PTI کے 13 سال: خیبرپختونخوا میں تبدیلی کہاں تک پہنچی؟

خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کا تقریباً 13 سالہ اقتدار اب محض سیاسی دعووں اور نعروں سے نہیں بلکہ کارکردگی، حکمرانی اور عوامی سہولیات کے پیمانے پر جانچا جانا چاہیے۔ 2010 سے نومبر 2025 تک این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاق سے خیبرپختونخوا کو 6572 ارب روپے ملے، جن میں سے بیشتر عرصہ تحریک انصاف کی حکومت رہی۔ اتنے بڑے مالی وسائل اور اتنے طویل عرصے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ صوبے میں تعلیم، صحت، امن و امان، روزگار اور عوامی سہولیات کے میدان میں کیا مستقل اور نمایاں تبدیلی آئی؟
تعلیم کے شعبے کے اعداد و شمار اس سوال کو مزید اہم بنا دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کے مطابق خیبرپختونخوا میں لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ صوبائی محکمہ تعلیم کی رپورٹ کے مطابق پشاور اور ضم شدہ اضلاع سمیت سینکڑوں سرکاری اسکول غیر فعال ہیں اور ان میں بڑی تعداد طالبات کے اسکولوں کی ہے۔ بعض اسکولوں میں نہ طلبہ ہیں نہ اساتذہ، جبکہ بعض عمارتیں قبضوں اور دیگر مسائل کا شکار ہیں۔ ایسے میں صوبائی حکومت سے یہ پوچھنا ایک جائز عوامی سوال ہے کہ طویل اقتدار اور بھاری مالی وسائل کے باوجود تعلیمی نظام کی بنیادی خامیوں کو دور کرنے کے لیے مؤثر اور قابلِ پیمائش اقدامات کیوں نظر نہیں آتے۔
اعلیٰ تعلیم اور میڈیکل داخلہ نظام بھی سوالات سے محفوظ نہیں رہا۔ 2023 کے ایم ڈی کیٹ امتحان میں بڑے پیمانے پر نقل کے الزامات اور امیدواروں کے خلاف کارروائی نے امتحانی نظام کی شفافیت پر سوال اٹھائے، جبکہ معاملہ بعد میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی تک بھی پہنچا۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی تھی کہ ذمہ دار ادارے نہ صرف کارروائی کرتے بلکہ امتحانات کے نظام میں ایسی اصلاحات بھی متعارف کراتے جن سے مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا راستہ روکا جا سکتا۔
صحت کے شعبے میں صحت کارڈ کو تحریک انصاف اپنی اہم کامیابیوں میں شمار کرتی رہی ہے، تاہم آڈیٹر جنرل کی رپورٹس میں سامنے آنے والی مالی بے ضابطگیاں اور نگرانی کے نظام سے متعلق سوالات اس منصوبے کے عملی انتظام اور شفافیت پر بحث کی ضرورت پیدا کرتے ہیں۔ رپورٹ میں صحت کارڈ سے متعلق اربوں روپے کی بے ضابطگیوں، ہسپتالوں کی غیر مساوی دستیابی اور ادائیگیوں کے طریقہ کار پر اعتراضات کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود اصل سوال سیاسی نعرے سے زیادہ نظام کی شفافیت، آزاد آڈٹ اور ہر علاقے کے شہری کو یکساں طبی سہولت فراہم کرنے کا ہے۔
صوبے میں بنیادی سہولیات کی صورتحال بھی حکمرانی کے دعووں کا عملی امتحان ہے۔ مختلف علاقوں میں صاف پانی، تعلیم، صحت، گیس اور بجلی کی سہولیات سے متعلق عوامی محرومی کے اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ترقیاتی ترجیحات اور عوام کی بنیادی ضروریات کے درمیان اب بھی نمایاں خلا موجود ہے۔ اگر عوام کا ایک بڑا حصہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی شکایت کر رہا ہو تو حکومت کے لیے محض سیاسی مزاحمت یا احتجاجی سیاست کو اپنی کارکردگی کا متبادل بنانا کافی نہیں ہو سکتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں طویل سیاسی اقتدار کے باوجود حکومت کی کارکردگی پر سنجیدہ اور مسلسل عوامی احتساب کی بحث کم دکھائی دیتی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی خامیاں گنواتی رہتی ہیں، مگر اقتدار میں رہنے والی جماعت سے یہ بنیادی سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ اسے ملنے والے وسائل کہاں خرچ ہوئے، منصوبوں کے نتائج کیا نکلے، کتنے اسکول فعال ہوئے، کتنے اسپتال بہتر ہوئے، کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا اور عام شہری کی زندگی میں کیا تبدیلی آئی۔
تیرہ سال کسی بھی حکومت کی کارکردگی جانچنے کے لیے معمولی مدت نہیں۔ اس عرصے میں کیے گئے وعدوں، خرچ کیے گئے وسائل اور حاصل ہونے والے نتائج کا باقاعدہ حساب عوام کے سامنے آنا چاہیے۔ تحریک انصاف ہو یا کوئی دوسری جماعت، جمہوری سیاست میں مقبولیت اور سیاسی بیانیے کے ساتھ حکمرانی کی کارکردگی اور مالی شفافیت کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کا اصل حق یہی ہے کہ سیاسی نعروں سے ہٹ کر انہیں اعداد و شمار، منصوبوں کے نتائج اور اپنے صوبے کے مستقبل کے بارے میں واضح جواب دیا جائے۔
