حکومت کے لیے تین بڑے امتحان، شہباز شریف کی واپسی اہم کیوں؟

وزیراعظم شہباز شریف پانچ روزہ دورۂ امریکا مکمل کرنے کے بعد لندن پہنچ چکے ہیں اور وطن واپسی کے بعد انہیں ایک ایسے سیاسی منظرنامے کا سامنا ہوگا جہاں بیک وقت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی، جماعت اسلامی کے احتجاج اور اہم آئینی تقرریوں سمیت کئی معاملات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی دونوں نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کیا تھا، تاہم دونوں احتجاجی سرگرمیاں فی الحال مؤخر ہو چکی ہیں۔ اس کے باوجود بنیادی سیاسی اختلافات برقرار ہیں اور وزیراعظم کی واپسی کے بعد ان معاملات پر براہِ راست پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔

جماعت اسلامی کے ساتھ حکومت کا سب سے اہم تنازع پٹرولیم لیوی کا معاملہ ہے۔ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس مسئلے پر مذاکرات کے کئی ادوار ہو چکے ہیں، تاہم حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد مارچ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے وطن واپسی کے بعد ملاقات اور مطالبات پر بات چیت کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد جماعت اسلامی نے مارچ مؤخر کردیا، تاہم احتجاجی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں کیں۔ اب وزیراعظم کی واپسی کے بعد ہونے والی ملاقات اس معاملے کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لے آئے گی۔

دوسرا اہم معاملہ پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی کشیدگی اور مؤخر کیے گئے اسلام آباد مارچ کا ہے۔ تحریک انصاف نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد آنے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ احتجاج کے باعث اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے اور اہم شاہراہوں پر رکاوٹیں بھی کھڑی کی گئیں۔ اب بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان براہِ راست سیاسی رابطہ بڑھتا ہے یا مارچ کی نئی تاریخ دوبارہ کشیدگی کا سبب بنتی ہے۔

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان رابطوں کے حوالے سے مختلف رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی ضرورت کا اظہار کیا جاتا رہا ہے، تاہم ابھی تک کسی باقاعدہ براہِ راست مذاکراتی عمل کا حتمی شیڈول سامنے نہیں آیا۔ اپوزیشن کے مختلف حلقوں، جن میں محمود خان اچکزئی، راجا ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر شامل ہیں، کے درمیان سیاسی صورتحال پر مشاورت بھی ہوتی رہی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد اپوزیشن کے ساتھ رابطوں میں اضافہ سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کا انحصار فریقین کے مؤقف اور مذاکراتی شرائط پر ہوگا۔

تیسرا اہم معاملہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے نئے ارکان کی تعیناتی ہے۔ موجودہ عہدیداروں کی آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد نئی تقرریوں کے لیے وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت آئینی عمل کا حصہ ہے۔ محمود خان اچکزئی پہلے ہی وزیراعظم کو خط لکھ چکے ہیں جبکہ وزیراعظم کی جانب سے ملاقات کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد دونوں رہنماؤں کی متوقع ملاقات اس آئینی معاملے پر مشاورت کو آگے بڑھانے میں اہم ہو سکتی ہے۔

یوں وزیراعظم کی وطن واپسی کے بعد سیاسی حکومت کو بیک وقت تین بڑے محاذوں پر پیش رفت کرنا ہوگی: جماعت اسلامی کے ساتھ پٹرولیم لیوی کا تنازع، پی ٹی آئی کے ساتھ احتجاج اور سیاسی کشیدگی، اور الیکشن کمیشن کی آئینی تقرریوں کا معاملہ۔ ان تینوں معاملات کی نوعیت مختلف ہے، مگر ان میں ایک قدر مشترک ہے کہ سیاسی رابطہ، مذاکرات اور فریقین کے درمیان کسی قابلِ عمل اتفاقِ رائے کے بغیر فوری حل مشکل دکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم کی واپسی کے بعد آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ حکومت ان معاملات کو الگ الگ حل کرنے کی کوشش کرتی ہے یا وسیع تر سیاسی مفاہمت کے ذریعے مجموعی کشیدگی کم کرنے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔

Back to top button