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی بات کی ہے۔ اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن دونوں فریق اپنے بنیادی مؤقف سے ابھی پیچھے نہیں ہٹے۔

اصل ڈیڈ لاک اسی مقام پر ہے: حکومت چاہتی ہے کہ احتجاجی مارچ کو مکمل طور پر ختم یا کم از کم اس نوعیت کی احتجاجی حکمت عملی سے واضح طور پر دستبرداری ہو، جبکہ تحریک انصاف اپنے احتجاج کو سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ حکومت کے لیے یہ سوال امن و امان اور معمولاتِ زندگی سے جڑا ہے، جبکہ تحریک انصاف کے لیے احتجاج اس کے سیاسی مطالبات کو منوانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہی بنیادی اختلاف مذاکرات کو رسمی رابطوں سے آگے بڑھنے نہیں دے رہا۔

اب 4 اکتوبر کی مجوزہ تاریخ بھی مذاکراتی عمل پر اثرانداز ہونے والا اہم عنصر بن چکی ہے۔ اگر دونوں فریق احتجاج اور مذاکرات کو ایک دوسرے کی مکمل ضد بنانے کے بجائے کسی قابلِ عمل طریقہ کار پر متفق ہوتے ہیں تو سیاسی بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے، لیکن فی الحال دستیاب اطلاعات کے مطابق مارچ کی مکمل منسوخی پر اتفاق نہ ہونے کے باعث مذاکرات میں حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

Back to top button