لانگ مارچ میں کون لوگ مر جاتے ہیں؟

تحریر: عمار مسعود
بشکریہ: وی نیوز

یہ کہانی نہ اس مشتعل نوجوان کی ہے جو پولیس پر پتھراؤ کر کے ’شعور‘ کا مظاہرہ کرتا ہے، نہ ہی یہ قصہ اس پولیس والے کا ہے جو مظاہرین کے کیلوں والے ڈنڈوں سے شدید زخمی ہو کر اسپتال پہنچتا ہے، نہ ہی یہ داستان اس مسافر کی ہے جو لانگ مارچ کے خطرے کے باعث رکی ٹریفک میں گھنٹوں پھنسا رہتا ہے، نہ یہ ماجرا ایمبولینس میں زندگی اور موت کی کشمکش سے گزرتے اس مریض کا ہے جو جان سے اس وجہ سے گیا کہ چند منچلوں کے جی میں لانگ مارچ کا جنون اٹھا۔ لانگ مارچ والوں میں سے تو کسی شخص کا تذکرہ مقصود نہیں، کسی فرد کی آپ بیتی بیان کرنے کی خواہش نہیں، کسی مظلوم کی روداد لکھنے کا ارادہ نہیں۔

سب جانتے ہیں لانگ مارچ والوں نے ہمیشہ ٹائر جلانے، راستے بند کرنے، پتھراؤ کرنے اور جلاؤ گھیراؤ ہی کو انقلاب سمجھا۔ اسی تخریب کو ’شعور‘ جانا لیکن یہ ذکر ان کا نہیں۔

یہ سرگزشت تو اس شخص کی ہے جو روز گھر سے رزق کی تلاش میں نکلتا، دیہاڑی لگاتا، شام کو تھکا ہارا دن بھر کی کمائی سے بچوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتا، ماں کی دوائی لاتا، بجلی کا بڑھتا بل ادا کرتا، بچت کی خاطر موٹر سائیکل میں ایک لیٹر پیٹرول ڈلواتا اور مہینے بھر کی بچت سے دو مرلے کے مکان کا کرایہ ادا کرتا ہے۔

اس فہرست میں دیہاڑی دار مزدور بھی ہیں، بائیک چلانے والے جوان بھی، ہوٹلوں کے نوجوان ویٹر بھی، چھابڑی لگانے والے بزرگ بھی، ہاتھوں میں برش اور ریگ مال سنبھالے رنگ روغن کرنے والے بھی، بسوں کے نوجوان کنڈکٹر بھی، سبزی منڈی میں مال اتارنے چڑھانے والے مزدور بھی، ٹریفک کے اشاروں پر تازہ ناریل کے ٹکڑے بیچنے والے بھی، فٹ پاتھوں پر بیٹھے دیہاڑی کے منتظر بیلچہ بردار مزدور بھی، فیکٹریوں میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والے سفید پوش ورکرز بھی۔

یہ فہرست بہت طویل ہے۔ اپنے اردگرد نظر دوڑائیے تو ایسے بہت سے کردار ہیں جن کی زندگی کی کل آمدن اسی دن کمائی جاتی ہے اور اسی دن خرچ ہوتی ہے۔ ان لوگوں کے پاس نہ بینک بیلنس ہوتا ہے، نہ کوئی سیونگ سے خریدا پلاٹ ، جو مشکل وقت میں کام آئے، نہ عزیز رشتہ دار اتنے متمول ہوتے ہیں کہ بھوک کو مٹانے میں کوئی مدد کرے۔ ان سب کا رزق ہر روز کے روزگار سے بندھا ہوتا ہے۔ ہر روز ان کی معاش، غربت، خوراک، صحت اور قسمت کا فیصلہ ہوتا ہے۔ صبح کا سورج ان کو مشقت پر ابھارتا ہے اور شام کا دھندلا پن ان کی تقدیر کا فیصلہ سناتا ہے۔

یہ محنتی لوگ ہوتے ہیں۔ جاں توڑ محنت کے عادی ہوتے ہیں۔ بس قسمت کے پھیر میں آ گئے ہوتے ہیں۔ کام سے انکار نہیں کرتے۔ ہر وقت کام کی تلاش میں رہتے ہیں۔ مشقت سے منکر نہیں ہوتے۔ کام ملے تو جان لڑا دیتے ہیں لیکن ان کے رزق کا فیصلہ یومیہ ہوتا ہے۔ ایک ناغہ بھی سب کچھ الٹ دیتا ہے۔ کمائی میں ایک دن کا وقفہ بھی بھوک میں بدل جاتا ہے۔ یہ جفاکش غریب لوگ دیہاڑی دار مزدور کہلاتے ہیں۔ ہر لمحہ رزق کی جدوجہد میں رہتے ہیں۔ ہر روز کاتبِ تقدیر سے جنگ لڑتے ہیں۔

لانگ مارچ، دھرنے، جلاؤ گھیراؤ کی سیاست ہمارے ہاں نئی نہیں۔ ہر زمانے میں اس کا چلن رہا۔ مگر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ پی ٹی آئی نے اس طرزِ سیاست کو ’جِلا‘ بخش دی۔ ان کی سیاست کا واحد وتیرہ احتجاج اور مسلسل احتجاج رہا ہے۔ دو ہزار گیارہ سے لے کر آج تک تحریک انصاف کی تاریخ دیکھ لیں۔ تاریخ کے ہر موڑ پر ایک لانگ مارچ، ایک دھرنے کی کال، ایک جلاؤ گھیراؤ کی دھمکی نظر آتی ہے۔ ہر اختلاف کی تان لانگ مارچ پر ٹوٹتی ہے۔ ہر اجلاس کا مدعا یہی ہوتا ہے۔ ہر کارنر میٹنگ کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ ہر پریس کانفرنس کا پیغام یہی ہوتا ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت اور کارکن اس درجہ ’شعور زدہ‘ ہو چکے ہیں کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تب بھی اسی رستے پر چلتے ہیں۔ تب بھی ان کے پاس نعرہ لانگ مارچ ہی کا ہوتا ہے۔ تب بھی ان کی ہر بحث کا نتیجہ احتجاج ہی ہوتا ہے۔ یہ ان کی کل سیاست، یہی ان کا کل شعور، یہی ان کا وتیرہ اور یہی ان کا طرزِ سیاست ہے۔

تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے کارکن کی تربیت ایسے کی ہے کہ اب اگر وہ چاہیں بھی تو امن کی بات نہیں کر سکتے، مکالمے کا ذکر نہیں کر سکتے، ڈائیلاگ کا ڈول نہیں ڈال سکتے، افہام و تفہیم کا نعرہ نہیں لگا سکتے، لڑائی جھگڑے سے اجتناب کا درس نہیں دے سکتے، جلاؤ گھیراؤ روکنے کا سبق نہیں پڑھا سکتے، اختلافات مٹانے کا عَلم نہیں اٹھا سکتے، گالم گلوچ سے بیزاری کا اعلان نہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ یہی ان کی سوچ ہے، یہی ان کا مدعا اور مقصد ہے۔

دیہاڑی دار مزدور کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ عمران خان رہا ہوتے ہیں یا نہیں، سہیل آفریدی کو اس کے اپنے ساتھی دغا دیتے ہیں یا نہیں، خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگتا ہے یا نہیں۔ سیاسی جماعتیں چھوٹے صوبوں پر متفق ہوتی ہیں یا نہیں۔ شہباز حکومت اپنی مدت پوری کرتی ہے یا نہیں۔ جماعت اسلامی کے مقاصد پورے ہوتے ہیں یا نہیں۔ بلوچستان کے دَلدَر دور ہوتے ہیں یا نہیں۔ کراچی والوں کو پینے کا پانی ملتا ہے یا نہیں۔ مریم نواز کا پنجاب سجتا سنورتا ہے یا نہیں۔ ٹرمپ پاکستان کے حق میں بیان دیتا ہے یا نہیں۔ اس کی زندگی تو ہر روز کے رزق حاصل کرنے کی کشمکش میں ہی گزرتی رہتی ہے۔

اب تک ہم درجنوں بار دیکھ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا اعلان ہوتا ہے، سارے ملک کی سڑکوں پر کنٹینر لگ جاتے ہیں۔ ٹریفک رک جاتی ہے۔ دفاتر، ہوٹل، دکانیں سب بند ہو جاتی ہیں۔ گھروں سے نکلنا دشوار ہو جاتا ہے۔ شہروں پر ہو کا عالم چھا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے۔ اس سے جانے سیاسی مقاصد پورے ہوتے ہیں یا نہیں، مگر دیہاڑی نہ ملنے پر دیہاڑی دار مزدور ہی کی نہیں، اس کے بچوں کی، اس کی بوڑھی بیمار ماں کی، اس کے سارے گھر والوں کی بھوکے پیٹ موت واقع ہو جاتی ہے۔

سچ پوچھیں تو یہ مزدور ایک دن کے لیے مر جاتے ہیں۔ اور ان کی موت کا سبب ایک سیاسی جماعت کا اعلان کردہ لانگ مارچ ہوتا ہے۔

 

Back to top button